شپنگ ڈیٹا کے مطابق قطر کا ایل این جی لے جانے والا ایک دوسرا جہاز منگل کے روز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والے انتظام کے تحت پہلا ایسا کارگو بھی اس راستے سے گزرا تھا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری تنازع کے خطرات کے باوجود کارگو جہاز کیس بہ کیس بنیاد پر اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
ایل ایس ای جی شپنگ ڈیٹا کے مطابق 174,000 مکعب میٹر گنجائش رکھنے والا جہاز ’مِحزم' پیر کے روز قطر کی راس لفان بندرگاہ سے روانہ ہوا اور منگل کو آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے پاکستان کی بندرگاہ پورٹ قاسم کی جانب روانہ ہوا۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ قطر کے کسی ایل این جی بردار جہاز کا آبنائے ہرمز سے دوسرا کامیاب گزر ہے۔
ہفتے کو ایل این جی ٹینکر 'الخریطیات' نے ایران کی منظور شدہ شمالی گزرگاہ کے ذریعے آبنائے ہرمز عبور کرنا شروع کیا تھا اور اتوار کو کامیابی سے آبنائے پار کر لی تھی۔ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق یہ اس وقت پورٹ قاسم کے قریب لنگر انداز ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
9 مئی کو اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا تھا کہ یہ ایل این جی قطر کی جانب سے پاکستان کو فروخت کی جا رہی ہے، جو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور یہ فراہمی حکومت سے حکومت کے معاہدے کے تحت ہو رہی ہے۔
ان افراد کے مطابق ایران نے قطر اور پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی میں مدد کے لیے اس کھیپ کی منظوری دی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ قطر کے ایل این جی سے لدے مزید دو جہاز آئندہ چند روز میں پاکستان روانہ ہونے کی توقع ہے۔
9 مئی کو روئٹرز کو معاہدے پر بریفنگ دینے والے ایک سورس نے بتایا کہ پاکستان آبنائے ہرمز سے محدود تعداد میں ایل این جی ٹینکروں کی گزر کی اجازت کے لیے ایران سے مذاکرات کر رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد کو فوری طور پر گیس کی قلت پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
سورس نے مزید کہا کہ ایران نے مدد پر آمادگی ظاہر کی ہے اور دونوں فریق پہلے جہاز کی محفوظ گزر کو یقینی بنانے کے لیے رابطے میں ہیں، جو پاکستان کے قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت فراہم کردہ گیس لے کر جا رہا ہے۔ قطر پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والا اس کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔