سعودی عرب نے اتوار کو یمنی حوثیوں کی طرف سے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب آنے والے ڈرونز اور 10 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ یہ بات یمن میں سرگرم سعودی قیادت کے اتحاد نے بتائی۔
یہ تنازع امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک ایسے محاذ کی صورت اختیار کر گیا ہے جو خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ کر رہا ہے جبکہ اس وسیع تر جنگ میں امریکہ کا اتحادی سعودی عرب بھی دباؤ کی زد میں آ گیا ہے۔
اتوار کو سعودی عرب کے شہری دفاع کے حکام نے ریاض، ابہا اور خمیس مشیط کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے، تاہم چند منٹ بعد ہی اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
اتحاد نے بتایا کہ ریاض کی جانب دو ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل، جبکہ جنوبی شہر خمیس مشیط کی جانب ایک کروز میزائل داغا گیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
بعد ازاں اتحاد نے کہا کہ جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل بھی فضا میں تباہ کر دیے گئے۔
حوثیوں نے خبردار کیا کہ وہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس ہوائی اڈے پر رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے ایک مہلک حملے کے بعد اتوار کو دو ٹرمینلز پر پروازوں کی سرگرمیاں بحال کر دی گئی تھیں۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہفتے کو ہوائی اڈے اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کیے۔
سعودی حکام نے حوثیوں کے ان بیانات پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ہوائی اڈہ بدستور ’فوجی ہدف‘ ہے اور تمام فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈے کے عملے اور مسافروں کو خبردار کیا کہ وہ اسے استعمال نہ کریں۔
ہفتے کی رات ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اتوار سے ٹرمینل ون کو اندرون ملک پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو کو قومی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔
حوثیوں کے دعوے کے مطابق، 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔
اس حملے میں 13 افراد جان سے گئے اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے میں یہ مملکت پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم تزویراتی علاقے پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے ان کے خلاف فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حوثی آبنائے باب المندب کے قریب پہنچ گئے ہیں، جو عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
یہ آبنائے جزیرہ نمائے عرب کے دوسری جانب واقع آبنائے ہرمز سے مختلف ہے۔
یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے جو 2022 سے بڑی حد تک برقرار تھی۔
سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے ایک اتحادی فوجی اتحاد کی قیادت کی تھی، جس کا مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنا تھا۔
اس سے ایک سال قبل حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔