پاکستان کے نیوز روم کیا نہیں کر رہے ہیں؟

اقتدار میں موجود لوگ شاید ایک فرمانبردار میڈیا کو اپنی کامیابی سمجھتے ہوں، لیکن کنٹرول کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب مرکزی دھارے کا میڈیا عوامی اعتماد کھو دیتا ہے تو بحران کے وقت حقائق کے تعین کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

کراچی میں 28 اکتوبر 2017 کو پاکستانی صحافی آزادی اظہار رائے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں (رضوان تبسم/ اے ایف پی)

مرکزی کھانا تیار ہو چکا تھا۔ میرے پاس بالکل تین منٹ تھے، اس سے پہلے کہ بھنے ہوئے انگور ٹھنڈے ہو جائیں، لیمن کریم چیز کی نرمی ختم ہو جائے اور ساورڈو روٹی کی خستگی جاتی رہے۔

گھڑی تیزی سے چل رہی تھی اور ایڈرینالین کی کیفیت عجیب حد تک جانی پہچانی محسوس ہو رہی تھی۔ یہ وہی جوش تھا جو کبھی مجھے ہر صبح نیوز روم کی طرف کھینچ لاتا تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اب میں بریکنگ نیوز کے تعاقب کی بجائے ایک باورچی خانے میں میٹھا پیش کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔

یہ ’ناٹ سو پرفیکٹ سپر کلب‘ کا دن تھا، جب میں خاندان، دوستوں اور کبھی کبھار دوستوں کے دوستوں کے لیے ایک مخصوص تھیم پر مبنی عشائیے کا اہتمام کرتی ہوں۔ اس نام کی ابتدا میرے کھانا پکانے پر ایک مذاق کے طور پر ہوئی تھی: ایک سچی دیسی کی طرح میں اندازے اور وجدان کے مطابق کھانا پکاتی ہوں۔ یہ بے ترتیب ہوتا ہے، تیز رفتار ہوتا ہے اور میرے اتنے بھی کامل نہ ہونے والے روزگار سے توجہ ہٹانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

میں خوش قسمت ہوں کہ ایک ایسی خبر رساں تنظیم میں کام کرتی ہوں جو اب بھی اپنے اداریاتی مؤقف پر قائم ہے، چاہے اس کی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے، لیکن اس تحفظ کو اس وسیع تر حقیقت سے الگ کرنا مشکل ہے جس میں ایک پوری صنعت کو خاموشی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

یہ خاموشی راتوں رات نہیں آئی۔ یہ آہستہ آہستہ اس وقت آئی جب معمول کی خبریں بھی ایک بارودی میدان میں تبدیل ہو گئیں، جس میں رپورٹرز، ایڈیٹرز اور پروڈیوسرز نے راستہ نکالنا سیکھ لیا۔ سینسرشپ اسی طرح ترقی کرتی ہے: کبھی کبھار مداخلت سے آغاز ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ آزادیِ صحافت کے منظم خاتمے تک جا پہنچتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ قانونی ڈھانچہ ہے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) براڈکاسٹرز کے لائسنسوں اور پروگرامنگ پر سخت اختیارات رکھتی ہے۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)، جو سائبر جرائم سے متعلق قانون ہے، صحافیوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کے خلاف بارہا استعمال کیا جاتا ہے۔ براڈکاسٹرز پر ضابطہ جاتی دباؤ اور رپورٹنگ پر فوجداری شکایات کے خطرے کے درمیان ایک خبر شائع کرنا بھی ایک خطرناک عمل محسوس ہونے لگا ہے۔

2025 میں پیکا میں کی جانے والی ترامیم نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ ان ترامیم کے تحت جان بوجھ کر ایسی معلومات پھیلانے کو ایک نیا جرم قرار دیا گیا جنہیں ’جھوٹی یا جعلی‘ سمجھا جائے اور جن سے خوف، گھبراہٹ یا بدامنی پھیلنے کا امکان ہو۔

اس جرم کی سزا تین سال تک قید، بیس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک ایسا سوشل میڈیا ریگولیٹر بھی قائم کیا گیا جسے آن لائن مواد پر وسیع اختیارات حاصل ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد نقصان دہ جھوٹی معلومات کا پھیلاؤ روکنا ہے، لیکن کام کرنے والے صحافیوں کے لیے سوال زیادہ سادہ ہے: یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون سی خبر جعلی ہے، خاص طور پر جب وہ ایسی خبر ہو جسے ریاست منظر عام پر نہیں آنے دینا چاہتی؟

یہ کوئی فرضی خوف نہیں ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان 67 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف فوجداری مقدمات یا شکایات درج کی گئیں، جن میں سے 34 میں پیکا کا حوالہ دیا گیا تھا۔

قانونی دباؤ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ باقی کام مالی دباؤ کرتا ہے، جو ٹی وی نیٹ ورک سرکاری لائن سے ہٹنے کی کوشش کرے، وہ سرکاری اشتہارات سے محروم ہو سکتا ہے جبکہ نجی اشتہار دہندگان کو خاموشی سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ وہ اپنا کاروبار کہیں اور منتقل کر دیں۔

یہ شکنجہ پیداوار کے پورے سلسلے پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کا نتیجہ تنخواہوں میں تاخیر، ملازمتوں کے خاتمے اور رپورٹنگ کے بجٹ میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیوز رومز کے اندر یہ صورت حال ان خبروں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے جو کبھی تفویض ہی نہیں کی جاتیں، ایسے نام جو سرخیوں سے غائب ہو جاتے ہیں یا ایسے احتجاج جنہیں محض ٹریفک جام قرار دے دیا جاتا ہے۔ فیلڈ رپورٹنگ کی جگہ سٹوڈیو مباحثے لے لیتے ہیں اور تحقیقی صحافت اتنی مہنگی ہو جاتی ہے کہ اس کا جواز پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

صحافیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ بہت سے لوگ اب بھی اہم خبروں کو منظرعام پر لانے کے لیے روزانہ جدوجہد کرتے ہیں، لیکن نیوز رومز کے اندر سوال خاموشی سے بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ ’کیا یہ خبر درست ہے اور عوامی مفاد میں ہے؟‘ بلکہ یہ ہے کہ ’اگر ہم یہ خبر شائع کریں تو کیا ادارہ اس کے نتائج برداشت کر سکے گا؟‘

اور عوام نے بھی یہ تبدیلی محسوس کی ہے۔

لوگ شاید یہ نہ جانتے ہوں کہ کون سی خبر بلیٹن سے نکال دی گئی یا کیوں نکالی گئی، لیکن وہ اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات اور خبروں میں دکھائی جانے والی تصویر کے درمیان فرق دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے فون پر بڑی سیاسی ریلیاں دیکھتے ہیں لیکن ٹیلی ویژن پر نہیں۔

وہ آن لائن ایسی تقاریر سنتے ہیں جو کبھی خبروں میں شامل نہیں ہوتیں۔ وہ بلوچستان یا کشمیر کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں جبکہ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اکثر ان واقعات کو چند سرکاری بیانات تک محدود کر دیتے ہیں۔

لہٰذا یہ حیرت کی بات نہیں کہ لوگ معلومات کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کر چکے ہیں، لیکن سوشل میڈیا رفتار اور اشتعال انگیزی پر چلتا ہے، جہاں حقیقی ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ ساتھ مصنوعی طور پر تیار کی گئی ڈیپ فیک ویڈیوز بھی گردش کرتی ہیں۔

2026 میں آئی ویریفائی پاکستان کے ایک جائزے کے مطابق اس نے جن وائرل دعوؤں کی جانچ کی، ان میں تقریباً 80 فیصد غلط ثابت ہوئے۔

مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کی خاموشی اس افراتفری کو مزید بڑھاتی ہے، کیونکہ خبروں کے ادارے مداخلت کرنے سے پہلے کئی گھنٹوں تک افواہوں کو پھیلنے دیتے ہیں۔ اور جب صحافت پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ جائے تو بعد میں دی گئی وضاحت یا تردید بھی پہلے جیسا اثر نہیں رکھتی۔

اقتدار میں موجود لوگ شاید ایک فرمانبردار میڈیا کو اپنی کامیابی سمجھتے ہوں، لیکن کنٹرول کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب مرکزی دھارے کا میڈیا عوامی اعتماد کھو دیتا ہے تو بحران کے وقت حقائق کے تعین کی اس کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے اور یوں ریاست خود عوام تک پہنچنے کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو جاتی ہے۔

تاہم اس صورت حال کا ذمہ دار صرف ریاست نہیں۔ میڈیا انڈسٹری بھی مکمل طور پر بے قصور نہیں ہے۔ ایسے مالکان جو اشتہارات کی آمدنی کے لیے ادارتی آزادی قربان کرتے ہیں، وہ ادارے جو فیلڈ رپورٹنگ کے بجائے سٹوڈیو ڈرامے کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ صحافی جو غیر مصدقہ دعوے آن لائن پھیلاتے ہیں، سب اس کے ذمہ دار ہیں۔

سوشل میڈیا پہلے ہی روایتی خبروں کے ایک بڑے حصے کو اپنے اندر سمو چکا ہے۔ اب صنعت اور مقتدر حلقوں دونوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ جب مرکزی دھارے کی صحافت اپنی آزادی اور دیانت دونوں کھو دے گی تو بنیادی تصدیق اور حقائق کی جانچ کی جگہ کون لے گا؟

آخرکار صحافت کچھ حد تک کھانا پکانے جیسی ہی ہے: آپ کیا شامل کرتے ہیں، اس سے جتنی اہمیت رکھتا ہے، اتنی ہی اہمیت اس بات کی بھی ہے کہ آپ کیا نکال دیتے ہیں۔ دباؤ کا شکار نیوز روم ابتدا میں پلیٹ سے صرف ایک جزو ہٹاتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عوام کے سامنے ایسی چیز رہ جاتی ہے جو بظاہر خبر لگتی ہے مگر حقیقت سے اس کی مشابہت باقی نہیں رہتی۔

نیہا داغیا صحافی ہیں اور ڈان نیوز انگلش کی ایڈیٹر ہیں۔

یہ تحریر جو اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے، مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ