لاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار

عابد ملہی اور شفقت بگا نے نو ستمبر، 2020 کو موٹر وے پر بچوں کے سامنے ایک خاتون کے ریپ اور ڈکیتی پر ملنے والی سزائے موت کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔

پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ عابد ملہی کی تصویر

لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

یہ واقعہ نو ستمبر، 2020 کو پیش آیا تھا، جہاں موٹروے پر گاڑی خراب ہونے کے باعث محصور خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے ڈکیتی کے دوران ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے نے ملک بھر میں شدید عوامی غیظ و غضب کو جنم دیا اور خواتین کے تحفظ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بحث چھیڑ دی تھی۔

مجرموں کی گرفتاری کئی ہفتوں تک صوبائی پولیس کے لیے بڑا چیلنج بنی رہی اور بالاآخر جب انہیں گرفتار کیا گیا تو حکام نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا اعلان کیا تھا۔

جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے مجرموں کی اپیلوں پر تفصیلی سماعت کی۔

درخواست گزاروں کے وکیل محمد قاسم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کے دلائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

انہوں نے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دونوں کو بری کیا جائے۔

پراسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے تمام شواہد اور گواہیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ سنایا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونوں مجرموں کے خلاف ٹھوس، سائنسی اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لہٰذا ان کی اپیلیں مسترد کی جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سناتے ہوئے دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں اور سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔

20 مارچ، 2021 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک نے عابد ملہی اور شفقت بگا کو ریپ، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

اس کے علاوہ انہیں دیگر دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی گئی تھیں، جس کے بعد 25 مارچ، 2021 کو دونوں مجرموں نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

اپیل میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور تفتیش و شواہد میں واضح تضادات موجود ہیں۔

تاہم، لاہور ہائی کورٹ نے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔

مجرمان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا قانونی حق استعمال کریں گے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان