آٹو پالیسی: ٹیکس چھوٹ کے باوجود سستی گاڑیاں کیوں نہیں مل رہیں؟

گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت تو اقدامات کر رہی ہے لیکن مقامی سطح پر مارکیٹ میں اس پالیسی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

21 فروری 2010 کی اس تصویر میں اسلام آباد کے کار بازار میں خریدار موجود ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومت نے آٹو پالیسی 26-2021کے تحت پہلے صرف 850 یا اس سے کم ہارس پاور کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی) ختم کرکے سیلز ٹیکس 17 سے کم کر کے  12.5فیصد کرنے کا فیصلہ کیاتھا مگر بعدازاں پاکستان میں تیار ہونے والی تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں چھوٹ دے دی گئی۔

جس کے بعد پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی 13کمپنیوں کو گاڑیوں کی قیمتیں ہارس پاور کے لحاظ سے ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے تک کم کرنا پڑیں۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں پر چھوٹ سے مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں تو کمی ہوئی ہی ہے لیکن امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں پر اس سے فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں ٹیکس رعایت کے بعد کمی کا اعلان تو ہوچکا ہے لیکن اون منی کے ساتھ شہریوں کو نئی گاڑیاں ابھی تک سستی میسر نہیں کیونکہ جتنی قیمت کم ہوئی ہے، اتنی ہی اون منی ادا کرنی پڑ رہی ہے اور حکومت کی جانب سے بکنگ کروانے والے کے نام پر ہی رجسٹریشن کی شرط کے باوجود گاڑیوں پر اون منی کا دھندہ جاری ہے۔

گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت تو اقدامات کر رہی ہے لیکن مقامی سطح پر مارکیٹ میں اس پالیسی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

جب تک گاڑیوں کی پیداوار میں ڈیمانڈ کے برابر اضافہ نہیں ہوتا عوام تک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے اثرات نہیں پہنچ سکتے۔

ٹیکس رعایت سے قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی؟

نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کے بعد ٹویوٹا انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمت کم کر دی ہے۔ کمپنی کے نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جولائی سے یارس جی ایل آئی ایم ٹی 1.3کی قیمت میں ایک لاکھ روپے کی کمی کی گئی، جس سے اب یہ گاڑی 25 لاکھ نو ہزار کی بجائے 24 لاکھ نو ہزار کی بُک ہو رہی ہے۔

اسی طرح یارس جی ایل آئی سی وی ٹی 1.3کی قیمت 26 لاکھ89 ہزار سے کم ہوکر 24 لاکھ 89 ہزار روپے ہوگئی اور یارس  اے ٹی آئی وی سی وی ٹی کی قیمت 27 لاکھ 69 ہزار روپے  سے کم ہوکر 26 لاکھ 69 ہزار رہ گئی۔ یارس 1500 سی سی کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار کمی کے بعد 27 لاکھ 19 ہزار ہوگئی جو پہلے 28 لاکھ 29 ہزار روپے کی تھی۔ یارس 1.5 فل آپشن 29 لاکھ 99 ہزار روپے سے کم ہوکر 28لاکھ 99 ہزار روپے تک آگئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرولا آلٹس آٹو میٹک کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار روپے اور آلٹس مینول کی قیمت ایک لاکھ 10 ہزار روپے کم کی گئی ہے جبکہ فل آپشن آلٹس کی قیمت 35 لاکھ79 ہزار روپے ہوگئی ہے، جو پہلے 36 لاکھ 99 ہزار روپے تھی۔

ٹویوٹا فورچونر کی کی قیمت ساڑھے تین لاکھ سے تین لاکھ 80 ہزار روپے تک کم ہوئی جس کے بعد فورچونر فل آپشن 96 لاکھ 49 ہزار روپے سے کم ہوکر 92 لاکھ 69 ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔

ٹویوٹا ہائی لیکس ریوو کی قیمت میں بھی ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک کمی کی گئی ہے، اس طرح فل آپشن ریوو گاڑی 74 لاکھ 99 ہزار روپے سے کم ہوکر 73 لاکھ 79 ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔

اسی طرح ہنڈا کمپنی کی گاڑیاں بھی ایک لاکھ 40 ہزار روپے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک کم ہوجائیں گی لیکن ابھی ہنڈا اٹلس کمپنی کی جانب سے قیمتیں کم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

ہنڈائی، کیا، آلٹو، پرنس اور براوو سمیت دیگر کمپنیوں کی گاڑیاں بھی یکم جولائی سے حکومتی پالیسی کے تحت کم قیمت پر بُک ہو رہی ہیں۔

آن لائن گاڑیوں کی خریدوفروخت کی ویب سائٹ پاک وہیل کے سربراہ سنیل سرفراز کے مطابق حکومت کی آٹو پالیسی  برائے 26-2021 کے بعد پاکستان میں گاڑیاں بنانے والی 13 کمپنیوں کو ہارس پاور کے مطابق چھوٹی بڑی گاڑیوں کی ڈیڑھ سے چار لاکھ تک قیمتیں کم کرنا پڑ رہی ہیں مگر ایم جی سمیت امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں پر فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آٹو پالیسی کے تحت یہاں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت دی ہے جس کے بعد ہر گاڑی پر ایک لاکھ سے چار لاکھ روپے ٹیکس کم ہوا ہے اور وہی قیمت سے منفی کیا گیا ہے۔

بقول سنیل سرفراز: ’دراصل یہ قیمت کمپنیوں نے نہیں بلکہ حکومت نے ٹیکس میں کمی کرکے کم کی ہے۔‘

مارکیٹ میں ابہام کیوں؟

کار ڈیلرز ایسوسی ایشن لاہور کے ایک عہدیدار چوہدری حسن علی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے چھوٹی گاڑیوں اور بعد میں تمام گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا، جس سے کنفیوژن پیدا ہوئی اور کئی کمپنیوں نے ابھی تک قیمتیں کم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا جس کے بعد مارکیٹ میں ابہام پایا جاتا ہے۔

بقول حسن علی: ’ابھی تک پرانی قیمتوں پر ہی نئے ماڈل کی گاڑیوں کی خریدوفروخت جاری ہے کیونکہ جن لوگوں نے پہلے بکنگ کروائی تھی، انہیں پرانی قیمت پر جبکہ جو اب بکنگ کروا رہے ہیں انہیں جب گاڑیاں ڈیلیور ہوں گی تو کم قیمت پڑے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’نئی گاڑیوں پر اون منی وصول کی جارہی ہے حالانکہ حکومت نے ٹیکس رعایت دی ہے، لیکن اس کے باوجود اون منی کا دھندہ ختم نہیں ہوسکا۔ اون ابھی تک دو سے چار لاکھ روپے تک برقرار ہے، جس سے قیمتوں پر فرق پڑنے کے باوجود خریدار کو فوری فائدہ نہیں ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسی بنائی کہ جو گاڑی بک کروائے گا وہ تین ماہ میں گاڑی اپنے نام کروائے ورنہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وِد ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔ اسی طرح اگر بکنگ کروانے والے کے نام کے علاوہ کسی اور کے نام رجسٹریشن ہوگی تو اسے بھی وِد ہولڈنگ ٹیکس دینا ہوگا لیکن لوگ تین ماہ تک رجسٹریشن ہی نہیں کرواتے یا مختلف ناموں سے بکنگ کرواتے ہیں اور یہ کام جاری ہے۔

سنیل سرفراز کے مطابق حکومت اپنی طرف سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی پوری کوشش کر رہی ہے لیکن اون منی کے باعث عام خریدار کو فائدہ نہیں پہنچ رہا کیونکہ جب تک کمپنیاں سپلائی اور ڈیمانڈ برابر نہیں کرتیں یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

ان کے خیال میں پرانی گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی ابھی تک قیمتیں کم ہونے کا اثر نہیں پڑا کیونکہ یہ اثرات آہستہ آہستہ نیچے تک آئیں گے، وہ اس صورت میں جب کمپنیاں سپلائی پوری رکھتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت