صدر پاکستان آصف علی زرداری نے منگل کو ملک بھر کی مختلف ہائی کورٹس میں اضافی ججوں کی تقرری، کئی اضافی ججوں کی مستقل حیثیت میں توثیق، سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دے دی جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار کے عہدے پر ہارون اختر کی تقرری کی بھی توثیق کر دی۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے لاہور، سندھ، پشاور، اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے لیے اضافی ججوں کی تقرریوں کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے متعدد اضافی ججوں کو مستقل ججوں کے طور پر توثیق کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
ان 19 اضافی ججوں کی تقرری اور پانچ اضافی ججوں کی مستقل ججوں کے طور پر توثیق کا معاملہ گذشتہ کئی ہفتوں سے زیر التوا تھا۔ یہ نامزدگیاں 20 اور 21 جولائی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی جانب سے سفارش کیے جانے کے بعد منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوائی گئی تھیں۔
منظوری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین نئے ججوں جسٹس ایاز شوکت، جسٹس عمیر مجید ملک اور جسٹس شاہ رخ ارجمند نے بطور ایڈیشنل جج حلف اٹھا لیا۔ ان سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے حلف لیا۔
بلوچستان میں سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق محمد رؤف عطا، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، اللہ داد روشن، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اور عبدالقَیوم لہڑی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کو بلوچستان ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری ایک سال کے لیے ہوگئی، جس کا اطلاق متعلقہ ججز کے حلف اٹھانے کی تاریخ سے ہوگا۔
یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے ججوں کی تعداد میں اضافہ ایک اہم ضرورت تصور کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں کو پُر کرنے اور اضافی ججوں کو مستقل حیثیت دینے سے عدالتی کارروائیوں میں تیزی لانے اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور بعض ایڈیشنل ججز کی توثیق کی منظوری دے دی۔
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) August 11, 2026
صدرِ مملکت نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دی۔
صدرِ مملکت نے…
پاکستان میں ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کا عمل آئین کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن امیدواروں کے ناموں پر غور کرتا ہے اور منظوری کے بعد انہیں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد صدر مملکت تقرریوں کی حتمی منظوری دیتے ہیں۔
عدالتی امور کے ماہرین کے مطابق اضافی جج عموماً ایک مخصوص مدت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں اور ان کی کارکردگی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور عدالتی خدمات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مستقل جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے اضافی ججوں کی مستقل حیثیت میں توثیق کو عدالتی نظام میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر نے ایک اور اہم فیصلے میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کے مساوی کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس فیصلے کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مالی مراعات میں یکسانیت پیدا کی جائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد مختلف اعلیٰ عدالتی اداروں کے ججوں کے لیے یکساں مالی ڈھانچہ قائم کرنا اور مراعات کے حوالے سے کسی بھی فرق کو ختم کرنا ہے۔
صدر زرداری نے ہائی کورٹ کے ججوں کی چھٹیوں، پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق 1997 کے حکم نامے میں ترامیم کی بھی منظوری دی ہے۔ اگرچہ ایوان صدر کے بیان میں ترامیم کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس اقدام کو عدالتی افسران کی سروس شرائط کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عدلیہ کی خودمختاری اور ججوں کی مراعات کا معاملہ ہمیشہ سے اہم آئینی اور قانونی مباحث کا حصہ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ججوں کو مناسب مالی تحفظ اور مراعات فراہم کرنا عدالتی آزادی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس سے جج اپنی آئینی ذمہ داریاں آزادانہ طور پر ادا کر سکتے ہیں۔
ادھر صدر مملکت نے ایک الگ فیصلے میں ہارون اختر کی وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار کی حیثیت سے تقرری کی بھی منظوری دی۔ ہارون اختر پاکستانی سیاست اور کاروباری امور میں ایک معروف نام سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں مختلف حکومتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت صنعتی پیداوار میں اضافے، توانائی کے اخراجات میں کمی، برآمدی صنعتوں کی مسابقت بڑھانے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا ذمہ دار آئینی ادارہ ہے، جو امیدواروں کی اہلیت، پیشہ ورانہ تجربے اور عدالتی خدمات کا جائزہ لینے کے بعد ان کے نام تجویز کرتا ہے۔ کمیشن کی سفارشات کے بعد آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر مملکت کی منظوری درکار ہوتی ہے، جس کے بعد تقرریوں کا عمل مکمل ہوتا ہے۔