بے سمت معاشرے کی لاش

یہاں ایک میئر ہے جس کی حکومت شہر کے صرف 35 فیصد پر اثر انداز ہو پاتی ہے۔ ٹاؤنز میئر کو جواب دہ نہیں بلکہ صوبائی وزارتِ بلدیات کے ماتحت ہیں۔

ریسکیو اہلکار 19 جنوری 2026 کو کراچی کے ایک شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد جلی ہوئی عمارت میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)

گُل پلازہ کی آگ کی اگلی صبح، ریسکیو 1122 کی وہ تصویر جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، محض ایک حادثے کی اطلاع نہیں بلکہ ایک نوحہ ہے۔

تصویر میں دھوئیں کی کالک سے اٹی سیاہ دیوار کے بیچ ایک کھڑکی کا فریم نظر آتا ہے، اور اسی فریم میں ایک لاش، جو اب صرف انسانی ڈھانچے کی شکل میں ’کوئلہ‘ بن چکی ہے۔ لوگ شاید سوچیں کہ یہ کسی بدقسمت ملازم یا خریدار کی لاش ہے، مگر یہ منظر چُپ چُپ کر چلاتا ہے ’یہ لاش اس بے سمت معاشرے کی ہے، اس حکومت کی، جسے انسانی جان کی کوئی پرواہ نہیں۔‘

گل پلازہ جیسے معروف شاپنگ سینٹر سے اب تک درجنوں لاشیں کوئلہ بن کر نکالی جا چکی ہیں۔ تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن یہاں پہلی بار آگ نے کسی شہری کو بھسم نہیں کیا۔

کراچی میں یہ ’پہلا  واقعہ‘ نہیں ہے۔ 2012 کی بلدیہ فیکٹری کی آگ سے لے کر آج تک، سینکڑوں حادثات میں پانچ فائرفائٹرز سمیت تین سو سے زیادہ افراد جل کر مر چکے اور سینکڑوں دکانیں، فیکٹریاں راکھ ہو چکی ہیں۔ لیکن ارباب اختیار کا ضمیر سویا ہوا ہے، اور عوام خود سو رہے ہیں اس بات پر کہ ’یہ سب تو ہوتا رہتا ہے۔‘

اب جبکہ گل پلازہ سے دھواں ابھی اٹھ رہا ہے، سوالات اٹھنے لگے ہیں: ذمہ دار کون ہے؟ مقامی حکومت کا جواب یہ ہے کہ یہ عمارت 1980 میں بنائی گئی تھی، اس میں منظور شدہ نقشے کے برعکس زائد فلور بنائے گئے اور ہنگامی صورتِ حال میں نکلنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ یہ صورتِ حال صرف گُل پلازہ کی نہیں بلکہ شہر کے سینکڑوں دیگر شاپنگ سینٹرز کی بھی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ سیفٹی قواعد نافذ کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اور اگر آگ لگ جائے تو حکومت کے پاس کیا انتظام ہے؟

میں نے 2021 میں جلنے والی بلدیہ فیکٹری کے قریب واقع ایک فائر سٹیشن کا دورہ کیا تو دیکھا کہ ایک گاڑی کے بریک کو ربڑ کی ڈوری سے باندھا گیا تھا۔ ڈرائیور نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’ہمیں یہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ ہم آگ بجھانے جا رہے ہیں یا مرنے۔‘ یہ صرف ایک فرد کی بات نہیں، یہ نظام کی عکاسی ہے، ایک ایسا نظام جو لوگوں کی جان بچانے پر مامور فائرفائٹرز کی جان تک کی قدر نہیں کرتا۔

سرکاری طور پر دو کروڑ آبادی کے شہر کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس 570 فائر فائٹرز ہیں جبکہ 207 آسامیاں خالی ہیں۔ اگر یہ خالی آسامیاں بھی بھری جائیں تو تعداد 777 بنتی ہے، جو کراچی جیسے شہر کے لیے ناکافی ہے۔ اگر ریسکیو 1122 کے عملے کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ایک ہزار تک بھی نہیں پہنچتی۔

مقابلتاً ممبئی میں یہ تعداد تین ہزار سے زائد ہے، اور نیویارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں یہ تقریباً 11 ہزار کے قریب ہے۔ یہ فرق صرف اعدادوشمار کا نہیں، بلکہ زندگی کی قیمت کا فرق ہے۔

فائر ٹینڈر، سنارکلز، اور فائر سٹیشنز کی تعداد بھی ناکافی ہے۔ سٹیشن اتنے دور ہیں کہ بے ہنگم ٹریفک میں آگ کے مقام تک پہنچنے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ آگ پھیل کر کئی لوگوں کو لپیٹ کر کوئلہ بنا دیتی ہے۔ یہ شہر جسے ’پاور ہاؤس‘ اور ملک کا ’ریونیو انجن‘ کہا جاتا ہے، یہاں ایک بنیادی انسانی ضرورت یعنی زندگی کی حفاظت کا نظام تک بظاہر موجود نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فائر فائٹنگ کے نظام کو بہتر کرنے کی آوازیں آج سے نہیں اٹھ رہی ہیں۔ یہ شہر کئی فائر فائٹرز کی قربانیوں کے بعد بھی خاموش ہے، جنہوں نے لوگوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ کل زندگی ہار کر لوگوں کے دل جیتنے والا فرقان انہی میں ایک تھا۔ مگر یہ استعداد کیوں نہیں بڑھائی جاتی؟ کیونکہ یہ شہر یتیم ہے، ایک ایسا یتیم جس کے کئی باپ ہیں۔

یہاں ایک میئر ہے جس کی حکومت شہر کے صرف 35 فیصد پر اثر انداز ہو پاتی ہے۔ ٹاؤنز میئر کو جواب دہ نہیں بلکہ صوبائی وزارتِ بلدیات کے ماتحت ہیں۔ یہاں بیچارے میئر کو اپنی پارٹی کے اندر حریف سعید غنی کو وزیرِ بلدیات کے عہدے سے ہٹانے میں طویل جدوجہد کرنی پڑی۔

کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں فوج کے زیرِ انتظام چھاونیاں میئر کو جواب دہ نہیں، اور جہاں درجنوں وفاقی سول ایجنسیاں آزاد ہیں۔ عمارتوں کو ریگولیٹ کرنے والی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میئر کے ماتحت نہیں بلکہ صوبے کے ماتحت ہے۔ زمینوں کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ڈی اے، ایم ڈی اے، اور ایل ڈی اے کا مقامی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ ایک ایسا شہر ہے جس کی بلدیاتی حکومت کے پاس مکمل انتظامی اختیارات بھی نہیں، اور مالی خودمختاری بھی نہیں۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود اسے صوبے سے مناسب فنڈنگ نہیں ملتی اور معاشی دارالحکومت ہونے کے باوجود وفاق سے اس کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوتے۔

یہ وہ شہر ہے جسے ’بے سمت‘ کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ شہر ’بے سہارا‘ ہے۔ کراچی باپوں کا یتیم بچہ شہر۔

ایسے میں مسائل کے حل کے امکانات یہاں بہت کم ہیں، مگر اس وقت میرے ذہن میں ایک ماں کی دہائی ہے جو گل پلازہ کے ملبے کے پاس کھڑی تھی اور کہہ رہی تھی: ’مجھے کچھ نہیں چاہیے، بس ملبے تلے دبے اپنے راکھ ہوئے جگر گوشے کی لاش چاہیے۔‘

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مصنف ایک صحافی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ