انڈیا میں ایک وائرل طنزیہ سیاسی جماعت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی کو پیر کو شمالی شہر جے پور میں ایک بھرے جلسے کے دوران تھپڑ مار دیا گیا۔ نوجوانوں کی قیادت میں یہ حکومت مخالف تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے۔
ابھیجیت دپکے، جنہوں نے گذشتہ ماہ بے روزگاری اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی قائم کی تھی، اپنے حامیوں کے کندھوں پر سوار تھے کہ اچانک ہجوم میں سے دو افراد نکلے اور انہیں بار بار تھپڑ مارے۔
دپکے اس واقعے پر واضح طور پر چونک گئے، تاہم انہوں نے اپنے حامیوں کو جوابی کارروائی سے روکتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کو نہ پکڑیں جبکہ اس دوران ہجوم حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے دھکم پیل کرتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’جسمانی حملے خوف اور بزدلی کی علامت ہیں‘ اور عزم ظاہر کیا کہ وہ اس طرح کی ’دھمکیوں، خوف اور توجہ ہٹانے کی کوششوں‘ کے باوجود اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’ہم اپنا احتجاج پرامن اور جمہوری انداز میں جاری رکھیں گے اور اپنے بنیادی مسئلے سے نہیں ہٹیں گے، جو ایک کروڑ سے زائد طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ابھیجیت دپکے نے الزام لگایا کہ ان پر حملہ کرنے والے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے تعلق رکھتے تھے، جو انڈیا میں ہندو قوم پرست گروہوں کی مرکزی تنظیم سمجھی جاتی ہے اور جس سے وزیراعظم مودی کی انڈیایہ جنتا پارٹی بھی جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا: ’یہ لوگ آر ایس ایس سے تعلق رکھتے تھے اور اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ جب بھی کوئی حکومت یا ان کے نظریے کے خلاف بولتا ہے تو وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان اشوتوش رانا نے کہا کہ دپکے پر حملہ کرنے والے ’ایک قومی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ان کے چہرے شناخت کر لیے گئے ہیں۔ یہ تمام شرپسند جلد بے نقاب کیے جائیں گے۔‘
پولیس نے بتایا کہ اس واقعے کے سلسلے میں پانچ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ’پورے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تمام حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک، جس کی شناخت راکش گرجر کے طور پر ہوئی ہے، نے انڈین اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ انہوں نے ابھیجیت دپکے کو اس لیے تھپڑ مارا کیونکہ وہ ’لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے۔‘
انہوں نے خود کو جے پور کا ’قوم پرست‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔
کاکروچ پارٹی ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کر رہی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ تعلیمی وزیر دھرمندر پردھان مستعفی ہوں۔ یہ مطالبہ اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ ماہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔ یہ احتجاج جلد ہی انڈیا کے تعلیمی نظام اور محدود روزگار کے مواقع پر نوجوانوں کے غصے کا اظہار بن گیا۔
پارٹی نے اپنا غیر معمولی نام اس وقت اختیار کیا جب انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت نے مئی میں سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ناقدین اور کچھ بے روزگار نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
ابھیجیت دپکے، جو ایک سیاسی کمیونیکیشن سٹریٹجسٹ اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، نے چیف جسٹس کے اس تبصرے کو اپنی طنزیہ سیاسی جماعت کی بنیاد بنایا۔ ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس شروع کرنے کے صرف ایک ہفتے کے اندر پارٹی کے انسٹاگرام پیج پر 2 کروڑ 25 لاکھ سے زائد فالوورز ہو گئے۔
دپکے کے مطابق ’کاکروچ‘ مزاحمت اور بقا کی علامت ہیں اور ان کے بقول عام شہری، خصوصاً وہ طلبہ اور نوجوان جو امتحانی سکینڈلز اور بے روزگاری سے متاثر ہیں، اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں، مگر پھر بھی وہ مشکلات کے باوجود ڈٹے رہتے ہیں اور خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔
© The Independent