سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر صوبائی حکومت کی تیاریاں کتنی مکمل؟

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق گدو اور سکھر مقامات پر چار اور پانچ ستمبر کو بہت اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر صوبائی مون سون کنٹیجنسی پلان 2025 پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

19 اگست 2025 کو کراچی میں شدید بارش کے بعد سڑک کے کنارے سیلابی پانی میں جزوی طور پر ڈوبی ہوئی موٹر سائیکلوں کے قریب مرد کھڑے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)

سندھ کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی جام خان شورو کے مطابق پنجاب کے مختلف دریاؤں میں سیلاب اور متعدد شہروں میں سیلابی صورتِ حال کے بعد سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سندھ حکومت نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور مختلف وزرا کو دریائے سندھ کی نگرانی کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے کے ساتھ بندوں کی 24 گھنٹے نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو ہر وقت نگرانی کر رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ پنجاب میں شدید سیلاب کے بعد سندھ میں سیلاب کا کتنا خطرہ ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ پنجاب کے مختلف علاقوں اور دریاؤں کا پانی پنجند پہنچنے کے بعد کیا جا سکے گا۔

جام خان شورو کے مطابق: ’پنجاب کے مختلف دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال ہے، ان دریاؤں کا پانی ایک سے دو روز میں پنجند تک پہنچے گا۔ پنجند کے مقام پر جمع ہونے والے پانی سے اندازہ ہوگا کہ سندھ میں سیلاب کی صورتحال کیا ہوگی۔‘

’پنجند کا پانی دریائے سندھ کے ذریعے سندھ تک آنے میں دو دن لے گا۔ اس دوران اگر سیلاب کا ممکنہ خطرہ ہوا تو صوبائی حکومت کی تیاریاں مکمل ہیں۔ ان دو دنوں کے دوران فیصلہ کیا جائے گا کہ کن علاقوں سے لوگوں کا انخلا کیا جائے۔‘

جام خان شورو کے مطابق اس وقت سندھ کے بیراجوں بشمول گدو اور سکھر بیراج پر گنجائش سے کم پانی کا بہاؤ ہے۔ ’اس وقت گدو اور سکھر بیراجوں پر تقریباً تین، تین لاکھ کیوسک کا بہاؤ ہے۔‘

جام خان شورو کے مطابق دریائے سندھ کے بندوں کی نگرانی کے لیے محکمہ آبپاشی کی باضابطہ ایس او پیز ہیں جن کے تحت ٹیمیں بندوں کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اعلیٰ سطحی اجلاس  جمعرات کی شام کو منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں سیلاب سے متعلق تیاریاں کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پنجاب میں حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں اور محکمہ موسمیات  کی تازہ وارننگز کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں فوری اقدامات کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔

صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے سیکریٹری آبپاشی کے ہمراہ بیراج کا دورہ کیا اور موجودہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا۔ 

بعد ازاں سکھر بیراج پر صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور اب اس کا رخ سندھ کی جانب ہے، تاہم سندھ حکومت مکمل طور پر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اگر ایک رات میں سات آٹھ لاکھ کیوسک پانی آجائے تو کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے نہ صرف سیلابی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا ہے بلکہ پنجاب حکومت کو مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ ان کے مطابق سکھر سمیت سندھ میں اس وقت خطرناک صورتحال نہیں، حالات بہتر اور قابو میں ہیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم جیسےمتنازع منصوبوں کو بار بار زندہ کیا جاتا ہے اور سندھ پر تنقید کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دیامر اور بھاشا ڈیم زیر تعمیر ہیں، اور ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو اختلافات نہیں بلکہ یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی، محکمہ آبپاشی کے افسران اور چائنیز ماہرین بھی موجود تھے

گدو اور سکھر بیراج کے مقام پر سیلاب کا خطرہ

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دریائے سندھ کے گدو اور سکھر مقامات پر 4 اور 5 ستمبر کو بہت اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر تمام ادارے چوکس رہیں اور صوبائی مون سون کنٹیجنسی پلان 2025 کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اس سے قبل سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سندھ حکومت نے سیلابی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے مختلف صوبائی وزرا کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی کو ایک ہفتے تک اپنے حلقے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر محمد بخش مہر اور وزیرِ ایکسائز مکیش کمار کو گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان سیلابی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

سکھر بیراج سے کوٹری بیراج کے لیے جام اکرام اللّٰہ دھاریجو اور وزیرِ توانائی ناصر شاہ کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ کوٹری ڈاؤن اسٹریم کے لیے وزیرِ اوقاف ریاض شاہ شیرازی اور محمد علی ملکانی کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے فوکل پرسنز کو وزیرِ آبپاشی جام خان شورو کے ساتھ سیلاب کے خطرات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ اعلامیے کے مطابق فوکل پرسنز کو دریائے سندھ کے بندوں کی نگرانی کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سندھ حکومت نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے رہائش کے لیے ٹینٹس، پانی کے لیے جیری کینز اور مچھروں سے بچانے والی کٹس کا بندوبست کر لیا ہے۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق سیلاب کے پیش نظر تمام انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور سیلاب کی صورت میں لوگوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

بقول شرجیل انعام میمن: ’سندھ میں اب تک کوئی خراب صورتحال نہیں ہے، اس کے باوجود صوبائی پی ڈی ایم اے نے سیلاب کے لیے تمام انتظامات کر لیے ہیں۔ سیلاب کے پیش نظر وزیرِ اعلیٰ سندھ نے مختلف وزرا کی ڈیوٹیاں لگائی ہیں کہ وہ دریا کے بندوں کی نگرانی کریں۔ منتخب نمائندوں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سب اپنے اپنے حلقوں میں رہیں۔‘

’سیلاب کے ساتھ اگر تیز بارش ہوئی تو مشکلات ہو سکتی ہیں۔ اس حوالے سے مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔‘

سیلاب کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ

سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر سندھ حکومت نے صوبے میں سیلاب کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ لازمی خدمات فراہم کرنے والے تمام محکموں بشمول آبپاشی، بلدیات، صحت، پولیس، پبلک ہیلتھ، لائیو اسٹاک اور فیلڈ افسران کے دفاتر کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کے مطابق: ’پنجاب میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث سندھ میں بھی بڑے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، اس لیے صوبے بھر میں تمام تیاریاں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائیں۔ صوبائی انتظامیہ سیلاب کی صورتحال کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کر رہی ہے اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔‘

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے صوبے میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر مختلف صوبائی محکموں کے افسران کے ساتھ جمعرات کو اجلاس کرتے ہوئے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ جامع ہنگامی منصوبے (Contingency Plans) مرتب کریں جن میں عوام اور مال مویشیوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام سرکاری و نجی مشینری اور دستیاب وسائل کی تفصیلات مرتب کی جائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر استعمال میں لائی جا سکیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف سیکریٹری آفس، کمشنر آفسز اور ڈپٹی کمشنر آفسز میں کنٹرول رومز قائم کیے جائیں گے تاکہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جا سکے۔

چیف سیکریٹری نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ ملیریا اور دیگر آبی بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات اور ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سانپ کے کاٹے کے لیے اینٹی وینم ویکسین اور ریبیز ویکسین بھی ہسپتالوں اور صحت مراکز پر وافر مقدار میں دستیاب ہوں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محکمہ لائیو سٹاک کو ہدایت دی گئی کہ مویشیوں کی ویکسینیشن فوری طور پر مکمل کی جائے تاکہ سیلابی صورتحال میں ان کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ چیف سیکریٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ پاک فوج، نیوی، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں تاکہ بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے جا سکیں۔

مزید برآں، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا کہ وہ ذاتی طور پر دریا کے کنارے والے علاقوں کا دورہ کریں اور زمینی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیں۔

چیف سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ کمشنرز متاثرہ آبادی اور ریسکیو سرگرمیوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں جس میں انخلا کی حکمت عملی، ریلیف کیمپس اور ایمرجنسی سپورٹ سسٹمز پہلے سے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور فعال اقدامات انسانی جانوں اور مویشیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

چیف سیکریٹری نے ریسکیو 1122 اور سندھ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تمام دستیاب کشتیوں، ریسکیو آلات، ادویات، خیموں اور دیگر سامان کی تفصیلات فوری طور پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان وسائل کو بروئے کار لایا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 188 ریسکیو کشتیاں دستیاب ہیں تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

چیف سیکریٹری نے مزید ہدایت دی کہ ڈپٹی کمشنرز مقامی وینڈرز کی نشاندہی اور ان سے رابطہ قائم کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر اضافی کشتیاں فوری طور پر فراہم کی جا سکیں اور ریسکیو و انخلا کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ یہ پیشگی اقدامات عوام کو بروقت مدد اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان کی صدارت میں دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے سکھر کے پاس 19 کشتیاں، 2800 لائف جیکٹس اور دیگر ضروری سامان موجود ہے، جبکہ ریسکیو 1122 سکھر کے پاس چار کشتیاں اور 50 لائف جیکٹس دستیاب ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان