امریکی سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بدھ کو ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی مہم کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسی دو فریقی قرارداد کو روکنے کے لیے ووٹ دیا جس کا مقصد ایران کے خلاف فضائی جنگ کو روکنا اور یہ لازمی قرار دینا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے۔
سینیٹ نے قرارداد کو آگے نہ بڑھانے کے حق میں 53 کے مقابلے میں 47 ووٹ دیے، جو بڑی حد تک جماعتی بنیادوں پر تھے۔ ایک رپبلکن رکن کے سوا سب نے اس طریقہ کار کی تحریک کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ ایک کے سوا تمام ڈیموکریٹس نے اس کی حمایت کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی افواج کی بار بار تعیناتی کو لگام دینے کے لیے ڈیموکریٹس اور چند رپبلکنز کی اس تازہ ترین کوشش، یعنی وار پاورز ریزولوشن (جنگی اختیارات کی قرارداد) کو اس کے حامیوں نے جنگ کا اعلان کرنے کی کانگریس کی ذمہ داری واپس لینے کی کوشش قرار دیا۔
مخالفین نے اسے مسترد کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ ٹرمپ کا اقدام قانونی ہے اور محدود حملوں کا حکم دے کر امریکہ کا دفاع کرنا کمانڈر انچیف کے طور پر ان کا حق ہے۔ انہوں نے قرارداد کے حامیوں پر امریکی افواج کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین اور ایڈاہو سے رپبلکن سینیٹر جم رِش نے قرارداد کے خلاف اپنی تقریر میں کہا: ’یہ کوئی ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ نہیں ہے، اور حقیقت میں اس کے قریب بھی نہیں ہے۔ یہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔‘
اس اقدام کی کامیابی کی توقع نہیں تھی۔ ٹرمپ کے ساتھی رپبلکن کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے، اور وہ اس سے قبل بھی ان کے جنگی اختیارات کو کم کرنے کی قراردادوں کو روک چکے ہیں۔
قرارداد کے حامیوں کا کہنا تھا کہ وہ ہار نہیں مانیں گے، اور یہاں تک کہ اسے روکنے کے لیے ووٹ دینے والے کچھ ریپبلکنز نے بھی کہا کہ وہ انتظامیہ کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر ٹرمپ کے معاونین سے عوامی سطح پر گواہی دینے پر زور دیں گے، خاص طور پر اگر یہ تنازع ہفتوں تک جاری رہتا ہے، جیسا کہ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کی جانب سے فوجی اثاثوں میں اضافے، اور ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بارے میں ہونے والی بحث اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ آیا ٹرمپ ملک کو عراق اور افغانستان کے طویل تنازعات کی طرح ایک اور ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ میں دھکیل رہے ہیں۔
قرارداد کے شریک حامی اور نیویارک سے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا، ’آج سینیٹرز کے سامنے دو راستے ہیں، یا تو وہ ان امریکی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں جو مشرق وسطیٰ میں جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، یا پھر ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھ دیں، جنہوں نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس کی زیادہ تر امریکی سخت مخالفت کرتے ہیں۔‘
نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے پاس جانے کے پیش نظر، ایران کی طویل جنگ ووٹرز کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز/اپسوس کے ایک پول سے ظاہر ہوا کہ چار میں سے صرف ایک امریکی نے ایران پر امریکی حملوں کی منظوری دی اور تقریباً آدھے لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے بہت زیادہ تیار رہتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران مہم کے علاوہ، امریکی افواج ستمبر سے جنوبی کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں کشتیوں پر فائرنگ کر رہی ہیں جسے انتظامیہ وینزویلا کی منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔ ٹرمپ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے بھی وہاں فوج بھیجی تھی۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور پورے مشرق وسطیٰ میں تباہی کا باعث بن چکی ہے، اور اس میں امریکی جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
قرارداد کی حمایت پر زور دیتے ہوئے ایک تقریر میں اس کے مرکزی حامی اور ورجینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے کہا: ’یہ ایک جنگ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے منگل کو قانون سازوں کے لیے ایک خفیہ بریفنگ کے دوران ٹرمپ کے حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ کی منظوری کے لیے کانگریس میں آئیں۔ کین نے کہا: ’ہماری منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کے آپ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کا ماننا ہے کہ آپ کو کہیں بھی، کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے کانگریس میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
ایوان کی جانب سے جمعرات کو ایران کے حوالے سے جنگی اختیارات کی ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے۔
منگل کو لوزیانا سے تعلق رکھنے والے رپبلکن ہاؤس سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ ان کے خیال میں ایوان میں قرارداد کو شکست دینے کے لیے کافی ووٹ موجود ہیں۔ انہوں نے اسے ایک ایسی چیز کو مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا جو امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور ایرانی افواج کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے۔
انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایران تنازع پر خفیہ بریفنگ کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا: ’ایک ایسی صورت حال کا تصور کریں جہاں کانگریس ووٹ دے کر کمانڈر انچیف کو یہ بتائے کہ انہیں مزید اس مشن کو مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک بہت خطرناک بات ہو گی۔‘
یہاں تک کہ اگر کوئی قرارداد سینیٹ اور ایوان دونوں سے منظور ہو بھی جاتی ہے، تو وہ اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہو گی جب تک کہ اسے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہو تاکہ وہ ٹرمپ کے متوقع ویٹو سے بچ سکے۔