سندھ کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کے لیے فیس ریکگنیشن نظام متعارف

اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے موبائل ایپلیکیشن ’فریمس‘ تیار کی گئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ تعلیم نے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی حاضری یقینی بنانے کے لیے پہلی مرتبہ فیس ریکگنیشن اور جیو فینسنگ پر مبنی ڈیجیٹل اٹینڈنس سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔

اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے موبائل ایپلیکیشن ’فریمس‘ تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے اساتذہ اور دیگر عملہ اپنی تعیناتی والے سکول میں فیس ریکگنیشن یعنی چہرے کے ذریعے حاضری لگا سکیں گے۔

ایپ میں جیو فینسنگ فیچر شامل کیا گیا ہے، جس سے حاضری صرف اسی مقام سے لگ سکے گی جہاں متعلقہ ملازم کی پوسٹنگ ہو گی۔

محکمہ تعلیم نے پہلے مرحلے میں اساتذہ اور دیگر عملے کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے، جو جولائی تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اس نظام کو باقاعدہ نافذ کیا جائے گا۔

محکمہ تعلیم کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ آر ایم آئی ایس) کے ڈپٹی ڈائریکٹر پرویز احمد تنیو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایپ کے ذریعے اب تمام سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور دیگر عملے کی حاضری فیس ریکگنیشن کے ذریعے ہو گی۔

’ایپ صرف اسی جگہ سے لاگ اِن ہو سکے گی جہاں اساتذہ یا عملے کی پوسٹنگ ہے۔ اسی مقصد کے لیے اس میں جیو فینسنگ فیچر شامل کیا گیا ہے۔‘

پرویز تنیو نے بتایا کہ ’یہ نظام اساتذہ اور عملے کی حاضری یقینی بنانے کے لیے متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اساتذہ اور دیگر عملہ بغیر انٹرنیٹ کے بھی اپنی پوسٹنگ والی لوکیشن سے فیس ریکگنیشن کے ذریعے حاضری لگا سکیں گے۔

’بعد میں جب موبائل انٹرنیٹ سے منسلک ہو گا تو حاضری خود بخود سسٹم میں اپڈیٹ ہو جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی پرویز نے مزید بتایا کہ ’اس نظام کا نفاذ مرحلہ وار کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع میں رجسٹریشن شروع کر دی گئی ہے، جو اس ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد سندھ کے دیگر ڈویژنز میں بھی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے گا۔

’فیس ریکگنیشن پر مبنی حاضری کا یہ نظام گرمیوں کی تعطیلات کے فوراً بعد نافذ کیا جائے گا، جبکہ اس سے قبل اساتذہ اور دیگر عملے کو ایپ کے استعمال سے متعلق تربیت بھی دی جائے گی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’محکمہ تعلیم کے سکولوں میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد عملہ موجود ہے، جن میں ایک لاکھ 25 ہزار اساتذہ شامل ہیں۔‘

دوسری جانب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کراچی ساؤتھ سیدہ ثروت حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے اساتذہ کی حاضری بائیومیٹرک سسٹم کے ذریعے لی جاتی تھی، جس میں وقت زیادہ لگتا تھا اور مختلف مسائل بھی سامنے آتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بائیومیٹرک حاضری میں سب سے زیادہ مسئلہ خواتین اساتذہ کو پیش آتا تھا، کیونکہ گھریلو کام کاج یا سبزیاں کاٹنے جیسے امور کی وجہ سے ان کے انگوٹھوں کے نشانات متاثر ہو جاتے تھے، جس کے باعث بعض اوقات حاضری درج نہیں ہو پاتی تھی۔‘

سیدہ ثروت حسن کے مطابق ’فیس ریکگنیشن ایپ کے ذریعے اساتذہ سکول پہنچ کر آسانی سے اپنی حاضری یقینی بنا سکیں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس