پشاور: 15 سالہ طالبہ کے ریپ کیس میں ’جرگے کی ناکامی‘ پر 35 روز بعد مقدمہ

متاثرہ لڑکی کے والد نے 21  جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔

18 مئی 2016 کو پولیس اہلکار پشاور میں ایک سڑک کنارے گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے ضلع پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں پولیس کے مطابق ایک 15 سالہ مدرسے کی طالبہ کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا مقدمہ واقعے کے تقریباً پینتیس سے چالیس روز بعد درج کر لیا گیا۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے 21  جون کو تھانہ بڈھ بیر میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا کہ مقدمہ درج کروانے میں تاخیر مقامی جرگے کی کوششوں کے باعث ہوئی، جو فریقین کے درمیان صلح کروانا چاہتا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق واقعہ تقریباً 35 روز قبل پیش آیا، جب متاثرہ طالبہ معمول کے مطابق مدرسے جا رہی تھی کہ ایک نوجوان جس کی شناخت بعد ازاں عاطف کے نام سے ہوئی، نے مبینہ طور پر اسے کپڑے لینے کے بہانے اپنے گھر بلایا۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ گھر کے اندر پہلے سے موجود دو دیگر افراد، جنہیں اقرار اور احمد کے نام سے نامزد کیا گیا، نے بھی طالبہ کا ریپ کیا۔ مزید الزام ہے کہ ملزمان نے واقعے کی ویڈیو بنائی اور طالبہ بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

والد نے ایف آئی آر میں یہ بھی کہا کہ واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رجوع نہیں کیا کیونکہ مقامی عمائدین نے انہیں یقین دلایا کہ معاملہ جرگے کے ذریعے حل کر دیا جائے گا۔

جرگہ اور معاہدے کی کوشش

ایس ایچ او بڈھ بیر واجد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق: ’واقعے کے فوری بعد معاملہ مقامی جرگے میں پیش کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ نامزد ملزمان میں سے ایک متاثرہ لڑکی سے شادی کرے گا  جبکہ متاثرہ لڑکی کے والد کو 20 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔‘

ایس ایچ او واجد خان کے مطابق: ’ابتدائی طور پر جرگے کے اس فیصلے پر فریقین متفق نظر آئے، تاہم بعد ازاں ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے والد کے درمیان رقم کی ادائیگی پر اختلاف پیدا ہوگیا۔‘

 انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے رقم دینے میں ٹال مٹول کی جس کے بعد متاثرہ لڑکی کے والد نے پولیس سے رجوع کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس ایچ او نے مزید کہا کہ جرگے میں شامل بعض عمائدین سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ مقدمہ درج ہونے میں تاخیر کے اسباب اور جرگے کے کردار کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

پولیس نے ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 376 (ریپ) اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

ایس ایچ او واجد خان نے بتایا کہ پولیس نے تینوں نامزد ملزمان عاطف، اقرار اور احمد  کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

بڈھ بیر پشاور کا ایک نواحی علاقہ ہے جہاں دیہی معاشرتی ڈھانچہ اور روایتی قبائلی نظام موجود ہے۔ اس علاقے میں جرگے کا نظام معاملات طے کرنے کا ایک عام طریقہ ہے تاہم حالیہ برسوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ریپ اور کم عمری کی شادی جیسے مقدمات میں جرگے کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایکٹوسٹ عمران ٹکر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بڈھ بیر میں ریپ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ماضی میں بھی اسی طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

عمران ٹکر نے کہا: ’بنیادی طور پر اگر ہم بڈھ بیر کے واقعے کو دیکھیں تو یہ اس علاقے کا پہلا ریپ کا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف خیبر پختونخوا میں بلکہ بڈھ بیر میں بھی ماضی میں ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے لیے حکومتی سطح پر یا معاشرتی اور سماجی طور پر کسی نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریپ کے مقدمات میں خاص طور پر جہاں کم عمری کی شادی کا زبردستی معاملہ ہو، جرگے کے اس قسم کے روایتی فیصلے متاثرہ بچے یا بچی کے بہترین مفاد میں نہیں ہوتے۔ ایسے فیصلے ملزمان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عدالتی فیصلوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض دیگر معاملات میں جرگے کے فیصلے مفید بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ریپ اور کم عمری کی شادی کے کیسز میں یہ کسی بھی صورت متاثرین کے مفاد میں نہیں ہوتے۔

عمران ٹکر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانونی اصلاحات اور معاشرتی شعور کی ضرورت ہے۔ ’جرگے کے فیصلوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے اور متاثرین کو عدالتوں تک رسائی فراہم کرنے میں سہولت دی جانی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین