امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو ایک اور صحافی پر بھڑک اٹھے، جب انہوں نے کہا کہ انہیں ریاست اوہائیو کی گورنر کی (ڈیموکریٹ) امیدوار ایمی ایکٹن کے آنجہانی سوتیلے باپ کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بننے کے ماضی کی کوئی پروا نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمی ایکٹن کو نشانہ بنانے والے اس اشتہار کی حمایت جاری رکھی، جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ اشتہار میں ان کی ناراض ماں کا کلپ استعمال کیا گیا ہے جو انہیں ’جھوٹی‘ کہہ رہی ہیں۔
فلوریڈا میں جلسے اور پام بیچ میں اپنی رہائش گاہ پر ہفتہ وار تعطیل گزارنے کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کی خاتون رپورٹر کو جھڑک دیا۔
رپورٹر نے امریکی صدر سے رپبلکن امیدوار وویک رام سوامی کی طرف سے مذکورہ اشتہار چلانے کے فیصلے کی ان کی مسلسل حمایت کے بارے میں سوال کیا تھا، جس میں ایمی ایکٹن کی سگی ماں ڈونا آرتھر اپنی بیٹی کو ’جھوٹی‘ قرار دیتے ہوئے اوہائیو کے عوام سے کہتی ہیں کہ وہ اسے ووٹ نہ دیں۔
صحافی نے جب انہیں بتایا کہ وہ کس ادارے سے وابستہ ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ انتہائی فضول سی رپورٹر ہیں، ہے نا؟‘
60 سالہ ایکٹن کا کہنا ہے کہ جب وہ 12 سال کی تھیں تو ان کے سوتیلے باپ نے ان کا ریپ کیا تھا اور 1978 میں اپنی والدہ ڈونا آرتھر کی جانب سے ان کی بات ماننے سے انکار اور اس کی بجائے اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے بعد سے انہوں نے ڈونا آرتھر سے کوئی بات نہیں کی، جو خاوند پر فرد جرم عائد ہونے کے باوجود 2004 میں ان کی موت تک رہیں۔
ٹرمپ نے غصے میں ان صحافیوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا، جنہوں نے ان سے ایمی ایکٹن کا آرتھر کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے پس منظر کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی اور ایک موقعے پر جب انہیں بتایا گیا کہ ایمی ایکٹن کے سوتیلے باپ پر ان کے ریپ کی فرد جرم عائد کی گئی تھی، تو انہوں نے رپورٹر سے کہا: ’آپ کو کچھ نہیں معلوم۔‘
انہوں نے کہا: ’آپ کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں، آپ کچھ بھی نہیں جانتیں۔ ان کی والدہ نے ٹیلی وژن پر آ کر کہا کہ اوہائیو کی گورنر کا انتخاب لڑنے والی ان کی بیٹی جھوٹی اور بری انسان ہیں۔ میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر رپبلکن سیاست دانوں، جنہوں نے رام سوامی کی جانب سے اس اشتہار کے استعمال کی مذمت کی ہے، کو ’حقائق کا علم نہیں‘ اور انہوں نے صورت حال کے پس پردہ مکمل حالات کو تسلیم کیے بغیر اس ٹی وی اشتہار کے حوالے سے اپنا یہ بیان دہرایا کہ ایک ماں اپنی ہی بیٹی پر حملہ کر رہی ہے۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ پر ایمی ایکٹن کے سوتیلے باپ پر ریپ کی فرد جرم عائد ہونے کے حوالے سے مزید زور ڈالا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: ’میں کئی کئی سال پہلے کے سوتیلے باپوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
’میں جانتا ہوں کہ حال ہی میں ایک ماں نے ٹیلی ویژن پر آ کر کہا کہ ان کی بیٹی کو اوہائیو کا گورنر نہیں ہونا چاہیے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے ایمی ایکٹن سے جڑی بنیادی کہانی کو نظر انداز کرنے کے لیے گذشتہ چند دنوں سے استعمال کیے جانے والے اپنے ایک عام جملے کو دہراتے ہوئے ایسا کہا۔
1978 میں عدالت میں اس دن کے بعد سے ایمی ایکٹن نے اپنی ماں کو نہ تو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بات کی ہے۔ ایمی ایکٹن کی انتخابی مہم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ان کی ’ناراض اور ظالم ماں‘ کو ’پلیٹ فارم فراہم کرنے‘ کو راماسوامی کی طرف سے ’انتہائی گھٹیا حرکت‘ قرار دیا گیا۔
انتخابی مہم کے دوران اور اوہائیو کے محکمہ صحت کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایمی ایکٹن نے اکثر اس بارے میں بات کی ہے جسے انہوں نے ایک مشکل بچپن قرار دیا ہے، جس میں بے گھر ہونے اور اپنے سوتیلے باپ کی جانب سے جنسی استحصال کا سامنا کرنا شامل ہے۔
2019 میں، انہوں نے اوہائیو کے اخبار دی ونڈیکیٹر کو بتایا کہ نو سے 12 سال کی عمر کے درمیان ان کا جنسی استحصال کیا گیا، جب 1978 میں، ان کے سوتیلے باپ پر ریپ کا الزام لگا اور ایک گرینڈ جیوری نے ان پر فرد جرم عائد کی۔ انہوں نے جرم ماننے سے انکار کر دیا۔
ایمی ایکٹن کی والدہ ڈونا آرتھر، نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے شوہر نے ایمی ایکٹن کا جنسی استحصال کیا لیکن 2020 کے ایک الگ انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے عدالتی کارروائی کے دوران اپنے شوہر کا ساتھ دیا، وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے پیسے ادھار لیے اور پھر اس پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ان کے ساتھ شہر چھوڑ کر چلی گئیں۔
اس رپورٹ کی تیاری میں نیویارک سے ایلکس ووڈورڈ کی معاونت شامل ہے۔
© The Independent