’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی نو نشستیں ختم کرنے کا مقصد سارا اختیار لاہور میں رکھنا ہے‘

پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے ڈپٹی سیکرٹری کی نو سیٹیں ختم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کے دفتر کے باہر لگی ایک تختی (محمد نوید)

پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے ڈپٹی سیکرٹری کی نو سیٹیں ختم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد انتظامی سیکرٹریٹ کو غیر فعال کیے جانے پر مقامی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل مارچ 2021 میں بھی سات محکموں کے سیکرٹریز واپس بلائے گئے تھے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے الگ صوبے کے بجائے 2020 میں جنوبی پنجاب کی ساڑھے چار کروڑ آبادی کے لیے ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کر دیا۔ یہاں الگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور 20 محکموں کے ڈپٹی یا ایڈیشنل سیکرٹری تعینات کیے گئے۔

لیکن پی ٹی آئی کے ہی دورِ حکومت میں ایک سال بعد، 2021 میں، سات مختلف محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز واپس سول سیکرٹریٹ بلا لیے گئے۔

محکمہ خزانہ پنجاب نے 22 جولائی کو جاری نوٹیفکیشن میں بتایا کہ یہ آسامیاں مالی سال 2026-27 کے دوران اخراجات میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تنظیم کے فیصلے کے تحت فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔

جن محکموں میں ڈپٹی سیکرٹری کی آسامیاں ختم کی گئی ہیں، ان میں بلدیاتی حکومت، خزانہ، خدمات و عمومی انتظامیہ اور قانون کے محکمے شامل ہیں۔

سول سیکرٹریٹ کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے نو ڈپٹی سیکرٹریز کی سیٹیں ختم کرنا پالیسی سازوں کا فیصلہ ہے۔

’ایسا نہیں ہے کہ صرف جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے ہی سیٹیں ختم ہوئی ہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کے تحت سول سیکرٹریٹ اور کئی دوسرے محکموں سے بھی سیٹیں ختم کی گئی ہیں۔ سیٹیں ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیکرٹریٹ غیر فعال ہو گیا ہے، البتہ جو ضروری کام ہیں وہ جاری رہیں گے۔‘

اس سیکرٹریٹ کا مسائل کے حل میں کردار

پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب میں انتظامی طور پر دور دراز شہروں سے لاہور میں واقع مرکزی سیکرٹریٹ تک پہنچنا ہمیشہ دشوار رہا ہے۔

اسی لیے جنوبی اضلاع کے لوگوں کی سہولت کے لیے اس وقت کی حکومت نے یہ سیکرٹریٹ قائم کیا۔ تاہم یہاں کے مقامی رہنماؤں نے اسے مسائل کے حل میں زیادہ مؤثر نہیں سمجھا۔

سرائیکیستان وطن پارٹی کے چیئرمین ظہور دھریجہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والوں کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

’یہاں قدیم اور الگ ثقافت کی امین ایک بڑی آبادی موجود ہے، لیکن ہمیں اپنی شناخت کے مطابق سرائیکستان صوبہ بنانے کا لولی پاپ دے کر ہر الیکشن میں ووٹ لیے جاتے ہیں۔ پھر پی ٹی آئی حکومت نے سیکرٹریٹ بنا کر صوبے کی تحریک کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے یہاں کل 20 محکموں کے سیکرٹری تعینات کیے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری، جو آج کل چیف سیکرٹری پنجاب ہیں، کو تعینات کیا۔ مگر ایک سال بعد ہی سات ایڈیشنل سیکرٹری واپس بلا لیے گئے۔ اب موجودہ حکومت نے نو ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے ہی ختم کر دیے ہیں۔ جو تھوڑا بہت کام ہو بھی رہا تھا، وہ بھی دوبارہ لاہور سے ہوگا۔‘

جنوبی پنجاب کے تجزیہ کار رضی الدین رضی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’اس سیکرٹریٹ سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے جن کے لیے اسے بنایا گیا تھا، کیونکہ یہاں کوئی بڑا انتظامی فیصلہ، تبادلہ یا فنڈز کی منظوری لاہور کی اجازت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ البتہ سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر کچھ کام ہوتے رہے ہیں۔‘

ظہور دھریجہ نے کہا کہ ’برسرِ اقتدار لوگ ہمیشہ سے طاقت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ مقتدر حلقوں اور سیاست دانوں کی لڑائی بھی ہمیشہ اقتدار کے لیے رہی ہے۔

’عوامی حقوق کی صرف باتیں اور دعوے کیے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبے کی آواز ہر الیکشن میں دبانے کے لیے یہاں لوگوں کو ٹکٹ اور مراعات دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’یہاں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی بلکہ لوگوں کو بہلا پھسلا کر کام چلایا جاتا رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ ہم سیکرٹریٹ کو غیر فعال کرنے اور صوبے کے قیام کے لیے عملی اقدامات نہ ہونے کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل بنائیں گے۔ الگ صوبے کے قیام تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔‘

بقول رضی الدین رضی ’طاقت کا سرچشمہ پہلے عوام کو کہا جاتا تھا، مگر اب حکومت کی طاقت چند بیوروکریٹس ہیں۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ دراصل سول سیکرٹریٹ کا ایک ذیلی شعبہ ہے، جہاں اب بھی ہر کام لاہور کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں کے لوگ "اساں قیدی تختِ لاہور دے" کا نعرہ لگانے پر مجبور ہیں۔‘

انتظامی ماہرین کے مطابق ان آسامیوں کے خاتمے سے سیکرٹریٹ کے امور کی انجام دہی، فیصلہ سازی اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام انتظامی اصلاحات اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کیا گیا ہے۔

ظہور دھریجہ نے کہا کہ ’حکمران جماعت نے لوگوں کو لالی پاپ دینے کے لیے یہاں ایک غیر سنجیدہ اور بے اختیار سیکرٹریٹ بنایا۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، خزانہ، ثقافت اور اطلاعات جیسے اہم محکمے تو بنائے ہی نہیں گئے، مگر جو 20 محکمے بنائے گئے تھے۔

’ان میں سے بھی سات محکموں کے سیکرٹریوں کو واپس بلا لیا گیا اور جواز یہ دیا گیا کہ قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے جسے سیکرٹریٹ بنانے کی اتنی جلدی تھی مگر اس کا قانونی ڈھانچہ ہی مکمل نہیں کیا گیا؟‘

ظہور دھریجہ کے مطابق، ’اس سیکرٹریٹ کے مکمل طور پر فعال ہونے سے پہلے ہی اسے خود غیر فعال کیا جا رہا ہے، جو خطے کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہے۔

’حکومت نے اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے کوئی ایک بھی سنجیدہ کوشش کی ہے تو اس کا ثبوت پیش کرے، کیونکہ عوام کے سامنے تو کچھ نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پہلے ہی اسمبلیوں میں قراردادیں پیش کر چکی ہیں، پھر حکومت کیسے دعویٰ کرتی ہے کہ اپوزیشن صوبے کے قیام پر ساتھ نہیں دیتی؟‘

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر الگ صوبوں کے مطالبات کئی دہائیوں سے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم سب سے مؤثر آواز جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے اٹھائی جاتی رہی ہے۔

کئی برسوں سے یہاں کے مقامی رہنما اس کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ متعدد بار پنجاب اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں قومی اسمبلی سے بھی قراردادیں منظور ہوئیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست