گلگت بلتستان کے ممتاز مورخ، ادیب اور سماجی شخصیت یوسف حسین آبادی نے قرآن مجید کا بلتی زبان میں پہلا باقاعدہ ترجمہ کیا ہے، جس کے ذریعے بلتی بولنے والے عام افراد کو اپنی مادری زبان میں قرآن سمجھنے کا موقع ملا ہے۔
محمد یوسف آبادی نے قرآنِ مجید کو سمجھنے کے لیے عربی زبان سیکھی۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ان کا مقصد نہ تو عوامی خطیب بننا تھا اور نہ ہی منبر و محراب کی وابستگی، بلکہ صرف اور صرف قرآن کے اصل مفہوم تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ اس نیت کے ساتھ انہوں نے اپنی توجہ زبان، لغت اور فہمِ قرآن پر مرکوز رکھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یوسف آبادی نے بتایا کہ انہوں نے جنوری 1988 میں قرآن مجید کے بلتی زبان میں ترجمے کا آغاز کیا، جس کی تکمیل 12 مئی 1992 کو ہوئی۔
تین سال انہوں نے اس کی نظر ثانی پر لگائے اور پھر 1995 میں اس کی اشاعت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے مطالعے کا مرکزی مقصد نہ تو خطابت تھا اور نہ ہی علمی برتری کا اظہار، بلکہ انہوں نے حق کی تلاش، قرآن مجید کے درست اور شعوری فہم اور ذاتی اصلاح کے لیے یہ کام کیا۔
یہ قرآنِ مجید کا بلتی زبان میں پہلا مکمل ترجمہ ہے، جو اس سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیا۔ اس طرح وہ اس میدان میں بلتستان کے پہلے محقق قرار پاتے ہیں۔
عمر رسیدہ ہونے کے باوجود یوسف حسین آبادی آج بھی عملی طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے بلتستان کے مختلف علاقوں سے قدیم دور میں استعمال ہونے والی اشیا، گھریلو لوازمات، اوزار اور ثقافتی علامات جمع کر کے ایک بلتی میوزیم کی شکل دی ہے۔
یہ میوزیم نہ صرف بلتی تہذیب کی زندہ تصویر ہے بلکہ نئی نسل کے لیے اپنے ماضی کو جاننے اور پہچاننے کا ایک نادر ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے بلتی زبان کا قدیم رسم الخط بھی دریافت کیا۔
یہ رسم الخط اشاعتِ اسلام سے قبل تقریباً 1300 سال تک بلتستان، لداخ، تبت اور بھوٹان میں رائج رہا۔ اسلام کی آمد کے بعد یہ رسم الخط متروک ہو گیا، یہاں تک کہ کتابت کے وقت بلتستان میں کسی بزرگ کو بھی اس رسم الخط کا علم نہیں تھا۔
اسی طرح جنگِ آزادی پر تحقیق کے دوران انہیں احساس ہوا کہ بلتستان کی مکمل تاریخ تحریر ہونا ناگزیر ہے، تاکہ آنے والی تعلیم یافتہ نسل اپنے ماضی سے باخبر ہو سکے۔
’تاریخِ بلتستان‘ کے نام سے ان کی کتاب محض ایک تحریری تاریخ نہیں بلکہ ایک عملی تاریخ ہے، جو سماجی، ثقافتی اور تہذیبی تبدیلیوں کو براہِ راست بیان کرتی ہے۔