وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حالیہ دنوں میں مختلف نجی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیے ہیں، جو ان کی گذشتہ انٹرویوز نہ دینے کی پالیسی سے متصادم نظر آتے ہیں اور جسے تجزیہ کار ’غیر معمولی تبدیلی‘ قرار دے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے نجی نیوز چینل اے آر وائی کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں میزبان وسیم بادامی کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دینے کی وجہ سے انہیں نا اہل یا گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پانچ اگست کو پشاور میں ایک پارٹی جلسے سے خطاب میں عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی مشروط کال دی تھی۔
پیر کو اپنے انٹرویو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’نااہل کیے بغیر کوئی مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، مجھے نااہل یا گرفتار کیا جاتا ہے تو اس صورت میں میرا ویڈیو پیغام موجود ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’27 ستمبر کے اعلان پر عوامی ردعمل واضح ہے اور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی تاخیر کیوں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ علیمہ خان بھی لانگ مارچ میں شریک ہوں گی جبکہ علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کی پوری قیادت ایک ہی کنٹینر پر موجود ہوگی۔‘
لانگ مارچ کی کال کی وجہ انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنا قرار دی۔ ان کے بقول پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، کوئی مسلح گروہ نہیں جو ہتھیار اٹھا کر اڈیالہ پہنچ جائے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں ’سٹریٹ موومنٹ‘ کی تیاری کا اختیار دیا تھا، تاہم اسلام آباد مارچ کی حتمی کال دینا سیاسی کمیٹی کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کی کال ’باہمی مشاورت سے دی گئی ہے۔‘
سہیل آفریدی کے ٹی وی انٹرویوز کیا پیغام دیتے ہیں؟
سہیل آفریدی جب سے وزیراعلیٰ بنے ہیں، تب سے انہوں نے ٹی وی چینلز کو ون آن ون انٹرویوز نہیں دیے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ’سہیل آفریدی ون آن ون انٹرویوز دینے سے گریز کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ذرائع نے کچھ ہفتے پہلے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ بننے سے لے کر اب تک انہوں نے ون آن ون انٹرویوز کسی کو نہیں دیے، لیکن اب اچانک انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دیے ہیں۔
جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر سمیت اے آر وائی کے وسیم بادامی کو دیے گئے ان کے انٹرویوز نشر ہو چکے ہیں۔
بعض مبصرین کے مطابق انٹرویو کے دوران خلافِ توقع سہیل آفریدی نے عمران خان کا نام بھی لیا ہے اور انہوں نے عمران خان کے حوالے سے کھل کر مختلف معاملات پر بات بھی کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کے سزا یافتہ مجرم ہونے کی وجہ سے نجی چینلز پر ان کا نام نہیں لیا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے کسی خبر میں انہیں ’بانی پی ٹی آئی‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
اس حالیہ تبدیلی کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ پالیسی شفٹ نہیں ہے بلکہ سہیل آفریدی نے اب ٹی وی چینلز سے بات کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔‘
عہدیدار نے بتایا کہ اس کی وجہ’27 ستمبر کا لانگ مارچ ہے اور سہیل آفریدی کے ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دینے کا مقصد اسی لانگ مارچ کے لیے مہم ہے۔‘
سیاسی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے کہ سہیل آفریدی مین سٹریم میڈیا کے معروف اینکرز کو انٹرویوز دے رہے ہیں۔
طارق وحید پشاور میں ’ہم نیوز‘ کے بیورو چیف ہیں اور پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انٹرویوز میں سہیل آفریدی کا لب و لہجہ بھی وہی تھا، جس طرح وہ جلسوں میں بات کرتے ہیں یعنی انہوں نے کھل کر مختلف معاملات پر بات کی ہے۔‘
طارق وحید کے مطابق: ’مقتدر حلقوں کی جانب سے شاید یہ پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی کے لیے گرین سگنل دیا گیا ہے اور فی الحال یہ سگنل یکطرفہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر میڈیا مفاہمت کے تناظر میں یہ انٹرویوز نشر ہوتے تو شاید سہیل آفریدی کی ٹون تبدیل ہوتی لیکن ایسا نہیں دیکھا گیا بلکہ انہوں نے جلسوں میں جو باتیں کی ہیں، وہی دہرائی ہیں۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس ’گرین سگنل‘ کے بعد پی ٹی آئی کا آئندہ لائحہ عمل کیا آتا ہے اور اگر پی ٹی آئی کے احتجاج کی شدت بڑھتی ہے اور وفاق کی جانب سے مثبت جواب نہیں آتا تو گرین سگنل، ریڈ سگنل میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔‘
پی ٹی آئی کا کیا موقف ہے؟
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اگر کسی کی جانب سے گرین سگنل دیا جا رہا ہے تو یہ ان سے پوچھنا چاہیے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا موقف بالکل واضح ہے کہ عمران خان کی رہائی اور ان کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔‘
اکرام کھٹانہ کا مزید ’سہیل آفریدی کا ٹی وی چینلز پر آنا اور بات کرنا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہے اور ہمیں جو ریسورس مہیا ہو سکتا ہے ہم اس کو استعمال کریں گے۔ ٹی وی چینلز انٹرویوز چلاتے ہیں یا نہیں لیکن ہم اپنی مہم جاری رکھیں گے۔‘
