کولہاوا نے اس شعبے میں آنے کے لیے ایک غیر معمولی راستہ اختیار کیا۔ وہ پہلے فنانس کے شعبے میں کام کرتی تھیں اور اس کے بعد پیسٹری شیف بن گئیں۔
ماہرین کے مطابق روس یا طالبان نے فوجی تعاون کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن اس بات کا امکان نہیں کہ یہ شمالی کوریا کے ماڈل جیسا ہو۔