ایک صدی سے زیادہ عرصے سے مسلمانوں کی کئی نسلیں انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے قلب میں واقع اس مسجد میں عبادت کرتی آئی ہیں، جو وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے عین سامنے سڑک پار واقع ہے۔ اب خود انڈین جمہوریہ سے بھی زیادہ قدیم اس تاریخی مسجد کو منہدم کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔
قریب ہی بلڈوزر کام کر رہے ہیں اور خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے اطراف جاری انہدام کی کارروائی کے تحت ریس کورس مسجد بھی جلد منہدم کر دی جائے گی۔
قریب واقع دہلی ریس کلب، جو برطانوی نوآبادیاتی دور سے شہر کی ایک نمایاں پہچان تھا، پہلے ہی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے جبکہ ایک قدیم ہندو مندر کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ دارالحکومت کے قلب میں مذہبی اور ثقافتی ورثے کی اندھا دھند تباہی کے خلاف احتجاج بھی شروع ہوگیا ہے۔
قبل ازیں اس ماہ ہونے والے احتجاج کے باوجود تقریباً 700 مکانات بلڈوزروں سے مسمار کر دیے گئے۔ مسجد اور مندر اب ان کے ملبے کے درمیان ویران کھڑے ہیں۔
16 اکتوبر سے مسلمان نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انڈین حکومت ایسے وقت میں مسجد گرانے کی تیاری کر رہی ہے جب اس پر کمزور قانونی جواز کی بنیاد پر مسلمانوں کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کو بلڈوزروں سے مسمار کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
یہ کارروائیاں خاص طور پر ان ریاستوں میں کی گئی ہیں، جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے اس طرز عمل کو ’بلڈوزر انصاف‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد اقلیتی برادریوں کے کارکنوں، بالخصوص ملک کی 20 کروڑ مسلم آبادی کو سزا دینا ہے۔
دی انڈپینڈنٹ نے بدھ کو علاقے کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ مسجد، مندر اور اس بستی کی طرف جانے والی گلی میں حال ہی میں ایک دروازہ نصب کیا گیا ہے، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک سینکڑوں افراد آباد تھے۔ نئے دروازے سے پودوں کی نرسری کا پرانا راستہ بند ہونے کے بعد ایک بلڈوزر وہاں جانے کے لیے نیا راستہ بنانے کی غرض سے دیوار گرا رہا تھا۔
’بھائی صاحب، براہ کرم دروازہ کھول دیں۔‘ سیلون میں کام کرنے والے 25 سالہ محمد اعجاز نے دروازے پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو بلند آواز میں پکارا۔
محمد اعجاز بھی ان بہت سے نمازیوں میں شامل تھے جنہیں بدھ کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے دی انڈپینڈنٹ سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیے، انہوں نے سب کچھ بند کر دیا ہے۔ کسی کو مسجد میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ یہ تمام رکاوٹیں دیکھیے، وہاں بیٹھے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد دیکھیے۔
’ہم یہاں باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں، جمعے کی نماز بھی یہیں پڑھتے ہیں۔ آخر نماز ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ وہ ہمیں مسجد میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔ وہ کچھ کہتے بھی نہیں، بس خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ کئی روز سے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘
ریس کورس مسجد ان 141 عمارتوں میں شامل ہے جنہیں نئی دہلی میونسپل کونسل نے تاریخی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ اس حیثیت کے باعث مسجد کو مسمار کرنے یا اس میں بڑی تبدیلیاں کرنے سے قانونی تحفظ حاصل ہے۔
دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے دیکھے گئے ریکارڈ کے مطابق یہ مسجد 1977 سے وقف جائیداد کے طور پر بھی درج ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے باضابطہ طور پر ایسی وقف املاک تسلیم کیا گیا ہے جو مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے مستقل طور پر مختص ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود وفاقی وزارت ہاؤسنگ و شہری امور کے لینڈ اینڈ ڈولپمنٹ آفس نے رکاوٹوں کے باہر ایک نوٹس آویزاں کر رکھا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اس زمین پر کسی بھی قسم کا غیر مجاز قبضہ، تجاوز، تعمیر یا دوسری غیر قانونی سرگرمی فوجداری جرم ہے‘ اور ایسا کرنے والوں کے خلاف تعزیری اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دی انڈپینڈنٹ نے نئی تبدیلیوں کے ذمہ دار لینڈ اینڈ ڈولپمنٹ آفس سے حال ہی میں آویزاں کیے گئے نوٹس اور مجموعی طور پر مسماری کی اس مہم کی وجوہ جاننے کے لیے رابطہ کیا، لیکن خبر شائع ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تقریباً 36 سال سے مسجد کے امام محمد ہارون نے حکام کی جانب سے بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کیے جانے اور عبادت گاہ تک رسائی محدود کرنے کے بعد منگل کو ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے فوری مدد کی اپیل کی۔
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ مسجد کی زمین وقف بورڈ کے گزٹ میں درج ہے۔ مسجد تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور یہ بہت قدیم عمارت ہے۔‘
امام مسجد کے مطابق ریس کورس مسجد 1.24 ایکڑ رقبے پر قائم ہے اور اس میں 800 افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد میں 50 سال سے زیادہ عرصے سے بجلی کا رجسٹرڈ میٹر نصب ہے، 2008 سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور سیوریج کا کنکشن بھی باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے۔
مسجد کی انتظامیہ تمام بل بھی باقاعدگی سے ادا کرتی رہی ہے۔ اس کے باوجود امام کو محض زبانی طور پر خبردار کیا گیا کہ وہ چند روز میں مسجد خالی کر دیں۔
جمعرات کو بھی بجلی اور پانی کی فراہمی بحال نہیں ہوئی تھی، تاہم امام پُرامید تھے۔ محمد ہارون نے دی انڈپینڈنٹ سے گفتگو میں کہا: ’امید ہے کہ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور حکومت ہمدردی کا مظاہرہ کرے گی۔
’یہ مسجد محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ اس ملک کا ورثہ اور سیکولرازم کی علامت بھی ہے۔ یہ عقیدے کی علامت ہے اور حکومت اس بات کو سمجھتی ہے۔ ہماری بجلی اور پانی کی فراہمی ابھی تک بحال نہیں کی گئی۔‘
قریب واقع ہندو مندر کے پجاری کیشو راج شاستری نے بتایا کہ عقیدت مندوں کو مندر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، حالاں کہ مندر خالی کرنے کا کوئی تحریری یا زبانی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے دروازے کھولے جانے سے پہلے مختصر گفتگو میں کہا: ’اس وقت ہمارے پاس نہ بجلی ہے اور نہ پانی۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ یہیں رہتا ہوں۔‘
مذہبی مقامات کی مسماری کے خلاف مہم چلانے والی سیاسی کارکن ہدیٰ زری والا ان چند نمازیوں میں شامل تھیں، جو بدھ کو سکیورٹی رکاوٹوں سے بچ کر مسجد میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم نے بہت سی عمارتوں کو مسمار ہوتے دیکھا۔ ہم نے تقریباً 700 گھروں کا ملبہ اور بے گھر ہونے والے خاندان دیکھے۔ ان کے گھر مکمل طور پر زمین بوس کر دیے گئے۔ مسجد اسی ملبے کے ساتھ واقع ہے۔‘
انہیں خدشہ تھا کہ مسجد اور مندر دونوں کو مسمار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
مسجد کو گرانے کی مجوزہ کارروائی علاقے کو خالی کروانے کی ایک وسیع مہم کا حصہ ہے۔ اس مہم کے تحت وزیراعظم کی رہائش گاہ سے محض 500 میٹر دور واقع ایک کچی بستی کو مرحلہ وار خالی کروایا جا رہا ہے۔
اس مہم کا آغاز اگست میں دہلی ریس کلب کی مسماری سے ہوا تھا۔ 1926 میں تعمیر ہونے والے اس کلب میں شمالی انڈیا کا واحد بڑا ریس کورس قائم تھا، جو گھوڑے کی نعل جیسی شکل کے ٹریک کے باعث منفرد حیثیت رکھتا تھا۔ کلب کے اصطبل، فنشنگ لائن، فوٹو فنش کیمرا، گھوڑوں پر زین کسنے کی جگہ اور دیگر سہولتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دی گئیں۔
کلب نے بے دخلی کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن مقدمہ ہار گیا۔ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے زمین اپنے قبضے میں لینے اور کلب مسمار کرنے کے لیے ’اہم عوامی مقصد‘ اور ’منصوبہ بندی و ترقی‘ کو وجہ قرار دیا تھا۔
اس کے بعد کچی بستی کے تقریباً 700 مکانات اور جھگیاں زمین بوس کر دی گئیں۔ حکومتی نمائندوں نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حساس تنصیبات کے قریب قائم غیر مجاز تعمیرات کا خاتمہ ضروری تھا۔
ہدیٰ زری والا نے یہ دلائل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب بے گھر ہو جانے والے خاندان نسلوں سے وہاں آباد تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے سوال کیا: ’وہ اس زمین پر آخر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ خدا نہ کرے، لیکن مندر اور مسجد کو نشانہ بنانے اور مسمار کرنے کے بعد وہ یہاں کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘
رکن پارلیمان اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ مسجد کے وقف املاک ہونے کا اندراج 1977 کے گزٹ میں موجود ہے جبکہ مسجد کی تاریخ اس اندراج سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
وقف ترمیمی قانون کے ذریعے مسلمانوں کے فلاحی اثاثوں سے متعلق قوانین میں مودی حکومت کی وسیع تبدیلیوں کے ناقد اسدالدین اویسی نے ریس کورس مسجد کی صورت حال کو اس کی ’واضح مثال‘ قرار دیا کہ اس قانون کو وقف املاک پر قبضے یا انہیں تباہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ ترمیم وقف املاک کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے کہ مساجد اور دیگر تمام وقف املاک مسلمانوں سے چھین لی جائیں۔‘
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ علاقے کی مجوزہ ازسرنو تعمیر سے فائدہ کس کو پہنچے گا۔ ’کیا اس سے نجی ادارے یا نجی صنعت کار فائدہ اٹھائیں گے؟‘
علاقے سے بے دخل کیے گئے مکین اپنے گھروں کی تباہی کا براہ راست ذمہ دار اپنے بااثر ہمسائے وزیراعظم مودی کو قرار دیتے ہیں۔
صرف وِپن کے نام سے شناخت رکھنے والے ایک شخص نے اس جگہ کے سامنے لگی رکاوٹ کے باہر زاروقطار روتے ہوئے اپنا سرکاری شناختی کارڈ دکھایا، جس پر ان کے مسمار کیے گئے گھر کا پتہ درج تھا۔
انہوں نے بتایا: ’انہوں نے ہمارا سامان نکالنے سے پہلے ہی گھر مسمار کر دیا۔ ہمارے کمبل ملبے تلے دب گئے۔
’مودی اس پورے علاقے کو ویران کر دیں گے۔ آپ ہی بتائیں، ہم سردی میں کیسے زندہ رہیں گے؟ وہ غریب لوگوں کو یہاں رہنے نہیں دے رہے۔ یہ ایک اچھی جگہ تھی اور ہمارا خاندان یہیں رہتا تھا۔‘
بے دخل کیے گئے خاندانوں کو شمال مغربی دہلی میں ہریانہ کی سرحد کے قریب 45 کلومیٹر دور واقع ایک نوآبادکاری کالونی میں فلیٹ دیے گئے ہیں۔ اس منتقلی کے باعث بہت سے خاندان اپنی ملازمتوں اور برسوں سے قائم روزگار کے ذرائع سے دور ہو گئے ہیں۔
راجندر کمار، جن کا خاندان کئی نسلوں سے ریس کورس کے علاقے میں آباد تھا، نے کہا کہ مسماری کی کارروائی نے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی پر ان کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔
ان کے بقول: ’ان جھگیوں میں غریب لوگ رہتے تھے۔ ہم زندگی بھر دوبارہ کبھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ ہمیں ایک فلیٹ تو دے دیا گیا ہے، لیکن ہم وہاں کیا کریں گے؟ آپ ہی بتائیں۔ پورا علاقہ جنگل جیسا ہے، جبکہ ہمارا روزگار یہاں ہے۔‘
26 سالہ محمد انس کے لیے جبری منتقلی نے کام کا ہر دن تھکا دینے والی مشقت میں بدل دیا ہے۔ انہیں روزانہ ملازمت پر آنے جانے میں چار گھنٹے صرف کرنا پڑتے ہیں۔
انہوں نے اپنے گھر کی مسماری کی ویڈیو دکھائی تو اس روز کی یادیں تازہ ہونے پر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’بلڈوزر سے دیواریں توڑے جانے کی یہ آواز بھی مجھے بے چین کر رہی ہے۔‘
© The Independent