امریکی فوج نے بدھ کو بتایا ہے کہ اس کے بحری جہاز پر حملوں کی کوشش کے بعد اس نے ایران کے پانچ آئل ٹینکرز تباہ کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے گذشتہ دو دنوں کے دوران ایک امریکی بحری جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جواب میں امریکی فوج نے آٹھ ستمبر کو ایران کے پانچ خام تیل لے جانے والے ٹینکروں کو تباہ کر دیا۔
ساتھ ہی سینٹ کام نے واضح کیا کہ امریکی بحری جہاز نے ایرانی حملوں سے کامیابی سے بچتے ہوئے خطے کے سمندری پانیوں میں اپنا گشت جاری رکھا جبکہ اس کارروائی میں امریکی حکام کے مطابق کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
M/T Riesco sinks in the Gulf of Oman, Sept. 8, after being destroyed by CENTCOM forces in response to attempted IRGC attacks on a U.S. Navy warship. pic.twitter.com/EkmG8uyMT9
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 9, 2026
امریکی افواج نے دعویٰ کیا کہ ’حملہ کرنے سے پہلے جہازوں کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد ان بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر انہیں ناقابلِ استعمال کر دیا گیا۔‘
سینٹ کام کے مطابق ’ایران ان ٹینکروں کو اربوں ڈالر کے ایک خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، جس کے ذریعے پاسداران انقلاب اور اس کے علاقائی اتحادی گروہوں کو مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔‘
ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے باعث دونوں دشمن ممالک کے درمیان جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور دونوں ممالک ایک تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے، جو دنیا کے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
ایران نے بدھ کو کہا کہ وہ اپنے تیل بردار جہازوں پر امریکی حملوں کے جواب میں امریکہ کے اتحادی ممالک کویت اور بحرین کے قریب موجود آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
اس اعلان کے چند منٹ بعد ایران کے پاسدارانِ انقلاب، جو ایرانی فوج کا سب سے طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے، نے کہا کہ انہوں نے اردن میں امریکی فضائی اڈے ’الازرق‘ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس حملے میں طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کی تنصیبات ، فوجی تعیناتی کے مقامات، لڑاکا طیاروں کے لیے بنائے گئے شیلٹرز کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کی جانب سے اردن کو نشانہ بنانے والے 18 میزائل مار گرائے۔
یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نے کویت اور بحرین کے قریب موجود آئل ٹینکروں کے عملے کو اپنے جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔