ٹرمپ کی من مانیاں: قانون پر مبنی عالمی نظام خطرے میں

بین الاقوامی معاملات پر امریکہ کی یکطرفہ پالیسیاں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی من مانیاں اشارہ دے رہی ہیں کہ قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کی طرف جا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ 16 جنوری، 2026 کو فلوریڈا میں ایک تقریب میں پہنچتے ہوئے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بین الاقوامی معاملات پر امریکہ کی یکطرفہ پالیسیاں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی من مانیاں اشارہ دے رہی ہیں کہ قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کی طرف جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں دنیا میں کوئی قانون نہیں روک سکتا اور یہ کہ اگر کوئی ایسا کر سکتا ہے تو وہ صرف ان کی اپنی ذات ہے۔

ایران پر حملہ نہ کرنے کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے خود طے کیا کہ وہ حملہ نہیں کریں گے۔

اس کا مطلب ہے کہ عالمی قوانین، اصول و ضابطے، بین الاقوامی معاہدے یا اقوام متحدہ کا چارٹر صدر ٹرمپ اور امریکہ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

ناصرف امریکی صدر ایسی باتیں کر رہے ہیں بلکہ ان کے اہم حکومتی اراکین بھی ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ دنیا میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا قانون چلے گا۔

حال ہی میں وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف سٹاف سٹیفن ملر نے سی سی این کو ایک انٹرویو میں کہا ’ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں، ایک حقیقی دنیا میں، جس کو طاقت کے بل بوتے پہ چلایا جاتا ہے۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ طاقت کے یہ قوانین دنیا میں شروع سے ہیں۔ یہ بیان اشارہ ہے کہ امریکہ اب صرف طاقت، دھونس، دھمکی اور دباؤ کی پالیسی کو بروئے کار لائے گا۔

یہ صرف بیانات نہیں ہیں بلکہ امریکہ ایسا کرتے ہوئے دکھائی بھی دے رہا ہے۔

کہیں اس نے فوجی طاقت کا استعمال کیا، جیسا کہ ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کی تباہی کے وقت دیکھا۔

کہیں اس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر کو اٹھا لیا۔

کہیں وہ دباؤ کے حربے استعمال کر رہا ہے جیسا کہ ہم ٹیرف کی تلوار کو یورپ اور دیگر کئی ممالک کے سروں پر لٹکتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

امریکہ کے اتحادی بھی من مانیاں کر کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

اسرائیل کا ہزاروں فلسطینیوں کا قتل اور وہاں بڑے پیمانے پر تباہی، ایران، شام، لبنان، قطر اور یمن پر حملہ، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنے اور اپنے اتحادیوں کے لیے کسی بھی عالمی قانون کی پاسداری کا قائل نہیں۔

دوسری عالمی جنگ میں تقریباً چار سے سات کروڑ انسانوں کی موت کے بعد مغربی ممالک نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جائے، جس میں ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا اصول کار فرما نہ ہو بلکہ اس کی بنیاد قانون اور اصول و ضوابط ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور معاشی خوشحالی بھی اس کی اساس ہو۔

مغربی ممالک نے دیکھا کہ جنگوں کی ایک بڑی وجہ معاشی کساد بازاری، غربت، بھوک، افلاس اور طاقت کا بے جا استعمال تھا۔

اس لیے اقوام متحدہ کی تشکیل میں اس اصول کو پیش نظر رکھا گیا اور صاف، صاف کہا گیا کہ طاقت کا استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی عالمی قوانین کے خلاف تصور کی جائے گی۔

اس نظام کے تحت سماجی اور معاشی ترقی کے لیے بھی ادارے بنائے گئے۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کا کام  ترقی پزیر ممالک میں صنعتی ترقی کو یقینی بنانا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے ذریعے بیماریوں سے لڑنے کی بات کی گئی اور غریب ممالک کو امداد دی گئی کہ وہ بیماریوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں اور عوام کی صحت کو بہتر کریں۔

اسی طرح تعلیم، سائنسی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی مختلف ادارے قائم کیے گئے۔

ممالک کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ انصاف اور دیگر فورمز تشکیل دیے گئے۔

دوسری عالمی جنگ میں جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائیں دے کر اور کئی ممالک کے سربراہوں کو عالمی انصاف کے اداروں کے سامنے کھڑا کر کے پیغام دیا گیا کہ طاقت کے غیر قانونی استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انسانیت کے خلاف جرائم کو معاف کیا جائے گا۔

ان عالمی اداروں کی معاونت کے لیے مختلف ممالک نے اپنے طور پر بھی بین الاقوامی ادارے بنائے، جنہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ملیریا، ٹی بی، ایچ آئی وی اور بہت سارے امراض کو کنٹرول کرنے یا ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہی ممالک نے عالمی مالیاتی بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے بھی بنائے جس کا مقصد غریب ممالک کی مالی معاونت کرنا تھا تاکہ وہ قرضے لے کر اپنی معیشت کو بہتر کرنے کی کوششیں کریں۔

اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن دو عالمی جنگوں کی تباہی کے بعد اس کا بنیادی مقصد تیسری عالمی جنگ کو روکنا تھا جس کو روکنے میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوئی۔

یہ بات صحیح ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی چھوٹے بڑے پیمانے پر تقریباً 280 سے زیادہ جنگیں ہوئیں۔

لیکن دنیا میں جب کبھی بھی تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ہوا، چاہے وہ 50 کی دہائی میں کوریا اور کیوبا کا بحران ہو یا 70 کی دہائی میں ویتنام اور افغانستان کا بحران ہو، دنیا میں امن پسندوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر عالمی رہنماؤں پر دباؤ ڈالا کہ وہ تیسری عالمی جنگ چھیڑ کر مکمل تباہی کی طرف نہ جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس عالمی نظام نے غیر اعلانیہ طور پر طاقت کے توازن کے اصول کو بھی تسلیم کر لیا اور مغربی نفرت کے باوجود سوویت یونین کو ایک اہم سٹیک ہولڈر قرار دے دیا گیا۔

جب چین کے پاس عسکری طاقت آئی تو اس کو بھی اقوام متحدہ کے ان پانچ اہم ممالک میں شامل کر لیا گیا جن کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہے۔

لیکن اب صدر ٹرمپ کی من مانیوں کی وجہ سے اس عالمی نظام کو خطرہ ہے جس کی بنیاد قانون، اصول و ضوابط اور قاعدے پر ہے۔

وہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ ان کی طرف سے یہ دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے کہ روس کو اجازت دی جائے کہ وہ جن یوکرینی علاقوں کا مطالبہ کر رہا ہے وہ اسے دے دیے جائیں۔

صدر ٹرمپ نے ان عالمی اداروں کو بھی بری طرح متاثر کیا جو اس نظام کے تحت معرض وجود میں آئے۔

انہوں نے فلسطین - اسرائیل مسئلے پر بین الاقوامی عدالت پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائیں۔

کئی ممالک کے سربراہوں کے لیے یہ مشکل بنایا کہ وہ امریکہ میں اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کریں۔

اقوام متحدہ کی فنڈنگ میں کٹوتی اور یو ایس ایڈ کو غیر فعال بنا کر انہوں نے دنیا میں کڑورں افراد کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈالا۔

امریکہ کی طرح برطانیہ نے بھی غریب ممالک کی امداد میں کمی کردی۔ اب امریکہ اپنا دفاعی بجٹ 1.5 کھرب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین، روس اور شمالی کوریا اپنے طور پر دفاعی بندوبست کر رہے ہیں۔ یورپ کو اب امریکہ پر اعتبار نہیں اور وہ ہنگامی بنیادوں پر ہتھیار جمع کر رہا ہے جب کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب بھی نئے دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ممالک کا اقوام متحدہ اور اس نظام سے اعتبار اٹھ رہا ہے، جس کے تحت یہ تشکیل دیے گئے تھے اور اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادی پر عائد ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہیں، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ