پاکستان کی مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 میں الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں کمی اور ان کی خریداری کے لیے بینک فنانسنگ کی حد بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں، تاہم آٹو ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ساتھ چارجنگ سٹیشنز کے نیٹ ورک، مقامی پرزہ ساز صنعت اور روایتی گاڑیوں کی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
تجزیہ نگار عمران احمد کے مطابق اب ایک نیا ڈرافٹ سامنے آیا ہے جو پچھلے تین ماہ میں شاید تیسرا یا چوتھا ڈرافٹ ہے۔ اس ڈرافٹ کے مطابق آٹو پالیسی 2026–31 کے تحت پیٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں 8 سے 10 فیصد، ہائبرڈ گاڑیوں میں تقریباً 9 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں میں 20 فیصد سے زائد کمی کا امکان ہے جبکہ بعض الیکٹرک گاڑیاں بھی 22 فیصد تک سستی ہو سکتی ہیں۔
آٹو پالیسی سے متعلق پریزنٹیشن کے مطابق بیٹری الیکٹرک گاڑیوں (بی ای وی) پر سیلز ٹیکس ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈر الیکٹرک گاڑیوں (آر ای ای وی) پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (پی ایچ ای وی) پر نو فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت تین سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں، ان کے وینڈرز اور درآمد ہونے والی گاڑیوں سمیت آٹو سیکٹر کے مختلف پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔
ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ ’الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں رعایت ایک مثبت اقدام ہے، تاہم روایتی گاڑیوں پر عائد ہونے والی نئی لیوی اور دیگر ٹیکسوں کو بھی دیکھنا ہو گا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ صارفین کو مجموعی طور پر کتنا ریلیف ملے گا۔‘
بقول ایچ ایم شہزاد: ’کراچی سے لاہور یا اسلام آباد سفر کرنے والے صارفین کے لیے راستے میں چارجنگ کی زیادہ سہولت ہونی چاہیے۔ اگر حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ چاہتی ہے تو ان کے لیے درکار بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھی توجہ دینا ہو گی۔‘
مقامی صنعت اور برآمدات کا ہدف
ایچ ایم شہزاد کے مطابق پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری اور گاڑیوں میں مقامی اجزا کا تناسب بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر کمپنیاں درآمد شدہ پرزوں اور سی کے ڈی (CKD) کٹس کی اسمبلی پر انحصار کرتی رہیں تو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے اور برآمدات بڑھانے کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گا۔‘
مجوزہ پالیسی میں 2030-31 تک آٹو سیکٹر کی برآمدات چھ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو مراعات دینے اور اہداف پورے نہ کرنے پر جرمانے عائد کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
فنانسنگ میں اضافہ، خریداری بڑھنے کی امید
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر عمران چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی اور بینک فنانسنگ کی حد بڑھانے سے ان گاڑیوں کی خریداری میں تیزی آ سکتی ہے۔
عمران چیمہ نے کہا کہ ’فنانسنگ کی حد میں اضافے سے ان صارفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو الیکٹرک گاڑی خریدنا چاہتے ہیں، لیکن موجودہ مالی سہولت ان کی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ: ’الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں سے وابستہ کاروبار اور صارفین کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔‘
بقول عمران چیمہ: ’پالیسی میں ایسی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ آٹو موبائل مارکیٹ میں کام کرنے والے مختلف شعبوں کے لیے مناسب گنجائش برقرار رہے۔‘
حتمی قیمتوں میں کمی کا انحصار عمل درآمد پر
مجوزہ پالیسی میں ٹیکسوں اور درآمدی ڈیوٹی میں تبدیلیوں کے ذریعے آٹو سیکٹر میں مقابلہ بڑھانے اور گاڑیوں کو نسبتاً سستا بنانے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم پریزنٹیشن میں دیے گئے قیمتوں کے تخمینوں کو حتمی قیمتیں نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر عمل درآمد، گاڑیوں کی تیاری کی لاگت، مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور نئی ٹیکس شرحوں کے اطلاق سے یہ طے ہو گا کہ صارفین کو کتنا ریلیف ملتا ہے۔
لیکن یہ سوال ابھی تک باقی ہے کہ گاڑیوں کے سستے ہونے کا کیا مطلب ہے۔ کیا پرانی آٹو پالیسی جو کہ 30 جون 2025 تک لاگو تھی، کے مقابلے میں گاڑیوں کی قیمت کم ہو گی یا 30 جون کے بعد جو نئے ٹیکسز لگے ان کے مقابلے میں گاڑیاں سستی ہوں گی۔
عمران احمد کا کہنا تھا کہ پلگ ان ہائبرڈ یا اوپر ہائبرڈ گاڑیوں پر 30 جون تک 8.5 فیصد ٹیکس تھا۔ جو 30 جون کے بعد 25 فیصد ہو گیا۔ پھر اگلے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 19 فیصد ہو گیا اور اب نئے ڈرافٹ میں یہ تقریباً 9 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ اگر یہ لوگو ہو جائے تب بھی پی ایچ ای وزیز کی قیمت 30 جون کے مقابلے میں زیادہ ہی رہے گی کم نہیں ہو گی۔
تاہم، آٹو پارٹس پر درآمدی ٹیرف میں کمی اور مکمل تیار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات سے پاکستان کے تقریباً 1,200 مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے کاروبار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
عمران احمد نے بتایا کہ غیر یقینی کی کیفیت میں مافیاز گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے غلط پوسٹر شائع کر کے سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں، جس سے گاڑیوں کی فروخت رک گئی ہے اور گاڑیوں کے برانڈز کی مارکیٹ ویلیو خراب ہو رہی ہے۔
آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد بھی کئی حکومتی مراحل سے گزرنا باقی ہے۔