’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ کاکروچ پارٹی اور جین زی کا مظاہرہ ختم

مظاہرین نے احتجاجی مقام خالی نہیں کیا، تاہم پولیس کی جانب سے بار بار اعلان کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں، تمام بند میٹرو سٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، اور مظاہرین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے اعلان کے بعد ہفتے کو انڈین دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر تقریباً 45 دنوں سے جاری کاکروچ پارٹی / جین زی کے مظاہرے کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔

اگرچہ تاحال مظاہرین نے احتجاجی مقام خالی نہیں کیا، تاہم پولیس کی جانب سے بار بار اعلان کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں، تمام بند میٹرو سٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، اور مظاہرین سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

ہفتے کو مودی حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مشترکہ وفد نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں مذاکرات کے تیسرے دور کے فوراً بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

سی جے پی کے ترجمان سورَو داس نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ احتجاج ’نیک نیتی کے ساتھ‘ باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی مقام خالی کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تحریک کے مطالبات پر غور کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ پردھان کے استعفے پر اپنے پہلے ردِعمل میں کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پر لکھا ’کاکروچ جیت گئے، جمہوریت جیت گئی۔‘

انڈین وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد مظاہرین اسے اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مظاہرے میں شریک انجلی نے کہا، ’ہم نے تعلیم کے مسئلے پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے، اور آج وہ پورا ہو گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ جس وجہ سے یہ احتجاج شروع ہوا تھا، وہ پوری ہو گئی۔ شاید اس سے فوری طور پر سب کچھ نہ بدلے، لیکن کم از کم ہمیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ ہم اپنی لڑائی خود لڑ سکتے ہیں۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ اگر ہم متحد ہوں تو اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے خود کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘

’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘ کا پلے کارڈ اٹھائے ایک سکول کے طالب علم پارتھ راجپوت نے کہا، ’آج دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر تمام طلبہ متحد ہو جائیں تو وہ حکومت سے سوال کر سکتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر حکومت کو جھکنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹینا ماہور، جو اس احتجاج میں کئی دنوں سے شریک تھیں، نے بتایا کہ جو بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں وہ واپس تو نہیں آ سکتے، لیکن کم از کم انہیں کسی حد تک انصاف ضرور ملے گا اگر آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا، ’وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اس لیے اہم ہے کہ پورے تعلیمی نظام کو بدلا جائے، نہ کہ صرف ایک وزیر کو ہٹا کر کسی دوسرے کو بٹھا دیا جائے۔ ہمارا مطالبہ ہمیشہ یہی تھا کہ اس خراب نظام کو درست کیا جائے، اسی مقصد کے لیے ہم نے آواز بلند کی۔‘

ایک سوال کے جواب میں ٹینا ماہور نے کہا، ’حکومت کو ڈرنا چاہیے۔ جب پورا نوجوان طبقہ سڑکوں پر آ جائے اور چند ہی دنوں میں حکومت کو ہلا کر رکھ دے تو حکومت کو ضرور خوف محسوس ہونا چاہیے۔‘

قابلِ ذکر ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے حکومت کے سامنے تین بڑے مطالبات رکھے گئے تھے، جن میں وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ، نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضہ، اور مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے کا مطالبہ شامل تھا، جنہیں حکومت نے قبول کر لیا ہے، ایسا سی جے پی کا کہنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور مطالبہ بھی سامنے آیا، جس میں سی جے پی نے ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور دہلی پولیس سے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کے لیے معاوضے کی رقم جلد مقرر کر دی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا