قلات آپریشن میں 5 عسکریت پسند مارے گئے، 23 مغوی بازیاب: فوج

پاکستان فوج کے مطابق عسکریت پسندوں نے چمن۔کراچی شاہراہ پر چوکی قائم کر رکھی تھی، جہاں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں کی جا رہی تھیں۔ سکیورٹی فورسز نے ٹرک، بسیں، کاریں اور بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

18 اکتوبر، 2017 کو پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں واقع کِٹن آرچرڈ پوسٹ پر افغان سرحد کے ساتھ نئی نصب کی گئی باڑ کے قریب پاکستانی فوجی پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اتوار کو بتایا ہے کہ بلوچستان میں ایک شاہراہ پر سکیورٹی آپریشن کے دوران پانچ عسکریت پسند مارے گئے اور 23 مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔

پاکستان فوج نے ملک سے ’غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی‘ عسکریت پسندی کے خاتمے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شب قلات کے قریب چمن۔کراچی قومی شاہراہ (این 25) کے حصے پر پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ علیحدگی پسند عسکریت پسندوں نے شاہراہ پر لوگوں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

فوج کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے وہاں ایک چوکی قائم کر رکھی تھی، جسے اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور گاڑیاں چھیننے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

کارروائی کے دوران ہونے والی جھڑپ اور مارے جانے والے افراد کے بارے میں آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا: ’سکیورٹی فورسز نے فوری جواب دیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مسلح افواج کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں ’فتنہ الہندوستان‘ نامی بھارتی سرپرستی یافتہ گروہ سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانے سے 23 مغویوں کو بازیاب کرایا۔ اس کے ساتھ چھ ٹرک، تین بسیں اور دو کاریں بھی برآمد ہوئیں۔ پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ ٹھکانے سے بڑی تعداد میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی ملا۔

’گردونواح کے علاقوں میں صفائی کی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور مقامی آبادی اور اہم قومی شاہراہوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔‘

پاکستان فوج نے یہ عزم بھی دہرایا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک پوری قوت سے جاری رہیں گی جب تک ’غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی‘ کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے لیے ’فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ انھیں بھارت کی مالی اور عسکری مدد حاصل ہے۔ نئی دہلی اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان افغانستان پر بھی الزام عائد کرتا ہے کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے کر سرحد پار حملوں میں سہولت فراہم کرتا ہے، جو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ افغانستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور پاکستان سے کہتا ہے کہ وہ اپنے مسائل اندرونِ ملک حل کرے۔

بلوچستان کئی دہائیوں سے کم شدت کی شورش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران عسکریت پسند قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر گھات لگا کر حملے کر چکے ہیں، پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر چکے ہیں اور صوبے میں چینی مفادات کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

علیحدگی پسند بلوچ عسکریت پسند پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست مقامی لوگوں کو صوبے کے قدرتی وسائل میں حصہ نہیں دیتی۔ ریاست ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے صوبے کی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان