پشاور میں سات سے آٹھ سال کی عمر کے بچوں نے محض چھ ماہ کی تربیت کے بعد آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور روبوٹکس کی مدد سے اپنے پراجیکٹس تیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جو تعلیمی میدان میں ایک منفرد پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے میکاٹرونکس انجینیئر مشال جواد کا کردار ہے، جنہوں نے ’سٹیم ورز‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔
اس ادارے میں اس وقت تقریباً 15 کم عمر بچے زیرِ تربیت ہیں، جہاں انہیں روایتی رٹا سسٹم کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔
مشال جواد نے کینیڈا سے میکاٹرونکس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور وہاں تین سال پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے پشاور واپس آ کر بچوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں عملی بنیادوں پر سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو شروع ہی سے تخلیقی سوچ، سوال کرنے اور مسائل حل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں اب بھی رٹا سسٹم غالب ہے۔
ان کے بقول: ’میری کوشش ہے کہ یہاں کے بچوں کو بھی وہی مواقع ملیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’سٹیم ورز‘ میں چھ ماہ کے کورس کے دوران بچوں کو روبوٹکس، پروگرامنگ اور اے آئی کی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔ کورس مکمل ہونے کے بعد بچے اپنے آئیڈیاز پر مبنی پراجیکٹس خود تیار کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ادارے کے طلبہ نے اب تک کئی تخلیقی پروجیکٹس پیش کیے ہیں۔ ایک بچی نے اپنی والدہ کے ہاتھ برتن دھونے سے متاثر ہوتے دیکھ کر ایک ایسا سکربر تیار کیا جو ہاتھوں کو محفوظ رکھتا ہے، جبکہ دیگر بچوں نے پیانو، گیمز اور مختلف ماڈلز بھی تیار کیے ہیں۔
مشال جواد کے مطابق سِکل بیسڈ ایجوکیشن ایسا نظام ہے جس میں بچوں کو محض کتابی علم کے بجائے عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ حقیقی مسائل حل کر سکیں۔ اسی طرح سٹیم ایجوکیشن سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے ذریعے بچوں میں تخلیقی سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بقول: ’اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل مستقبل میں کامیاب ہو تو سکولوں میں سکل بیسڈ اور سٹیم ایجوکیشن کو فروغ دینا ہوگا۔‘