پولیس کے مطابق دوسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب مقامی افراد پہلے حملے کے متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف تھے۔
24 سالہ شاہ زیب کے مطابق خیبر پختونخوا میں بار بار سی این جی بند ہونے کے باعث کئی مرتبہ انہیں رکشہ کھڑا کرنا پڑا، جس سے روزانہ کی آمدن متاثر ہوئی۔