ایران اور مکہ معاہدے میں شامل ملکوں کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق فریقین نے ’علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے‘ پر اتفاق کیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان 26 اکتوبر، 2026 کو تہران میں پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے پیر کو بتایا کہ ایران اور مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک نے تہران میں ہونے والی اپنی ’پہلی‘ ملاقات کے بعد مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

نشریاتی ادارے کے مطابق اس ملاقات میں ایران کے ساتھ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے نمائندے شریک ہوئے۔

فریقین نے ’علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے‘ پر اتفاق کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تینوں ملکوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چاروں ممالک مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازعے کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ملاقات مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے وفود اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے درمیان مذاکرات کے بعد ہوئی۔

پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے کی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی عاصم منیر کے ہمراہ تھے۔

یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا اور اس کے بعد یہ خطے کے دیگر حصوں تک پھیل گئی۔

ایران کے حملوں میں خلیجی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے جبکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

بحری جہازوں پر حملوں اور ان کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت متاثر ہوئی ہے اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے ملاقات کے دوران کہا ’اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ہونے والی ہر مفاہمت کی حمایت کرتا ہے۔‘

ارنا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی اور محسن رضائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران علاقائی تعاون کو مزید گہرا کرنے، اختلافات دور کرنے اور سلامتی و ترقی کو مضبوط بنانے والی مفاہمتوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

تاہم خبر رساں ایجنسی نے کسی معاہدے کی اطلاع نہیں دی اور نہ ہی بتایا کہ وفود تنازعے کو ہوا دینے والے اختلافات کے حل میں کوئی پیش رفت کر سکے یا نہیں۔

اس سے قبل ارنا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وفود کے سربراہوں نے محسن رضائی کے ساتھ ’جامع اور تفصیلی مذاکرات‘ کیے۔

پاکستان کی فوج نے عاصم منیر کے دورے کی تصدیق کی، تاہم مذاکرات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

اس ملاقات میں ایران اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے تین ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایک ہی سفارتی فورم پر اکٹھے ہوئے ہیں۔

اگست میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد ایران اور ان تینوں ممالک کے درمیان اس چار ملکی فارمیٹ میں یہ پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے دعویٰ کردہ حملے میں 13 افراد جان سے گئے اور ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن معطل ہو گیا۔

سعودی عرب نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے نئے حملوں کی دھمکیوں کے باوجود اتوار کو دو ٹرمینلز پر آپریشن بحال کر دیا گیا۔

ان حملوں نے ایران کے ساتھ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں تیزی لانے کی ضرورت بڑھا دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ یہ ملاقات علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’تہران میں چار ممالک کی یہ ملاقات یقینی طور پر مقامی سطح پر علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینے میں ایک مؤثر اور اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔‘

پاکستان اس سے قبل بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کے لیے قطر کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا ہے۔

جون میں قطر کی ثالثی سے طے پانے والے ایک عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنا اور وسیع تر تصفیے کے لیے مذاکرات شروع کرنا تھا، تاہم بعد میں یہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔

پاکستان میں ایران کے سفیر نے اتوار کو کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا