علیمہ خان نظر بند، سرگرمیاں عوامی امن کے لیے نقصان دہ ہیں: ڈپٹی کمشنر لاہور

تحریک انصاف کی سینٹرل پنجاب شاخ کے ترجمان برگیڈئیر (ر) مشتاق کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ اسلام آباد میں 19 فروری 2026 کو انٹرویو دے رہی ہیں (سہیل اختر/انڈپینڈنٹ اردو)

صوبہ پنجاب میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف 30 روز کے لیے نظربندی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

جاری کردہ حکم نامے کے مطابق کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور نے 20 ستمبر 2026 کو ایک رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان اور ان کے ڈارئیور محمد عامر کی سرگرمیاں عوامی امن و امان اور عوامی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں افراد 9 مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے دوران کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکساتے رہے اور اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہے ہیں۔

علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

پارٹی کی سینٹرل پنجاب شاخ کے ترجمان برگیڈئیر (ر) مشتاق کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے ساتھ میں بڑی تعداد میں کارکنان کی گرفتاریوں کا بھی دعوی کیا ہے۔

برگیڈئیر (ر) مشتاق کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت عوامی انقلاب سے ڈر گئی ہے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کی رپورٹس کے مطابق دونوں افراد حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف قابل اعتراض نعرے بازی کے ذریعے عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے شہر میں امن و امان کی صورت حال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دستاویز کے مطابق معاملہ 20 ستمبر کو ہونے والے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیر غور آیا، جہاں پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد اور شواہد کی توثیق کرتے ہوئے متفقہ طور پر نظربندی کی سفارش کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے علیمہ خان اور محمد عامر کو گرفتاری کے بعد 30 روز کے لیے نظربند کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکم کے مطابق دونوں کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور میں رکھا جائے گا۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں افراد کو اس فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کے سامنے درخواست یا نمائندگی کا حق حاصل ہوگا۔

تاہم اس بارے میں حکومت کی جانب سے اب تک باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کی صبح خبردار کیا تھا کہ احتجاج اور دھرنوں کے نتیجے میں معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ 

ان کا یہ انتباہ ایک ریکارڈ شدہ ٹی وی پیغام میں سامنے آیا، جو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل جاری کیا گیا۔ ایک تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حکومت کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے علیمہ خان کی ان کے گھر کے باہر سے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے۔

مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ علیمہ خان کو صرف اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اپنے بھائی کی قید، تنہائی میں رکھے جانے اور طبی سہولیات سے محرومی کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ یہ گرفتاری قانون نہیں بلکہ سیاسی انتقام کی ایک مثال ہے اور اس کا مقصد صورت حال کو مزید خراب کرنا اور ردعمل کو بھڑکانا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت امن و امان کے نام پر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پارٹی نے علیمہ خان کی فوری رہائی، ان کے مقام سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خاندان کو ہراساں کرنے کی مہم بند کی جائے۔

پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ اگر علیمہ خان کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست