مکہ، مدینہ کے بعد ریاض کی طرف داغے گئے میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے: اتحادی افواج

اسلام کے مقدس ترین مقامات کے نگران اعلیٰ نے اتوار کو کہا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ایک ایسی ’ریڈ لائن‘ ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی اہلکار 24 اکتوبر، 2026 کو حوثیوں کے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں(سعودی پریس ایجنسی)

اتحادی افواج کے ترجمان برگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو بتایا کہ ریاض کی جانب حوثیوں کی طرف سے داغہ گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔

برگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر اپنے ایک تازہ بیان میں بتایا کہ بیلسٹک میزائل کے علاوہ ریاض کی جانب آنے والا ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کی رات بتایا تھا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے علاقوں کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

محکمہ شہری دفاع کے مطابق دونوں میزائل فضا میں تباہ ہونے کے بعد ان کا ملبہ جدہ، طائف اور رابغ سمیت کئی مقامات پر گرا۔

ستمبر 2026 سے یمن کے ایران نواز حوثی سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک/کروز میزائل حملے کر رہے ہیں جن کا بنیادی ہدف جنوبی اور مغربی شہروں کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اسلام کے مقدس ترین مقامات کے نگران اعلیٰ نے اتوار کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف بار بار بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ایک ایسی ’ریڈ لائن‘ ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے شرعی امور کے سربراہ شیخ عبدالرحمٰن السدیس نے کہا کہ مسلسل حملے ملیشیا کی ’مجرمانہ روش‘ اور مسلمانوں اور ان کے مقدس مقامات کے خلاف اس کے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اپنے بیان میں السدیس نے ان حملوں کو شریعتِ اسلامی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جو مقدس مقامات کے تحفظ کا حکم دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی انسانی اصولوں کی بھی توہین ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا