جنگوں، وباؤں، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت کی جانب سے انسانیت کو لاحق وجودی خطرات اور عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کے باعث عالمی نظام کے بکھرنے جیسے بے مثال عالمی چیلنجز کے درمیان بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اقوام متحدہ اب بھی عالمی سطح پر معاہدوں اور سمجھوتوں کے لیے ایک ضروری پلیٹ فارم ہے؟ مختصر جواب ہے: حقیقتاً نہیں۔
لیکن اس حقیقت سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے: اگر اقوام متحدہ نہیں، تو پھر کیا چیز بڑھتی ہوئی ہٹ دھرمی کی شکار بڑی اور درمیانے درجے کی طاقتوں کے مسائل حل کر سکتی ہے، ایسے وقت میں جب نسلی قوم پرستی اور نام نہاد حب الوطنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کثیرالجہتی نظام، قانون کی حکمرانی اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کو کمزور کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں؟
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سیاسی رہنما اقوام متحدہ کے اس تصور پر پہلے سے کہیں کم یقین رکھتے ہیں، جس کی بنیاد دنیا اور اس کے لوگوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے رکھی گئی تھی۔ اگر یہ رہنما اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی نظریات اور اقدار سے دور ہو گئے ہیں تو پھر اس عالمی ادارے کی اخلاقی ساکھ بھی ایک مؤثر ذریعہ نہیں رہتی۔
اقوام متحدہ کی افادیت پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ موجودہ عالمی ماحول بین الاقوامی مسابقت اور اختلافات سے عبارت ہے۔ یہ ایسا دور ہے جس میں سودے بازی اور یکطرفہ طاقت کا مظاہرہ تعاون کی جگہ لے چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے متعدد ادارے، جنہیں طویل عرصے سے اصلاحات اور موجودہ عالمی حقائق سے ہم آہنگی کی ضرورت رہی ہے، اب محض گفتگو کے مراکز بن کر رہ جائیں گے۔
اس ادارے کے دوبارہ مؤثر بننے کی واحد امید عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے، خواہ انہیں اس کا ادراک ہو یا نہ ہو کہ دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت ایک ایسے درمیانی پل کے طور پر ہے جو ریاستوں کو آپس میں جوڑے رکھے اور مکمل لاتعلقی سے بچائے کیونکہ ایسی صورت میں دنیا جنگل کے قانون اور افراتفری کی طرف جا سکتی ہے۔
1945 کے بعد سے اقوام متحدہ کی کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔ اس کے ناقدین، خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک میں، اسے ایک ایسا آلہ سمجھتے ہیں جو دنیا کے مختلف مسائل کا علاج مغربی ترجیحات کے مطابق تجویز کرتا ہے جبکہ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی ناکامیاں دراصل ان ریاستوں اور معاشروں کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جو مستقل اختلافات کا شکار ہیں۔
امن و امان کو درپیش چیلنجز اور مالی وسائل کی محدودیت نے اس کے مقام کو مسلسل آزمائش میں رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارے سلامتی کونسل کے اندر، ویٹو کا اختیار رکھنے والے پانچ مستقل ارکان نے سرد جنگ کے دور میں مکمل عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
لیکن حالیہ برسوں میں یہ کونسل فلسطین۔اسرائیل تنازع، روس کے یوکرین پر حملے، شام، میانمار اور سوڈان جیسے بحرانوں میں مداخلت کے اقدامات بار بار روک چکی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کروانے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسلسل ناکامی نے ادارے کے اندر اور باہر گہری ناراضی کو جنم دیا۔
برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے منشور میں جارحیت پر عائد پابندیوں کو عالمی طاقتوں نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کی خاطر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بارہا نظرانداز کیا۔
یوکرین پر روس کے حملے اور فروری میں ایران پر حملہ کرنے کے امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل کے سب سے طاقتور ارکان خود کو اب اس کے بنیادی اصولوں کا پابند محسوس نہیں کرتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب امن قائم کرنے کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں تو موجودہ مالی بحران بھی اس ادارے کی ایک دائمی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔ اپنے قیام سے ہی اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں امریکی مالی معاونت بنیادی ستون رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکہ کی بیشتر فنڈنگ ختم کرنے کے فیصلے نے اقوامِ متحدہ کو ایک بے مثال دھچکا پہنچایا اور اس کے عہدیدار سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ مختلف اخراجات کیسے پورے کیے جائیں۔ اگر یہ ادارہ ان ہنگامہ خیز اوقات میں کم از کم بنیادی سطح پر بھی کام جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے نئے مالی انتظامات کی ضرورت ہو گی۔
روایتی طور پر امریکہ اقوام متحدہ کے بنیادی اخراجات کا تقریباً پانچواں حصہ اور نیلے ہیلمٹ والی امن مشنز کے بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عالمی خوراک پروگرام جیسے امدادی اداروں کے بجٹ کا کئی مواقع پر ایک تہائی حصہ بھی برداشت کرتا تھا۔
تاہم صرف امریکہ ہی پیچھے نہیں ہٹا۔ یورپی حکومتوں نے بھی بین الاقوامی ترقی اور انسانی امداد پر اپنے اخراجات کم کیے ہیں جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں نے مالی خلا پُر کرنے کے لیے خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔
مدد کی شدید ضرورت اور رواں سال اقوامِ متحدہ کی جان بچانے والی سرگرمیوں کے لیے کچھ فنڈز جاری ہونے کے باوجود، بڑے امدادی اداروں کو جنوبی سوڈان اور افغانستان جیسے ممالک میں شہریوں کے لیے امداد کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ حساس معاملات پر انتہائی محتاط رویہ اپنائے رکھے گی جبکہ دنیا مسلسل خطرناک موڑ کے قریب پہنچتی جا رہی ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ جلد منتخب ہونے والا نیا سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کی اقدار اور اخلاقی ساکھ کو بروئے کار لا کر دنیا کی امن کی تلاش میں رہنمائی کر سکے گا۔
لیکن خدشہ یہ بھی ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کے طریقہ کار پر دائمی اختلافات، ترقیاتی منصوبوں اور غریب ممالک کی مدد کے مالی بوجھ کو اٹھانے پر تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے اخراجات جیسے مسائل بدستور اقوام متحدہ کے لیے دردِ سر بنے رہیں گے۔
مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار کا امکان بھی اقوامِ متحدہ اور پوری دنیا کے لیے ایک اور آزمائشی موضوع ہے کیونکہ اس پر حکومتوں اور بڑی کمپنیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں گے۔ حکومتوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ایک بڑا کام ضرور ہے، لیکن اس سے بھی بڑا چیلنج اقوامِ متحدہ کے اس پیچیدہ مذاکراتی طریقہ کار پر اعتماد بحال کرنا ہے جو مختلف ممالک کے مفادات میں توازن پیدا کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں بہت سی حکومتیں اقوامِ متحدہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے چھوٹے گروپوں کے ذریعے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، چاہے وہ پرانے اتحاد ہوں یا نئے، جیسے مغربی ممالک کا جی سیون (G7) اور نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں کا اتحاد برکس (BRICS)۔
اگر یہ رجحان برقرار رہا اور عالمی طاقتوں کے درمیان کوئی نیا معاہدہ سامنے نہ آیا، تو اقوام متحدہ کی حیثیت مزید کمزور رہے گی اور اس کا مستقبل غیر یقینی رہے گا۔ 81 سال پرانے اس ادارے کے خاتمے کا تصور اب کوئی عجیب بات نہیں رہا کیونکہ بہت سے ممالک اپنے مفادات کو اولین ترجیح دینے پر مصر دکھائی دیتے ہیں۔
نتیجتاً انسانی حقوق، قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اور کثیرالجہتی تعاون جیسے اصول ہر تقریر، ہر ٹویٹ اور ہر ایسے زہریلے بیانیے کے ساتھ مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں جو مفاہمت اور تعاون کو ترجیح دینے کی ہر کوشش کو متاثر کرتا ہے۔
محمد شبارو ایک برطانوی لبنانی صحافی ہیں جنہیں جنگ، دہشت گردی، دفاع، عالمی امور اور سفارت کاری کی رپورٹنگ کا 25 سال سے زیادہ تجربہ ہے۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
