امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کو ان کی مبینہ منفی کوریج کی وجہ سے وائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا فیصلہ کر رہے تھے، تو شاید انہوں نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک ایسا ٹی وی نیٹ ورک بھی ان کے خلاف یکجہتی کا اظہار کرے گا جسے وہ اپنا فطری اتحادی سمجھتے رہے ہیں۔
سی این این ان پانچ ٹی وی نیٹ ورکس میں شامل ہے جو باری باری صدر کی سرگرمیوں کی ویڈیو کوریج فراہم کرتے ہیں، تاہم ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً سی بی ایس، اے بی سی، این بی سی اور سب سے اہم فاکس نیوز نے بھی صدر کی فلم بندی روکنے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ رواں ہفتے ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں نئے ہیلی پیڈ کے افتتاح کے موقعے پر تقریباً کسی سے مخاطب نہیں تھے۔ چونکہ کسی ٹی وی نیٹ ورک کا مائیکروفون وہاں موجود نہیں تھا، اس لیے صدارتی ہیلی کاپٹر میرین ون کے شور نے ان کی آواز کو مکمل طور پر دبا دیا۔
فاکس نیوز کی جانب سے خود کو صدر کی ناراضی مول لینے والی پوزیشن میں کھڑا کرنا بہت سوں کے لیے حیران کن تھا۔ 1996 میں آغاز کے بعد سے یہی وہ نیٹ ورک تھا جسے ٹرمپ کی پسندیدہ نشریاتی آواز سمجھا جاتا رہا ہے۔
ٹرمپ کئی مرتبہ براہِ راست نشریات کے دوران فاکس نیوز کو فون کرتے رہے ہیں اور ان کی حکومت میں فاکس نیوز سے وابستہ شخصیات کو اہم عہدے بھی ملتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل فاکس نیوز کی شخصیت اور ’فاکس اینڈ فرینڈز ویک اینڈ‘ کے شریک میزبان تھے۔
اسی طرح جینین پیرو مئی 2025 تک فاکس نیوز سے وابستہ رہیں، جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی عبوری امریکی اٹارنی مقرر کر دیا۔
فاکس نیوز کے تبصرے کے پروگرام طویل عرصے سے امریکی دائیں بازو کے لیے ایک مضبوط گونج گاہ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ مشہور اینی میٹڈ سیریز ’فیملی گائے‘ کے ایک حصے میں بھی فاکس نیوز کی سیاسی جھکاؤ والی شہرت پر طنز کیا گیا تھا۔
2024 میں جب فاکس نیوز نے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی کی پیش گوئی کی، تو بائیں بازو کے حلقوں میں شدید غصے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اسی لیے وائٹ ہاؤس میڈیا پول کے بائیکاٹ کا فاکس نیوز کا فیصلہ ایک خطرناک قدم دکھائی دیتا تھا، خصوصاً اس لیے کہ یہ اقدام اس کے نظریاتی حریف سی این این کی حمایت میں تھا۔ سی این این اور دیگر متاثرہ اداروں نے کہا تھا کہ وہ اپنی آئینی آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
تاہم فی الحال اس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ گذشتہ جمعرات کی صبح ایک وفاقی جج نے عارضی حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کو ہدایت کی کہ متعلقہ میڈیا اداروں کی اسناد بحال کی جائیں۔
کتاب ’آؤٹ فاکسڈ: روپرٹ مرڈوک کی صحافت کے خلاف جنگ‘ کی مصنفہ الیگزینڈرا کِٹی نے انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ یہ نہایت اہم بات ہے کہ فاکس نیوز ٹرمپ سے اختلاف کر رہا ہے اور واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ وہ اس پابندی سے متفق نہیں۔ میرے خیال میں لوگ اس کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ نہیں لگا رہے۔‘
ان کے مطابق یہ ایک ’بنیادی تبدیلی‘ ہے اور اس میں فاکس نیوز کے لیے نمایاں خطرات بھی موجود تھے۔
ٹرمپ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مشہور ہیں جنہیں وہ اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔ بائیکاٹ کے ردعمل میں وائٹ ہاؤس نے صدر کی سرگرمیوں کی براہِ راست نشریات کے لیے اپنی ویڈیو سروس کو فروغ دینا شروع کر دیا جسے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کا نام دیا گیا۔
کٹی کے مطابق اسی وجہ سے درحقیقت ٹرمپ کو فاکس نیوز کی ضرورت ہے، فاکس نیوز کو ٹرمپ کی نہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’اگر ٹرمپ فاکس کی حمایت کھو دیتے ہیں تو ان کے لیے سب کچھ ختم ہو جائے گا، چاہے بات ورثے کی ہو یا کسی اور چیز کی۔‘
فوربز کے مطابق جنوری 2002 سے فاکس نیوز مسلسل امریکہ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا نیوز چینل رہا ہے۔ ستمبر کے پہلے ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے پرائم ٹائم ناظرین کی تعداد اوسطاً 1.8 ملین تھی۔
2020 میں، جو انتخابی سرگرمی کا عروج تھا، اس کے اوسط پرائم ٹائم ناظرین 30 لاکھ سے زیادہ تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 24 لاکھ رہی۔
نیویارک ٹائمز نے اس ہفتے لکھا کہ اگر تاریخ کا سب سے زیادہ ٹی وی دیکھنے والا صدر اچانک کیمروں کے بغیر رہ جائے تو کیا وہ واقعی صدر رہتا ہے؟
ٹرمپ کے پورے سیاسی اور کاروباری کیریئر کی بنیاد ریٹنگز پر رہی ہے۔ انہیں میڈیا کی توجہ درکار ہوتی ہے اور بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر وہ توجہ ختم ہو جائے تو ان کی سیاسی طاقت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
کٹی کا کہنا ہے کہ فاکس نیوز نے ہی دراصل ٹرمپ کے سیاسی حامیوں کی بنیاد تیار کی۔ ان کے مطابق فاکس نے ایسے ناظرین کو متوجہ کیا جو خود کو نظر انداز شدہ محسوس کرتے تھے اور بعدازاں ٹرمپ نے اسی حلقے سے فائدہ اٹھایا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ کہتی ہیں: ’فاکس نیوز ان لوگوں کے ساتھ ٹرمپ سے کہیں زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس تک پہنچانے میں مدد ضرور ملی، لیکن ان لوگوں کی شناخت اور ان کی ناراضیوں کو سامنے لانے کا کام فاکس نے کیا تھا۔ اس لیے یہ صورت حال کچھ ایسی ہے جیسے ماں باپ آپس میں لڑ رہے ہوں اور بچوں کو فیصلہ کرنا ہو کہ وہ کس کا ساتھ دیں۔‘
کٹی کے مطابق 2016 میں ٹرمپ نے اس تیار شدہ ناظرین کے گروہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور یوں دونوں کے درمیان ایک مضبوط باہمی تعلق قائم ہو گیا، لیکن بعد میں ٹرمپ اپنی سابقہ روش سے ہٹتے چلے گئے۔
ادھر کچھ عرصے سے ٹرمپ فاکس نیوز کے لیے مشکل صورت حال بھی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس اور جارجیا کے گورنر برائن کیمپ جیسے مقبول رپبلکن رہنماؤں کو ہدفِ تنقید بنایا، اسقاطِ حمل مخالف قوانین پر تنقید کی اور جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کو مکمل طور پر جاری کرنے سے بھی گریز کیا۔
یہاں تک کہ ٹرمپ کے سابق قریبی اتحادی سٹیو بینن نے بھی ایپسٹین معاملے پر ان کی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے رپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو فاکس نیوز کے ’ماگا‘ (MAGA) حامیوں کی ضرورت ہے، لیکن یہ دراصل ایک شور مچانے والی اقلیت ہے۔
ان کے مطابق: ’ٹرمپ کبھی وائٹ ہاؤس تک نہ پہنچ پاتے اگر آزاد خیال ووٹروں کی حمایت نہ ملتی۔ وہ میگا حامیوں کے اثر و رسوخ کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر دیکھتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ غیر وابستہ ووٹر کسی ایک پارٹی سے مستقل وفاداری نہیں رکھتے۔‘
اسی وجہ سے فاکس نیوز کا بائیکاٹ میں شامل ہونا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کتاب ’اپرنٹس اِن ونڈر لینڈ‘ کے مصنف رامین سیٹودہ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: ’ٹرمپ کے لیے یہ کسی پروگرام کے منسوخ ہو جانے جیسا ہے۔ جیسے کوئی ہٹ شو اچانک نشریاتی شیڈول سے ہٹا دیا جائے۔‘
سوال یہ ہے کہ فاکس اب ٹرمپ کو ناراض کرنے پر کیوں آمادہ ہے؟ کٹی کے مطابق اس کی ایک وجہ فاکس نیوز کے بانی روپرٹ مرڈوک کی طویل عرصے سے جاری عملی سیاست بھی ہے۔ مرڈوک اکثر مختلف حلقوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کرتے رہے ہیں۔
وہ مثال دیتی ہیں کہ وال اسٹریٹ جرنل، جو مرڈوک کی کمپنی نیوز کارپوریشن کی ملکیت ہے، کئی مواقع پر ٹرمپ پر تنقید بھی کرتا رہا ہے۔
مرڈوک جانتے ہیں کہ میڈیا اداروں کو اپنے ناظرین کے مزاج کو سمجھنا پڑتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں فاکس نیوز کے بعض ایسے میزبان، جو مجموعی طور پر ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے ہیں، ایران جنگ کے معاملے پر صدر کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے نظر آئے ہیں۔
جون میں فاکس کے میزبان لورا انگراہم اور جیسی واٹرز نے کھلے عام ٹرمپ کے ان دعوؤں پر سوالات اٹھائے جن میں وہ بار بار کہتے تھے کہ تنازع جلد ختم ہونے والا ہے۔
اسی طرح سابق فاکس شخصیات ٹکر کارلسن اور میگن کیلی بھی ایران پالیسی کے خلاف قدامت پسند میڈیا کی تنقید میں شامل ہو چکے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں فاکس کا بنیادی حمایتی طبقہ یہی سوچ رکھتا ہے۔
بعض ٹرمپ حامی میڈیا پر پابندیوں کو بھی پسند نہیں کر سکتے کیونکہ رپبلکن سیاست دان برسوں سے سنسرشپ کی مخالفت کو اپنی سیاست کا اہم موضوع بناتے رہے ہیں، خصوصاً بائیڈن انتظامیہ کے خلاف۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے درحقیقت کسی میڈیا ادارے پر پابندی نہیں لگائی بلکہ صرف انہیں وائٹ ہاؤس تک خصوصی رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔ یہ وہی جے ڈی وینس ہیں جنہوں نے صدارتی انتخاب کے دوران کہا تھا کہ سینسرشپ جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اس تناظر میں ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کے حامیوں کو ایک متضاد بیانیے کا سامنا ہے؟ ایک طرف صدر آزادی اظہار کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف میڈیا پر پابندیاں لگاتے اور ’ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کرتے ہیں، جو ناقدین کے نزدیک آمرانہ طرزِ عمل سے مشابہ ہے۔
ٹی وی بائیکاٹ میں شامل ہوتے ہوئے فاکس نیوز نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں کہا گیا کہ عوام کو اپنی حکومت کے بارے میں آزاد اور غیر جانبدار معلومات حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے اور کسی بھی انتظامیہ کو محض ناپسندیدہ رپورٹنگ کی بنیاد پر کسی خبر رساں ادارے کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔
اس کے باوجود کٹی کا خیال ہے کہ ٹرمپ اسی فاکس نیوز کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں جس نے انہیں اقتدار تک پہنچانے میں مدد دی۔
ان کے بقول: ’فاکس ایک عجیب صورت حال میں ہے کیونکہ ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور اس سے وہ ناظرین بھی متاثر ہو رہے ہیں جنہیں فاکس نے برسوں کی محنت سے تیار کیا تھا۔ یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ وسط مدتی انتخابات میں کیا ہوتا ہے، کیونکہ وہ فاکس نیوز کے مستقبل کے لیے بھی ایک ریفرنڈم ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
