کراچی کے مصروف ترین ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی عمارت خاکستر ہونے کے دہانے پر آگئی مگر اس کے ملبے تلے دبے سوال، چیخیں اور امیدیں ابھی زندہ ہیں۔ شعلوں نے صرف ایک عمارت کو نہیں جلایا، کئی گھروں کے چراغ بھی گُل کر دیے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آتشزدگی میں جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد چھ ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد تاحال عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آگ کے شعلے اب بھی عمارت کے اندر بھڑک رہے ہیں اور دو حصے کمزور ہو کر زمین بوس ہو چکے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم جب جائے حادثہ پر پہنچی تو ہر طرف دکھ میں ڈوبا انسانی ہجوم تھا۔ شہر کے دور دراز علاقوں سے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی ایک جھلک، ایک آواز کی امید لیے کھڑے تھے۔ آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں خوف تھا۔
اسی ہجوم کے ایک کونے میں محمد یعقوب خاموشی سے کھڑے تھے۔ آنکھوں میں امید کی ایک مدھم سی روشنی لیے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں ہفتے کی رات سے یہاں ہوں۔ میرا بھتیجا محمد عارف ابھی تک عمارت کے اندر پھنسا ہوا ہے۔‘
عارف کی عمر صرف 22 سال ہے اور گل پلازہ میں ان کی برتنوں کی دکان تھی۔
محمد یعقوب نے بتایا: ’مجھے عارف آخری کال آئی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے لڑ رہا ہوں، میں خطرے میں ہوں، مجھے بچا لو۔ اس کے بعد ہم نے بار بار فون کیا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔‘
ان کے بقول: ’عارف گھر کا سب سے لاڈلا تھا۔ اس کی ماں ابھی تک صدمے میں ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد یعقوب نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: ’ہماری آنکھیں منتظر ہیں کہ ہمارا بچہ بھی صحیح سلامت باہر آ جائے۔‘
کچھ فاصلے پر ایک بوڑھی خاتون، صفیہ بی بی، سڑک کے کنارے کبھی ایک سمت تو کبھی دوسری سمت دیکھتی رہیں۔ صبح نو بجے سے وہ اپنے پوتے کی راہ تک رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا: ’میرا پوتا میرے گھر کا چراغ تھا، میری جان تھا۔ کوئی ہمیں بتانے والا نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ میں کہاں جاؤں؟‘ یہ کہتے ہوئے ان کی ہچکیاں بلند ہو گئیں اور آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
کہیں کسی کا بیٹا عمارت میں پھنسا ہوا تھا تو کہیں کسی کا بہنوئی۔ جلتی ہوئی عمارت سے اٹھتا دھواں، سائرن کی آوازیں اور روتے بلکتے چہرے اس سانحے کی سنگینی کو مزید گہرا کر رہے تھے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں اب تک چھ افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید دو دن لگ سکتے ہیں۔