پوتن کی رہائش گاہ پر ’حملے‘ کی اطلاعات، شہباز شریف کی مذمت

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب امن کے لیے کی جانے والی کوششیں جاری ہیں، ایسا ’گھناؤنا‘ فعل امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

31 اگست 2023 کو روس کے روسچینو، نووگوروڈ ریجن میں سیٹلائٹ کی تصاویر میں ولادی میر پوتن کا رہائشی کمپلیکس دکھایا گیا ہے (روئٹرز)

روس نے پیر کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے صدر ولادی میر پوتن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی تاہم یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ایک بیان میں صدر پوتن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا گھناؤنا عمل امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امن کے لیے کی جانے والی کوششیں جاری ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان روسی صدر، حکومت اور وہاں کی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ’ہم ہر قسم کے تشدد اور ایسے اقدامات کی دوبارہ سختی سے نفی کرتے ہیں جو سلامتی کو نقصان پہنچانے اور امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوں۔‘

روس اور یوکرین کے درمیان پیر کو سخت بیانات کا تبادلہ سامنے آیا ہے جن میں روس کا یہ بیان بھی شامل تھا کہ مبینہ حملے کے ردعمل میں وہ مذاکرات کے بارے میں اپنے مؤقف پر نظر ثانی کر رہا ہے جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس الزام کا مقصد تھکا دینے والے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پوتن نے پیر کی صبح فون پر انہیں مبینہ حملے کے بارے میں بتایا، جس پر وہ شدید برہم تھے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ نے اپنی اس رائے کو دہرایا کہ امن معاہدہ ممکنہ طور پر قریب ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ’جارحیت ایک بات ہے، لیکن ان کے گھر پر حملہ کرنا بالکل مختلف بات ہے۔ اس وقت ایسے کسی اقدام کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اور مجھے اس کی اطلاع آج صدر پوتن سے ملی۔ میں اس پر بہت ناراض ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر ٹرمپ نے اتوار کو فلوریڈا میں یوکرینی صدر ولادی میر زیلینسکی سے ملاقات کی تھی اور امریکی صدر نے کہا کہ وہ ’امن معاہدے کے بہت قریب، شاید بہت زیادہ قریب‘ ہیں۔

روسی صدر پوتن کی فون کال کے بعد ٹرمپ نے پام بیچ، فلوریڈا میں اپنے گھر کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں مبینہ حملے کے بارے میں مزید کوئی معلومات نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ سب پسند نہیں آیا، یہ اچھا نہیں ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پاس اس طرح کے کسی حملے کا ثبوت ہے، تو ٹرمپ نے کہا ’ہم معلوم کر لیں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا