گلگت بلتستان انتخابات پر انڈیا کا بیان مسترد کرتے ہیں: پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے کو انڈین وزارت خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں گلگت بلتستان کے عام انتخابات پر ’سخت احتجاج‘ کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ اسلام آباد کے بیرونی دروازے سے 21 فروری 2022 کو ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی ہے (سہیل اختر/ انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعے کو انڈین وزارت خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں گلگت بلتستان کے عام انتخابات پر ’سخت احتجاج‘ کیا گیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے متعلق انڈیا کے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کو واضح اور دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔‘

بیان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ انڈیا جھوٹی خبروں اور من گھڑت بیانیے کو فروغ دینے میں ایک عالمی سطح پر بدنام شہرت رکھتا ہے، اور اس کے حالیہ الزامات حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک پرانی اور منظم کوشش کا تسلسل ہیں۔

’پاکستان ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی اہمیت کے قابل نہیں سمجھتا۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’پاکستان ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈیا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

’یہ تنازع، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے طویل عرصے سے حل طلب مسئلہ ہے، 1947 میں انڈین افواج کے ناجائز اور زبردستی قبضے سے شروع ہوا۔’

بیان کے مطابق ’اس مسئلے کا واحد منصفانہ اور دیرپا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد میں مضمر ہے، جن کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’گلگت بلتستان کے حوالے سے انڈیا کے بے بنیاد دعوے دراصل دنیا کی توجہ اس سنگین حقیقت سے ہٹانے کی کوشش ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین قابض افواج انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

’سخت اور جابرانہ قوانین کے تحت انڈین افواج کو حاصل استثنیٰ دراصل ایک اور پہلو ہے اس ریاستی دہشت گردی کا، جو نہتے کشمیری عوام پر ڈھائی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان انڈین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے، 5 اگست 2019 کے بعد اٹھائے گئے تمام غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے، جابرانہ قوانین کا خاتمہ کرے، اور غیر جانبدار مبصرین، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو زمینی حقائق کا جائزہ لینے کی اجازت دے۔

’مزید یہ کہ انڈیا کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرے۔‘

اس سے قبل جمعے کو ہی انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے سات جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔

بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان