مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں: شہباز شریف

27 اکتوبر 1947 کو انڈین فوج سری نگر میں اتری، جسے پاکستان اور کشمیری قیادت کے مؤقف کے مطابق جموں و کشمیر پر ’انڈین قبضے‘ کے آغاز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ فائل فوٹو 7 مئی 2025 کو قومی اسمبلی سے خطاب کی ہے (اے ایف پی)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پُرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لیں اور تنازعے کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

27 اکتوبر 1947 کو انڈین فوج سری نگر میں اتری، جسے پاکستان اور کشمیری قیادت کے مؤقف کے مطابق جموں و کشمیر پر ’انڈین قبضے‘ کے آغاز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اسی واقعے کی یاد میں ہر سال 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ جموں و کشمیر منایا جاتا ہے۔

پاکستان کے نزدیک یہ دن کشمیری عوام کی سیاسی امنگوں، حقِ خودارادیت اور تنازعے کے حل سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی یاد دہانی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو انڈین افواج کی سری نگر آمد جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک المناک باب کا آغاز تھا، جس کے اثرات آج بھی خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام نے دہائیوں سے جبر، مشکلات اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے، تاہم آزادی، وقار اور انصاف کے حصول کے لیے ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی طویل قید پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا نے 5 اگست 2019 سے کشمیر میں یک طرفہ اقدامات کے ذریعے علاقے کی سیاسی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو متاثر کیا ہے، جبکہ بنیادی آزادیوں پر پابندیاں بھی تشویش کا باعث ہیں۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ ان اقدامات کا جائزہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران کشمیری عوام نے تشدد، جبر اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث شدید مصائب برداشت کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد انڈیا کے یک طرفہ اقدامات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔

صدر مملکت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی حمایت کرے اور تنازعے کے منصفانہ، پُرامن اور پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر پر متعدد قراردادیں منظور کی ہیں، جن میں خطے کے مستقبل کے تعین کے لیے عوام کی رائے سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں۔ تاہم، تنازعے کا کوئی متفقہ اور حتمی حل تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان