لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) پاکستان میں زچہ، نو مولود اور بچوں کی صحت کے لیے قومی سطح پر منسلک پہلا مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز قائم کرے گی۔
اس مقصد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن نے لمز کے لیے بڑی مالی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔
جمعرات کو لمز کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ پاکستان میں عوامی صحت کے شعبے میں تاریخی اقدام ہے جس کا مقصد ملکی ہسپتالوں اور دیہی صحت مراکز میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے اور فوری ریفرل کے خطرات کی پیش گوئی کرنے والا اے آئی نظام متعارف کرانا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لمز کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس مرکز کا آغاز خصوصی طور پر زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت پر توجہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اسے ایک طویل المدتی قومی مرکزکے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو مستقبل میں پاکستان کو درپیش دیگر اہم ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار وسعت اختیار کرے گا۔
لمز کے بیان کے مطابق: ’قومی اے آئی مرکز اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ پاکستان کی دو ممتاز تحقیقی جامعات، لمز اور آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)، کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا تاکہ زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کو لاحق اہم چیلنج سے نمٹا جا سکے۔‘
لمز کا کہنا ہے کہ وہ اس مرکز کے لیے مصنوعی ذہانت میں مہارت، لینگویج ٹیکنالوجیز، جینڈر اورٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق، اور ڈیجیٹل پبلک ہیلتھ میں مہارت کو بروئے کار لائے گی جب کہ آغا خان یونیورسٹی بڑے پیمانے پر زچہ کی صحت کے ڈیٹا سیٹس کی تیاری، طبی مہارت کی فراہمی، اور مختلف طبی مراکز میں جاری اے آئی پر مبنی جانچ اور نفاذ میں معاونت کرے گی۔