دہلی سے ڈھاکہ تک بولتا نوجوان مگر پاکستانی نوجوان کن چیلنجز سے دوچار؟

ہم نے جامعات سے صرف طلبہ یونینز نہیں چھینیں، اختلاف کا سلیقہ اور مکالمے کی روایت بھی نوچ لی۔

20 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر پولیس سے جھڑپوں کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے حامی ایک سڑک کنارے لکھے گئے پیغام کے ساتھ تصویر بنوا رہے ہیں (اے ایف پی)

تاریخ کا ایک عجیب مگر بے رحم قاعدہ ہے۔ وہ جب سبق سکھانے پر آئے تو کتابوں کے صفحات بند کر کے سڑکوں پر آ کھڑی ہوتی ہے۔

ان دنوں دہلی کی سڑکیں بھی تاریخ کا مسودہ اپنے سینے پر سجائے چیخ رہی ہیں۔ ہاتھوں میں کتابیں ہیں، آنکھوں میں سوال اور ہونٹوں پر نعرے۔ یہ صرف دہلی کا منظر نہیں، یہ برصغیر کی اس مشترکہ تہذیب کا آئینہ ہے جہاں جامعات محض اینٹ پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ معاشرے کا دھڑکتا ہوا دل ہوا کرتی تھیں۔

لیکن ان ہی تصویروں کو دیکھتے ہوئے جب میں اپنے ملک کی جامعات پر نظر ڈالتا ہوں، تو ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ وہی وسیع و عریض کیمپس، وہی بلند و بالا عمارتیں، وہی سرسبز لان لیکن اندر؟ اندر ایک ایسی پراسرار خاموشی ہے جو کسی لائبریری کا قدس نہیں بلکہ کسی قبرستان کا باقاعدہ سکوت معلوم ہوتی ہے۔

اور یاد رکھیے، ایسی خاموشیاں کبھی آسمان سے خود بخود نہیں ٹپکتیں۔ انہیں برسوں کی بدنیتی، خوف، محرومی اور بے یقینی کے تیز دھار آلات سے تراشا جاتا ہے۔

ہم نے جامعات سے صرف طلبہ یونینز نہیں چھینیں، اختلاف کا سلیقہ اور مکالمے کی روایت بھی نوچ لی۔ ایک نسل کو سکھایا گیا کہ ’اچھا طالب علم‘ وہی ہے جو سوال نہ اٹھائے اور بس نوکری کی دوڑ میں لگے۔ یوں جامعات روزگار کی قطار کا پہلا کاؤنٹر بن کر رہ گئیں۔

فیض نے کہا تھا؎

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے

کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے

مگر ہمارے ہاں تو قلم سے پہلے سوال ہی ضبط کر لیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج جامعات مالی بحران کا شکار ہیں، اساتذہ تنخواہوں سے محروم، لائبریریاں ویران اور فیسیں غریب کی پہنچ سے باہر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان کے ہاتھ میں موجود ڈگری قابلیت کی بجائے بے بسی کا سرٹیفکیٹ بن چکی ہے اور وہ اپنے خوابوں کا پاسپورٹ لے کر بیرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہے۔

اقبال نے نم مٹی کی بات کی تھی، مگر مٹی کو زرخیز ہونے کے لیے آزادی کا موسم چاہیے ہوتا ہے۔ 1984 میں طلبہ یونینز پر پابندی کا فیصلہ آمرانہ تھا، مگر جمہوری حکومتوں نے بھی اسے برقرار رکھا کیونکہ سب متفق تھے کہ ’خاموش نوجوان، باشعور نوجوان سے زیادہ ہمارے حق میں بہتر ہے۔‘

مگر تاریخ کا تھپڑ ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔

زندہ قومیں اپنے نوجوان سے ڈرتی نہیں، اس پر داؤ لگاتی ہیں۔ اسی لیے آج دہلی کی سڑکیں بول رہی ہیں، ڈھاکہ کی یونیورسٹیاں ریاست کی پالیسی موڑ رہی ہیں۔ وہاں بھی ہنگامہ ہے، غلطیاں بھی ہوں گی مگر ایک چیز زندہ ہے، نوجوان کا یہ ایمان کہ اس کی آواز بے معنی نہیں ہے۔

اور ہم؟

ہم اپنے شیشے کے موبائل فون پر ان کے احتجاج کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، فیس بک پر لائیک دباتے ہیں، ان کی جرات کو داد دیتے ہیں اور پھر آرام سے انسٹاگرام کی اگلی ریل پر سکرول کر جاتے ہیں، جیسے یہ ہمارا مسئلہ تھا ہی نہیں۔

حالانکہ اصل تماشا تو یہ ہی ہے۔

اگر ہم نے 40 سال پہلے اپنے تعلیمی اداروں پر خاموشی کا پہرہ نہ بٹھایا ہوتا، اگر ہم نے سوال کو ’غداری‘ اور اختلاف کو ’جرم‘ نہ بنایا ہوتا، تو آج ہم حسرت سے ڈھاکہ اور دہلی کے طلبہ کو نہ دیکھ رہے ہوتے۔ شاید برصغیر کے کسی اور کیمپس میں کھڑا نوجوان پاکستان کی طرف دیکھ کر کہہ رہا ہوتا: ’دیکھو، وہاں ابھی تک سوال زندہ ہیں۔‘

سچ تو یہ ہے کہ قومیں اس دن تباہ نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہوتے ہیں۔ قومیں اس دن مرتی ہیں جب ان کی جامعات سے سوال اٹھنا بند ہو جائیں اور سڑکیں تاریخ لکھنا چھوڑ دیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل