پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 200 سے زائد بچے جان سے گئے: سیو دی چلڈرن

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے بتایا ہے کہ جون کے آخر سے پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث 200 سے زیادہ بچے جان سے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں سکول جانے سے محروم ہیں۔

 27 اگست 2025 کی اس تصویر میں پنجاب کے ایک قصبے نارووال کے سیلاب زدہ علاقے سے ایک خاندان کے افراد گزر رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے بتایا ہے کہ جون کے آخر سے پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث 200 سے زیادہ بچے جان سے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں سکول جانے سے محروم ہیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق جون سے لے کر اب تک بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں ملک بھر میں اب تک 800 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، جن میں 200 سے زائد بچے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں تقریباً 10 لاکھ افراد متاثر ہیں اور یہ تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ پنجاب کے دریاؤں سے سیلابی پانی سندھ میں داخل ہونے کے قریب ہے، جو 2022 کے تباہ کن سیلاب کا مرکز رہا ہے۔

سیو دی چلڈرن 1979 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور 2022 کے سیلاب میں سب سے پہلے ردعمل دینے والی بین الاقوامی این جی او تھی، جس نے 11 لاکھ سے زائد متاثرین تک رسائی حاصل کی، جن میں چھ لاکھ بچے شامل تھے۔

ادارے کے مطابق حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پنجاب میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے دو ہفتے بعد بھی سکول واپس نہیں جا سکے، حالانکہ گرمیوں کی تعطیلات ختم ہو چکی ہیں۔ صوبے میں پانچ سے 13 برس کی عمر کے بچوں کے لیے پرائمری سکول، جو کُل سکولوں کا تقریباً 70 فیصد ہیں، بدستور بند ہیں۔

خیبر پختونخوا میں رواں ماہ شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سکول ایک ہفتے تک بند رہے۔ ان واقعات میں کم از کم 479 اموات ہوئیں جبکہ 674 سکول تباہ یا شدید متاثر ہوئے اور کئی کلاس رومز مٹی اور ملبے سے بھر جانے کے باعث ناقابل استعمال ہیں۔

سیو دی چلڈرن نے خیبر پختونخوا میں ان بچوں کے لیے عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں جو تباہ شدہ کلاس رومز میں واپس نہیں جا سکتے، تاکہ ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔ یہ ادارہ متاثرہ خاندانوں کو گھریلو اور حفظانِ صحت کی کٹس بھی فراہم کر رہا ہے اور موبائل ہیلتھ اور نیوٹریشن کلینکس بھی چلا رہا ہے۔

بقول رابعہ رؤف: ’ہمارے عارضی لرننگ سینٹرز اور چائلڈ فرینڈلی مقامات نہ صرف سیکھنے کے مواقع دیں گے بلکہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو نفسیاتی مدد بھی فراہم کریں گے۔‘

خیبر پختونخوا سے سیو دی چلڈرن کی پروگرام آپریشن مینیجر رابعہ رؤف نے کہا: ’میں نے ایسی جگہیں دیکھی ہیں جہاں آدھا گاؤں بڑے پتھروں کے نیچے دب گیا ہے اور لوگ اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک کمیونٹی لیڈر نے مجھے بتایا کہ ایک ہی گاؤں میں 200 جانیں ضائع ہوئیں جب بے قابو پانی، پتھروں اور ملبے کے ریلے اچانک پہاڑوں سے نیچے اتر آئے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’گھروں میں سلٹ اور گارا بھرا ہوا ہے۔ سیلاب نے چند ہی سیکنڈز میں بچوں اور ان کے خاندانوں کی ہر چیز تباہ کر دی، جن میں تعلیمی سامان اور کتابیں بھی شامل تھیں۔ پانی آیا اور چلا گیا لیکن تباہی باقی ہے۔ بچے صدمے میں ہیں اور انہیں محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی طرح سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر خرم گوندل کہتے ہیں کہ ’ایک بار پھر بچوں کی زندگیاں اور تعلیم موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کی نذر ہو رہی ہیں۔ ایک بار پھر وہ ان بارشوں کے ہاتھوں سب کچھ کھو رہے ہیں، جیسے کہ گھر، کپڑے، خوراک، صاف پانی۔ ایک بار پھر بچوں کے سکول کی عمارتیں کیچڑ سے بھری ہوئی ہیں یا بند پڑی ہیں۔‘

انہوں نے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’2022 کے غیر معمولی سیلابوں کے بعد بچے تعلیمی سال کے نصف سے زیادہ عرصے سے محروم ہو گئے تھے۔ ہمیں ابھی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ بچے ضروری تعلیم سے محروم نہ ہوں۔ حالیہ تباہ کن سیلاب جیسے ہنگامی حالات میں تعلیم، زندگیاں بچاتی ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس