سعودی عرب پر مسلسل حوثی حملے ناقابل قبول، سیاسی عمل کی طرف لوٹیں: استنبول چہار ملکی اعلامیہ

استنبول میں ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے حوثی ملیشیا سے تمام عسکری کارروائیاں فوری روکنے اور سیاسی عمل میں واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس میں فلسطین، ایران سے متعلق کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بھی بات ہوئی۔

استنبول میں 23 اکتوبر، 2026 کو پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے چھٹے اجلاس میں شریک(دفتر خارجہ پاکستان)

ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں میں اضافے کی ’سخت ترین الفاظ میں‘ مذمت کی ہے اور اسے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔

چاروں ممالک کے گروپ ’آر فور‘ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جمعے کو استنبول میں ہوا۔

اجلاس کے بعد وزارت خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں سے یمن میں انسانی مشکلات مزید بڑھی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اعلامیے میں سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان میں بالخصوص شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

وزرا نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔

وزرا نے یمن کی حکومت اور سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ’فوری طور پر تمام عسکری کارروائیاں، دھمکیاں اور حملے بند کرے اور نیک نیتی سے سیاسی عمل کی طرف لوٹ آئیں‘۔

اجلاس میں خطے کے دیگر معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

فلسطین کے بارے میں وزرا نے اسرائیلی قبضے کو خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی پالیسیاں عالمی رائے عامہ میں گہرا احساسِ ناانصافی پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

وزرا نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد، خود مختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت دہرائی۔

اعلامیے میں اسرائیلی تشدد فوری بند کرنے اور بیت المقدس کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزرا نے غرب اردن اور بیت المقدس میں ماضی اور حال کی تمام آباد کاری سرگرمیوں اور فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کی۔

انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور تعمیر نو کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے فوجی تنازع اور آبنائے ہرمز کے گرد صورت حال پر وزرا نے کہا کہ اس تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے نکالا جانا چاہیے، اور شہریوں اور شہری ڈھانچے، بشمول بحری جہازوں، کو نشانہ بنانے سے روکا جائے۔

انہوں نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی حمایت کی، کشیدگی روکنے کی جاری سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل کے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق وزرا نے بحری آمد و رفت کی آزادی اور مستقل بحری تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بحری راستوں میں رکاوٹ عالمی رسد کے سلسلے، توانائی، کھاد اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کرتی ہے، جس سے خطے اور اس سے باہر کمزور آبادیاں زد میں آتی ہیں، اس لیے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

وزرا نے قانونی بحری آمد و رفت کو متاثر کرنے والے کسی بھی اقدام یا پابندی کو مسترد کیا اور آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرنے کی جلد اور مکمل بحالی کا مطالبہ کیا۔

وزرا نے مذکورہ معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی