غزہ کے ’امن‘ کے ایک سال میں کچھ نہیں بدلا

اس سارے عمل نے غزہ پر ایک نئی اسرائیلی جنگ کا راستہ ہموار کر دیا ہے، جس کے بارے میں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ’کام مکمل‘ کر دے گی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان 29 ستمبر 2025 کو جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ میں بچے ایک خیمے میں بیٹھے ہیں (عمر القطا / اے ایف پی)

ایک سال قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت انہوں نے ’بورڈ آف پیس‘ (امن کا بورڈ) کے اپنے تصور کو فروغ دیا، جو جنوری میں حقیقت کا روپ دھار گیا۔ تاہم گذشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 2.45 ارب ڈالر کے نئے اور بڑے منصوبوں کا بڑے دھوم دھام سے اعلان کیے جانے کے باوجود ایک سوال اب بھی قائم ہے: اس ادارے اور اس منصوبے کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ آخر کس طرح لیا جائے جسے نافذ کرنے کے لیے یہ بورڈ قائم کیا گیا تھا؟

اس کے حامی گذشتہ سال 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کی طرف اشارہ کریں گے، جو اس منصوبے کا نتیجہ تھی۔ نظریاتی طور پر یہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن عملی طور پر یہ کبھی حقیقی معنوں میں نافذ ہی نہ ہو سکی اور تقریباً مکمل طور پر یک طرفہ ثابت ہوئی۔ گذشتہ 12 ماہ کے دوران اسرائیل نے غزہ میں کم از کم 1,381 فلسطینیوں کو قتل کیا۔

یہ منصوبہ بنیادی طور پر خامیوں سے بھرپور تھا کیونکہ اس میں اقدامات کی درست ترتیب موجود نہیں تھی اور قابض طاقت یعنی اسرائیل پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تھی۔ منصوبے کے مطابق امداد غزہ تک پہنچنی تھی لیکن بڑی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں، یہاں تک کہ وہیل چیئرز اور مصنوعی اعضا کی ترسیل بھی اسرائیل کی جانب سے روکی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی اب بھی پوچھتے ہیں کہ اسرائیل غزہ سے کب انخلا کرے گا؟ بین الاقوامی استحکام فورس ابھی تک غزہ میں داخل نہیں ہوئی، نہ ہی غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم قومی کمیٹی وہاں پہنچی ہے، جسے بورڈ آف پیس نے مقرر کیا تھا اور جو اس کی نوآبادیاتی طرز کی نگرانی میں علاقے کے روزمرہ انتظام کی ذمہ دار ہے۔

بیس نکاتی منصوبے کی تیاری سے لے کر بورڈ آف پیس کی تشکیل اور اس کے ڈھانچے تک ایک مستقل پہلو یہ رہا کہ فلسطینیوں کو جان بوجھ کر اس پورے عمل سے باہر رکھا گیا اور کسی بھی فلسطینی قومی ایجنڈے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ حماس کو کہا گیا کہ یا تو اس معاہدے کو قبول کرے یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ یہ دراصل ’ہتھیار ڈال دو یا مر جاؤ‘ قسم کا معاہدہ تھا۔

ایک اور پہلو جو مکمل طور پر غائب تھی، وہ تھی جواب دہی یا احتساب۔ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے جرم یا نسل کشی جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے آج بھی کوئی نظام موجود نہیں۔ بورڈ آف پیس نے ان میں سے کسی معاملے پر کچھ نہیں کہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ اس بات پر حیران رہ گئے کہ جنوری تک آتے آتے بورڈ آف پیس نے خود کو صرف غزہ تک محدود رکھنے کی بجائے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کرنا شروع کر دیا جس کے عالمی عزائم تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈ آف پیس کے اہم مقاصد میں سے ایک غزہ کے معاملے میں اقوام متحدہ کے سنجیدہ کردار کو ختم کرنا تھا۔ آج بھی یہ بورڈ یو این آر ڈبلیو اے سے تعاون سے انکار کرتا ہے، حالانکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کی حقیقی صلاحیت رکھنے والا واحد ادارہ یہ ہی ہے۔

افسوس ناک بات یہ تھی کہ بڑی عالمی طاقتیں ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھک گئیں اور گذشتہ نومبر بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حصہ بنا دیا گیا۔ یوں سلامتی کونسل نے عملاً اپنی ذمہ داریاں ایک ایسے ادارے کے حوالے کر دیں جو اس وقت تک وجود ہی نہیں رکھتا تھا اور مکمل طور پر ایک ہی ملک کے رہنما کے کنٹرول میں تھا۔

اب تک عوام کے سامنے جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ غزہ میں روز بروز زیادہ پرتعیش بنتے جائیداد کے منصوبوں کی سلائیڈز ہیں، جن کا فلسطینی عوام کی زندگی، ضروریات اور امنگوں سے بہت کم تعلق ہے۔

یہ بات خود بہت کچھ بیان کرتی ہے کہ بورڈ آف پیس کے بانیوں اور محرک شخصیات میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مسلسل ناکامیوں اور غلط اندازوں پر مبنی ان کے طویل ریکارڈ نے انہیں یہ بتانے سے نہیں روکا کہ فلسطینیوں کو دراصل کس چیز کی ضرورت ہے۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے کہا: ’فری فلسطین‘ کے نعروں کی بات ہوتی ہے، لیکن غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کو کسی نعرے کی نہیں بلکہ ایک حل کی ضرورت ہے۔‘ یہ بات ایسے شخص کی جانب سے آئی جس کے پاس نعروں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ یہ دراصل ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر کے اس نقطہ نظر کا خلاصہ ہے جس کے مطابق فلسطینی آزادی اور حقِ خود ارادیت کے مستحق نہیں، بلکہ انہیں جو کچھ دیا جائے اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔

بورڈ آف پیس اب بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا مقصد فلسطینیوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانا ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (UNCTAD) کے قائم مقام سیکریٹری جنرل پیڈرو مینوئل مورینو نے گذشتہ ہفتے غزہ کی اقتصادی صورت حال کی نہایت تاریک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا: ’غزہ کی معیشت کا انہدام دنیا میں ریکارڈ کی گئی سب سے شدید اقتصادی تباہی ہے۔‘

جہاں تک 2.45 ارب ڈالر کے منصوبوں کا تعلق ہے، اگرچہ تقریباً 18 ارب ڈالر کے وعدے کیے جا چکے ہیں لیکن اب تک صرف 280 ملین ڈالر ہی فراہم کیے گئے ہیں، اور تاحال تعمیرِ نو کے آغاز کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ اس کی بجائے تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں عطیہ دہندگان بھی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آتے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ ناقدین غلط ثابت ہوئے ہیں۔ بورڈ آف پیس ناکام نہیں ہوا بلکہ اپنے معماروں کے لیے ایک شان دار کامیابی ثابت ہوا ہے۔ اس نے صرف نام کی جنگ بندی کے ذریعے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے عالمی دباؤ کو کم کر دیا۔ اسرائیل نہ صرف غزہ سے واپس نہیں ہٹا بلکہ اس نے اپنے براہ راست کنٹرول والے علاقے کو منصوبے کے وقت کے تقریباً 53 سے بڑھا کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچا دیا۔ اس نے اقوام متحدہ اور فلسطینیوں کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ اس نے غزہ کے مسئلے کو مغربی کنارے سے الگ کر دیا، ایسے وقت میں جب برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک ریاستِ فلسطین کو تسلیم کر رہے تھے۔

اس سارے عمل نے غزہ پر ایک نئی اسرائیلی جنگ کا راستہ ہموار کر دیا ہے، جس کے بارے میں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ’کام مکمل‘ کر دے گی۔ ان کے خوفناک تصور کے مطابق جو فلسطینی قتل نہیں ہوں گے انہیں زبردستی غزہ سے نکال دیا جائے گا، جسے وہ خوش نما الفاظ میں ’رضاکارانہ ہجرت‘ قرار دیتے ہیں جبکہ عام زبان میں اسے نسلی تطہیر کہا جاتا ہے۔ یہ ایک لرزا دینے والا منظرنامہ ہے۔

کرس ڈوئل لندن میں قائم کونسل فار عرب برٹش انڈرسٹینڈنگ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ایکس (ٹوئٹر): @Doylech

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ