سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے منظور

درخواست میں شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کے استعفے اور عمران خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ کے انتخاب کو آئینی طور پر چیلنج کیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 25 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں موجود ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

وفاقی آئینی عدالت نے پیر کو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کے حوالے سے دائر درخواست پر صوبائی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

درخواست میں شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کے استعفے اور عمران خان کی ہدایت پر وزیراعلیٰ کے انتخاب کو آئینی طور پر چیلنج کیا ہے۔

سہیل آفریدی کے انتخاب سے متعلق یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دیا، جو اس وقت نااہل تھے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ہی آئینی طور پر مؤثر نہیں تھا تو ان کی جگہ سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا بھی قانونی سوال بن جاتا ہے۔

اسی بنیاد پر عدالت سے سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے علی امین گنڈاپور کے استعفے، گورنر کی منظوری اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے عمل سے متعلق مختلف آئینی سوالات اٹھائے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس کیس میں بنیادی آئینی نکتہ کیا ہے۔

درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ آئین کی منشا یہ ہے کہ عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے۔ ان کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں واضح کیا تھا کہ وہ عمران خان کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا اور وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے گورنر کی جانب سے استعفے کی منظوری ضروری تھی۔

اس موقع پر جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ بھی دیا گیا تھا، کیا وہ بھی منظور نہیں کیا گیا تھا؟

درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دیا، جبکہ اس وقت عمران خان نااہل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیر افضل مروت نے نواز شریف پارٹی صدارت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قرار دے چکی ہے کہ کوئی نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاستی معاملات نہیں چلا سکتا۔

ان کے مطابق عمران خان کی جانب سے استعفے کی ہدایت دیے جانے کے وقت ان کی نااہلی کی صورت حال موجود تھی، اس لیے اس ہدایت پر دیے گئے استعفے کی آئینی حیثیت کا جائزہ ضروری ہے۔

درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کسی نااہل شخص کی ہدایت پر ریاستی معاملات چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

تاہم عدالت نے ان دلائل پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا بلکہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔

درخواست میں علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد ہونے والے سیاسی اور آئینی عمل کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

اب عدالت آئندہ سماعتوں میں فریقین کے مؤقف سننے کے بعد یہ طے کرے گی کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ آئینی تقاضوں کے مطابق تھا یا نہیں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے وزیراعلیٰ کے انتخاب کی کیا قانونی حیثیت بنتی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج کے باعث جماعت کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ احتجاج سے متعلق دیگر قانونی معاملات بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

سہیل آفریدی بھی پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایسے میں ان کی بطور وزیراعلیٰ آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت سیاسی طور پر بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

تاہم موجودہ مقدمے میں عدالت کے سامنے بنیادی سوال سیاسی احتجاج نہیں بلکہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کی آئینی حیثیت، گورنر کی منظوری اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے قانونی جواز سے متعلق ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فی الحال سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، سہیل آفریدی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست