ٹرمپ کو ’اے آئی فورس‘ کے لیے ذہین شخص کی تلاش

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی نگرانی کے لیے ایک نئی ’اے آئی فورس‘ بنا رہے ہیں۔ 

15 مئی، 2020 کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سپیس فورس کے سینیئر مشیر سارجنٹ راجر ٹوبرمین سپیس فورس کا پرچم دکھا رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی نگرانی کے لیے ایک نئی ’اے آئی فورس‘ بنا رہے ہیں۔ 

یہ اعلان انہوں نے اس جدید ٹیکنالوجی سے ممکنہ خطرے کے خدشات کو ’دھوکہ‘ قرار دینے اور یہ کہنے کے چند روز بعد کیا کہ انہوں نے اس کے لیے تمام ضروری حفاظتی اصول بنا دیے ہیں۔

صدر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ’ہم اس حیرت انگیز صنعت کی ترقی کی راہ میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی اسے دبائیں گے، بلکہ ہم اس کی قدر کریں گے، اس کی مدد کریں گے اور فروغ کے دوران اس کی نگرانی کریں گے۔‘

انہوں نے لکھا ’اس مقصد کے لیے میں اے آئی فورس بنا رہا ہوں، بالکل اسی طرح جیسے میں نے اپنی پہلی مدت صدارت میں سپیس فورس بنائی تھی، جو بہت بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اس سلسلے میں میں جلد ہی اے آئی ’زار‘ کا اعلان کروں گا۔ صرف بہت زیادہ ذہین افراد ہی درخواست دیں۔‘

سرمایہ کار ڈیوڈ سیکس مارچ تک ٹرمپ کے مصنوعی ذہانت اور کرپٹو معاملات کے سربراہ رہے۔

مارچ میں انہوں نے بلومبرگ کو بتایا کہ خصوصی سرکاری ملازم کی حیثیت سے ان کے 130 دن ’پورے‘ ہو چکے ہیں اور اب وہ صدر کی سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مشاورتی کونسل میں شامل ہو رہے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کئی دیگر معاملات کو بھی ’دھوکہ‘ قرار دیا اور الزام ’انتہا پسند بائیں بازو‘ کی ڈیموکریٹک پارٹی پر لگایا۔ انہوں نے کہا اب وہ مصنوعی ذہانت کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

 یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت اگلے 10 برس میں انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد اس صنعت کو سرکاری ضابطوں کے تحت لانے کے مطالبات شروع ہو گئے۔

ٹرمپ نے کہا ’اور میں، امریکہ کے صدر کی حیثیت سے، خاموش تماشائی بن کر ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ مصنوعی ذہانت اگلا صنعتی انقلاب یا انٹرنیٹ ہے لیکن یہ اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی اور اثرانداز ہوگی۔

’ممکن ہے اس کا حصہ ہماری ملکی مجموعی پیداوار کا 25 فیصد تک ہو۔ ہم چین اور باقی دنیا سے آگے ہیں اور میں اس برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔‘

میساچوسٹس سے ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے ٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ’کانگریس صرف ایک اور کمیٹی بنا کر یا اس معاملے پر طویل بحث جاری رکھ کر مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے فوری خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’آئیے لوگوں کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعی مؤثر ضابطے منظور کریں۔‘

ٹرمپ کا یہ حیران کن اقدام کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کرنے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے دو ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے سامنے آیا۔

اس وقت ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ری پبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلا کہ زیادہ تر امریکی ٹرمپ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سے ناخوش ہیں۔

منگل کو جاری ہونے والے یوگوو کے سروے میں 55 فیصد افراد نے ان کی کوششوں کو ناپسند کیا، جن میں 44 فیصد نے کہا کہ وہ انہیں ’سخت ناپسند‘ کرتے ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والے یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کے تازہ سروے میں بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے۔

سروے میں شامل 57 فیصد افراد نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ معاملہ اچھی طرح نہیں سنبھالا، جب کہ 43 فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسے ’بالکل اچھی طرح‘ نہیں سنبھالا۔ مارچ میں یہ شرح 36 فیصد تھی۔

اس سے پہلے ہفتے کو ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ متبادل نام تجویز کیے۔ یہ مختلف چیزوں کے نام بدلنے کی ان کی بظاہر کبھی نہ ختم ہونے والی خواہش کی تازہ مثال تھی۔

صدر نے لکھا ’بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ’مصنوعی ذہانت‘ نہ تو درست ہے اور نہ ہی بامعنی۔

’اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے کہیں زیادہ بہتر اور درست نام ’برتر ذہانت‘، ’انتہائی ذہانت‘ یا ’اعلیٰ ترین ذہانت‘ ہو سکتا ہے۔‘

صدر نے اپنے ایک کروڑ 31 لاکھ فالوورز سے رائے بھی مانگی۔ ان کا کہنا تھا ’یہ ایک سروے ہے اور میں چاہوں گا کہ ہر شخص ووٹ دے۔ مسلسل پھیلتے ہوئے اس ’انقلاب‘ کے لیے سب سے بہتر نام کون سا ہے؟‘

ہفتے کو ٹرمپ کی پوسٹ پر ردعمل دینے والے سوشل میڈیا ناقدین میں سے ایک نے کہا ’جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اس سے زیادہ احمقانہ کام نہیں کر سکتے، تبھی وہ کچھ اور کر دیتے ہیں۔‘

اس صارف نے پیغام کے ساتھ مسخرے کے چہرے والا ایموجی بھی لگایا۔

ایک اور صارف نے لکھا ’کم از کم انہوں نے اسے ’ٹرمپ تھنک‘ کہنے کی کوشش تو نہیں لیکن شاید یہ اپنی ہی تردید کرنے والی اصطلاح ہوتی۔‘

گذشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے چیزوں کے نام بدلنے کی ایک بے مثال مہم شروع کر رکھی ہے۔

اس کا آغاز دوسری بار ان کی حلف برداری کے دن جاری کیے گئے صدارتی حکم نامے سے ہوا، جس کا عنوان تھا’امریکی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے والے ناموں کی بحالی۔‘

اس حکم نامے کے ذریعے صدر باراک اوبامہ کا الاسکا کے پہاڑ ماؤنٹ مک کنلی کا نام بدل کر مقامی الاسکن باشندوں کا دیا ہوا نام ’ڈینالی‘ رکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

حکم نامے کے تحت خلیج میکسیکو کا نام بھی بدل کر ’خلیج امریکہ‘ رکھ دیا گیا۔

جب ٹرمپ نے اس بین الاقوامی آبی علاقے کے لیے اپنا پسندیدہ نام استعمال نہ کرنے پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی اوول آفس اور صدارتی طیارے ایئر فورس ون تک رسائی محدود کی تو قانونی جنگ شروع ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور عدالتی مقدمہ دسمبر 2025 میں جان ایف کینیڈی میموریل سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس کے نام میں ٹرمپ کا نام شامل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔

ایک وفاقی جج نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقام کا نام تبدیل کرنے کا قانونی اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔

عمارت کو اس ہفتے کے آغاز میں مرمت کے لیے بند کر دیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ مرمت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک بعد میں عمارت پر ان کا نام لگانے کی ضمانت نہ دی جائے۔

اس تصویر کی اشاعت کے بعد جمعے کو وہاں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے۔ تصویر میں ٹرمپ ایئر فورس ون کے اندر ایک تختی دیکھ رہے تھے، جس پر ’کینیڈی سینٹر مسمار‘ لکھا تھا۔

تاہم لفظ کا باقی حصہ طیارے کی کھڑکیوں کے گرد موجود ڈھانچے کی وجہ سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ٹرمپ کا نام امریکی ادارہ امن کے ساتھ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ نسخے کی ادویات خریدنے کے لیے وفاقی حکومت کی ویب سائٹ ’ٹرمپ آر ایکس‘، امریکی بچوں کے لیے سرمایہ کاری کے پروگرام ’ٹرمپ اکاؤنٹس‘ اور ’ٹرمپ گولڈ کارڈ‘ میں بھی ان کا نام شامل ہے۔

ٹرمپ گولڈ کارڈ کے تحت حکومت کو 10 لاکھ ڈالر کا ’عطیہ‘ اور 15 ہزار ڈالر ’پروسیسنگ فیس‘ دینے پر ویزا درخواست کا جائزہ تیز کر دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کے دوران صدر نے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’جھیل امریکہ‘ رکھ دیا ہے۔ انہوں نے نیو میکسیکو کا نام ’نیو امریکہ‘ رکھنے کی تجویز بھی دی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی کو پانچ ہزار ڈالر کا نام نہاد ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ دیا جا سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی