جنوبی پنجاب سے سیلابی ریلے گزرنے کے بعد سندھ میں گدو بیراج پر ’سپر فلڈ‘ کا امکان

حکام کے مطابق سیلابی ریلے بالائی پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد اگلے 56 گھنٹوں میں پنجند پہنچیں گے، جس کے بعد یہ پانی گدو کے مقام پر سندھ کی حدود میں داخل ہو جائے گا، جہاں ’سپر فلڈ‘ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام نے ہفتے کو بتایا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلابی ریلے بالائی پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد اگلے 24 سے 56 گھنٹوں میں ہید سدھنائی اور محمد والا کے بعد پنجند پہنچیں گے، جس کے بعد یہ پانی گدو کے مقام پر سندھ کی حدود میں داخل ہو جائے گا، جہاں ’سپر فلڈ‘ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے ستلج میں ساڑھے تین لاکھ، چناب میں نو لاکھ جبکہ راوی میں دو لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پانی پہنچا، جس نے خطرناک سیلابی صورت حال پیدا کی، پنجاب میں لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی اور بڑی تعداد میں زرعی اور مالی نقصان ہوا۔

محکمہ فلڈ فورکاسٹ کنٹرول روم کے مطابق انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑنے سے پہلے الرٹ میں مقدار کی بجائے صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ اونچے درجے کا سیلابی ریلا داخل ہو رہا ہے۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’دریائے ستلج جس میں تین لاکھ کیوسک سے زائد پانی ہے، وہ گنڈا سنگھ قصور سے گزر کر پاکپتن اور پھر بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند پہنچے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح ’دریائے راوی میں آنے والا دو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلا ہیڈ سدھنائی کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہوگا۔ دریائے چناب میں دریائے جہلم اور راوی کا پانی شامل ہونے سے ہیڈ محمد والا ملتان میں سات سے ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک پانی کا بڑا ریلا بن جائے گا۔‘

حکام نے ہیڈ محمد والا میں پہنچنے والے سیلابی ریلے سے ملتان اور مظفر گڑھ کے شہری علاقوں کو بچانے کے لیے بندوں میں شگاف ڈالنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے بقول: ’ہیڈ محمد والا میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہونے پر ملتان اور مظفر گڑھ کے شہری آبادیوں کو بچانے کے لیے محمد والا کے قریب بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل ہے، کیونکہ انتہائی اونچے درجے کے اس سیلاب سے شیر شاہ پل کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے دریائے چناب میں پانی کی سطح زیادی بلند ہونے پر جھنگ اور شور کوٹ کی آبادیوں کو بچانے کا بھی انتطام کر لیا گیا ہے۔‘

دریائے چناب اور راوی کا پانی ملتان ہیڈ محمد والا سے ہوتا ہوا ہیڈ پنجند کے مقام پر پہنچے گا، جہاں دریائے ستلج کا پانی بھی آرہا ہوگا۔  عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ’اس مقام پر پانی کی سطح سات سے ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک ہوگی جو کہ خطرناک حد ہے۔ اس کے بعد پنجند سے علی پور اور رحیم یار خان کے مقام سے ہوتا ہوا یہ بڑا ریلا گدو بیراج کے مقام پر دریائے سندھ سے ملتا ہے جہاں اس کی مقدار نو سے ساڑھے 10 لاکھ کیوسک ہو جائے گی۔‘

فلڈ فورکاسٹ کنٹرول روم کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا گیا کہ ’ہیڈ محمد والا میں پانی کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ساڑھے سات لاکھ کیوسک جبکہ ہیڈ پنجند میں گنجائش سات لاکھ ہے، اسی طرح گدو بیراج میں ساڑھے 12 لاکھ کیوسک تک پانی برداشت کرنے کی گنجائش ہے۔‘

اس لیے کہا جا رہا ہے کہ گدو بیراج پر ’سپر فلڈ‘ کا امکان ہے، جس کے حوالے سے پنجاب حکومت نے سندھ حکومت کو آگاہ کر دیا ہے اور سندھ حکومت کے مطابق پانی کی زیادہ آمد کے پیش نظر انتظامات کیے جارہے ہیں۔

صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے جمعے کو سکھر کے مقام پر گدو بیراج کے دورے کے موقعے پر کہا کہ ’بارشیں اگر مزید ہو بھی جائیں تو کسی بڑے خطرے کی بات نہیں، تمام بچاؤ بند مضبوط ہیں اور پانی بہ آسانی گزرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’سپر فلڈ کے لیے تیاری مکمل ہے اور فوری طور پر کسی خطرے کی صورت حال نہیں۔‘

پنجاب میں سیلاب سے نقصانات اور امدادی سرگرمیاں

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی جانب سے دریائے راوی ستلج اور چناب میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبے بھر سے سیلاب میں پھنس جانے والے 4 لاکھ 81 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 30 شہری جان سے چلے گئے۔لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں ایکر فصلیں تباہ ہوچکی ہیں لہذا کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔

شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس اور 351 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔

اسی طرح مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 321 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

مون سون کا نواں سپیل

محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب میں مون سون کا نواں سپیل شروع ہوچکا ہے، جس کے تحت گذشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔

ادارے کے مطابق یہ نیا سپیل دو ستمبر تک جاری رہے گا۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان