آٹھ ماہ میں پانچ سال کا سفر، سی ایس ایس محض ایک امتحان نہیں

پاکستان میں سی ایس ایس جیسے مشکل اور مہنگے امتحان کی تیاری عام طور پر صرف محدود طبقے تک رسائی رکھتی ہے، تاہم کراچی کے ایک ادارے ’سی ایس ای کارنر‘ تصور کو بدلنے میں مصروف ہے۔

​پاکستان میں سرکاری ملازمتوں کے حصول کے کئی ذریعے یا راستے ہیں مگر ایک ایسا امتحان بھی ہے جو نہ صرف کیریئر بلکہ زندگی کا رخ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جی ہاں سنٹرل سپیریئر سروسز یعنی سی ایس ایس، یہ صرف ایک مقابلے کا امتحان نہیں بلکہ محنت، صبر، ذہانت اور مستقل مزاجی کا کڑا امتحان ہے، جہاں کامیابی کا تناسب نہایت کم مگر خواب بے حد بڑے ہوتے ہیں۔

ہر سال ہزاروں نوجوان اس امید کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں کہ وہ ملک کی اعلیٰ بیوروکریسی کا حصہ بن سکیں، مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے انہیں برسوں کا علم، گھنٹوں کی مسلسل پڑھائی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں جب تیاری مہنگی اور مشکل ہو، تو یہ خواب اکثر ادھورا رہ جاتا ہے۔

لیکن کراچی میں ایک ایسا اقدام سامنے آیا ہے جو اس تصور کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ یہ ثابت بھی کر رہا ہے۔

پاکستان میں سی ایس ایس جیسے مشکل اور مہنگے امتحان کی تیاری عام طور پر صرف محدود طبقے تک رسائی رکھتی ہے، تاہم کراچی کے ایک ادارے ’سی ایس ای کارنر‘ تصور کو بدلنے میں مصروف ہے۔

2022 سے یہ ادارہ نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات کی مفت تیاری فراہم کر رہا ہے۔ کراچی کے فریئر ہال، کورنگی اور فیڈرل بی ایریا میں جاری اس ادارے کی سرگرمیوں کے تحت یکم اپریل سے ایک نئے بیچ کو تیاری شروع کروا دی گئی۔

سی ایس ایس کیا ہے؟

سنٹرل سپیریئر سروسز، سی ایس ایس، پاکستان کا ایک اعلیٰ اور نہایت مسابقتی امتحان ہے، جو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔ اس امتحان کے ذریعے کامیاب امیدواروں کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس اور فارن سروس سمیت دیگر اہم سرکاری شعبوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔

یہ امتحان ملک کے مشکل ترین امتحانات میں شمار ہوتا ہے، جس میں تحریری امتحان، نفسیاتی جانچ اور انٹرویو کے مراحل شامل ہوتے ہیں۔

جدوجہد سے مشن تک: طحہ سلیم کی کہانی

سی ایس سی کارنر کے بانی اور ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم نے اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’سی ایس ایس صرف ایک امتحان نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ ایک امیدوار کو وہی نصاب آٹھ ماہ میں مکمل کرنا ہوتا ہے جو ایک ڈاکٹر پانچ سال میں پڑھتا ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ 2010 میں جب وہ خود تیاری کر رہے تھے تو وسائل اور رہنمائی دونوں محدود تھے۔

’اس وقت ایک کورس کی فیس تقریباً پچاس ہزار روپے تھی، جو اب بڑھ کر دو سے ڈھائی لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جس سے عام طالب علم کے لیے یہ راستہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔‘

اسی تجربے نے انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے پر مجبور کیا جہاں امتحانات دینے خواہمشند طلبا کی راہ میں مالی مشکلات حائل نہ ہوں۔

کامیابی کے اصول

طحہ سلیم کے مطابق سی ایس ایس میں کامیابی کے لیے تین بنیادی اصول اہم ہیں:

  • مضبوط انگریزی
  • مستقل مزاجی
  • سمارٹ ورک

انہوں نے کہا کہ ایک امیدوار کو روزانہ 8 سے 9 گھنٹے پڑھائی کرنا پڑتی ہے اور یہ تیاری کسی فل ٹائم جاب سے کم نہیں۔

سخت مقابلہ، کم کامیابی

ہر سال پاکستان بھر سے تقریباً 20 ہزار امیدوار سی ایس ایس امتحان میں شریک ہوتے ہیں، تاہم کامیاب ہونے والوں کی تعداد صرف 250 کے قریب ہوتی ہے۔ اس طرح کامیابی کی شرح تقریباً 1 فیصد رہ جاتی ہے۔

ان کے مطابق پنجاب میں اس امتحان کا رجحان سب سے زیادہ ہے جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے، تاہم کراچی میں بھی اب اس حوالے سے شعور بڑھ رہا ہے۔

میرٹ یا غلط فہمی؟

طحہ سلیم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی ایس ایس سفارش یا کوٹہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

’یہ مکمل طور پر میرٹ بیسڈ نظام ہے۔ ایسی باتیں نوجوانوں کو مایوس کرتی ہیں اور ان کے حوصلے پست کرتی ہیں۔‘

ایک کلاس، مختلف خواب

سی ایس ایس کارنر کی سب سے نمایاں بات اس کا مفت تعلیمی ماڈل ہے، جہاں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔

یہاں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ، ایک طرف سرمایہ دار کا بیٹا، تو دوسری طرف مزدور کا بچہ، مگر خواب سب کے ایک جیسے۔

کمشنر کراچی حسن نقوی نے بتایا کہ ’آج سے 30 سال قبل سی ایس ایس کی تیاری کے لیے باقاعدہ اکیڈمیز موجود نہیں تھیں۔ ہم لائبریریوں میں جا کر پڑھتے تھے اور نوٹس کا تبادلہ کرتے تھے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ وسائل بڑھنے کے باوجود کامیابی کے لیے محنت اور لگن آج بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

نوجوانوں کے خواب

نئے بیچ میں شامل طلبہ اس موقع سے خاصے پرجوش نظر آئے۔ ان میں عاصم جمالی بھی شامل ہیں، جو مستقبل میں پولیس سروس میں اے ایس پی بننے کا خواب رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر اکیڈمیز کی فیس لاکھوں میں ہے، جو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یہاں آ کر لگتا ہے کہ خواب ابھی بھی ممکن ہے۔‘

سی ایس ایس کی اہمیت

سی ایس ایس پاکستان کا ایک انتہائی اہم امتحان ہے، جس کے ذریعے قابل ترین افراد کو ملک کی بیوروکریسی میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک باوقار کیریئر فراہم کرتا ہے بلکہ پالیسی سازی اور ملک کی خدمت کا موقع بھی دیتا ہے۔

اسی لیے سی ایس ایس کو محض ایک امتحان نہیں بلکہ قیادت اور نظام حکومت میں اہم کردار کا ایک بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس