خودکش محبت

اپنے پیاروں پہ نظر رکھیں۔ ایک تسلی کا لفظ، ایک محبت بھری نظر، کسی کے مسئلے کا ممکنہ حل اگر آپ کے ایک جملے، ایک فون کال سے ہو سکتا ہے تو وہ کال کر لیجیے۔

ہم انسان ہیں اور زندگی سے تھک بھی سکتے ہیں: آمنہ مفتی (فوٹو ریخ/پکسا بے)

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں دو الگ، الگ واقعات میں دو طلبہ نے اپنی جان لینے کی کوشش کی، ایک جان سے گیا جبکہ دوسری کو بچا لیا گیا۔

شدید رنج کی کیفیت طاری ہے۔ میں ماں ہوں، استاد ہوں اور یہ ہی عمر گزار کے آئی ہوں۔

زندگی اتنی ارزاں کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اس کا تجربہ بھی ہے، لیکن ان دو واقعات پہ بے حد دکھ ہوا۔

ایک سمسٹر کا ذکر ہے کہ میں نے لیکچر کو گھما پھرا کے خودکشی کا موضوع چھیڑ دیا۔ طلبہ میرے ساتھ ایسے ہی بات کر لیتے ہیں جیسے اپنی آپا یا دوست سے کرتے ہیں۔

35 کی کلاس میں سے آٹھ خودکشی کی کوشش کر چکے تھے اور میں پہلے ہی روز بھانپ چکی تھی کہ اس کلاس میں کچھ گڑبڑ ہے۔

سمسٹر خیر سے گزر گیا۔ ان ہی بچوں کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اب وہ اپنی اپنی عملی زندگی میں کسی جگہ پہنچے ہوئے ہیں، مشکل وقت شاید گزر گیا۔

مگر مجھے اکثر دھیان آتا ہے کہ یہ حساس بچے زندگی میں اگر پھر کسی مشکل سے گزرے تو کیا ہو گا؟

طالب علمی کے زمانے میں ورجینیا وولف اور پھر ثروت حسین کی کہانیاں بہت متاثر کرتی تھیں۔

کتنی ہی کہانیاں ایسی تھیں جن میں ہیروئین کسی کے غم میں ہیرا چاٹ لیتی تھی، کئی کلاسیکی داستانوں میں دو چاہنے والے ظالم دنیا سے دور جانے کے لیے مل کے زہر کھا لیتے تھے۔

بغیر سوچے سمجھے خودکشی کے ساتھ ایک بے حد رومانوی تصور وابستہ ہو گیا۔ زندگی ذرا آگے کھسکی تو ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑا جو واقعی ایسے حالات بنا دیتے ہیں کہ زندہ رہنے سے نفرت ہو جاتی ہے۔

ہمارے فارم پہ قریباً ہر دوسرے سال کوئی ملازم چوہے مار گولیاں کھا لیتا ہے، کوئی جراثیم کش زہر سے اپنی جان لیتا ہے۔ وجوہات بہت معمولی ہوتی ہیں — اکثر گھریلو جھگڑے۔

ایک عورت کو تو میں کبھی نہیں بھول سکتی جو امی کے پاس مدد کے لیے آئی تھی۔ دوسری نوکرانیوں نے اس کے بارے میں مشکوک گفتگو کی اور جب وہ مایوس ہو کر جا رہی تھی تو مجھے اس کی آخری نگاہ نہیں بھولتی۔

چند روز بعد خبر ملی کہ اس نے اپنی دو بچیوں سمیت نہر میں کود کر جان دے دی۔ کئی دہائیوں بعد بھی وہ بے بس آنکھیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خودکشی کیوں کی جاتی ہے؟ خودکشی نہیں کرنی چاہیے، جان بہت پیاری ہے، یہ تو سب ہی جانتے ہیں اور کہتے بھی ہیں۔

لیکن اس کیفیت کو سمجھنے اور اپنے کسی پیارے کو اس کیفیت میں مبتلا دیکھ کر اس سے نکالنے کا فن کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔

نوجوانوں میں ایسے خیالات کا آنا کوئی انہونی نہیں۔ اس عمر میں انسان ابھی خود کو ہی نہیں سمجھ پاتا، ایسے میں ماں باپ کی توقعات اور دنیاداری کے بوجھ معاملات بگاڑ بھی دیتے ہیں۔

لاہور میں پیش آنے والے یہ دونوں اندوہناک واقعات ایسے ہیں کہ ان پہ جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہو گا۔

اپنے پیاروں پہ نظر رکھیں۔ ایک تسلی کا لفظ ایک محبت بھری نظر، کسی کے کسی مسئلے کا ممکنہ حل اگر آپ کے ایک جملے، ایک فون کال سے ہو سکتا ہے تو وہ کال کر لیجیے۔

ایک دستخط ایک زندگی بچا سکتا ہے، اقرار کا ایک لفظ آپ کے بیٹا یا بیٹی کو ہمیشہ آپ کی نظروں کے سامنے رکھ سکتا ہے۔

بشری کمزوریوں، انسانی تقاضوں اور سماجی ڈھانچے کو ساتھ لے کر چلیں، ہم انسان ہیں اور زندگی سے تھک بھی سکتے ہیں۔

کسی کو تھکتے دیکھیں تو سہارا دے دیجیے، کوشش کریں آپ کی وجہ سے کوئی جان سے نہ جائے۔ کوشش تو کی ہی جا سکتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ