برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف ’نسلی صفایا‘ کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کو پارلیمان میں بتایا کہ برطانیہ ان بستیوں سے آنے والی تمام اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ بستیوں کی توسیع کے لیے مالی معاونت، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، جائیداد اور اشتہارات سمیت بعض خدمات پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد کریں گے۔
ملی بینڈ نے کہا کہ ’برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے علاقوں میں آبادکار دہشت گردوں کی جانب سے فلسطینیوں کا نسلی صفایا کیا جا رہا ہے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر آنکھیں بند کیے رکھی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے بعض ارکان نے ایسے بیانات دیے اور اقدامات کیے ہیں جو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ ایسے مزید ’انتہا پسند آبادکاروں‘ پر پابندیاں عائد کر رہا ہے جنہوں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا اسے ہوا دی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بستیوں سے متعلق نئی پابندیاں آئندہ چھ سے نو ماہ کے دوران نافذ العمل ہوں گی۔
اے ایف پی کے مطابق یہ برطانیہ کی اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کے حوالے سے پالیسی میں نمایاں سختی ہے۔ وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی حکومت کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر میں تیزی آئی ہے۔
مغربی کنارہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا اور عالمی برادری کی اکثریت وہاں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔
ملی بینڈ، جن کے والدین یہودی پناہ گزینوں کے طور پر برطانیہ آئے تھے، نے کہا کہ انہیں اپنے یہودی ورثے پر ’فخر‘ ہے اور وہ اسرائیل کی حمایت میں ’غیر متزلزل‘ ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا ’اس میں اور ریاست فلسطین کی حمایت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
برطانوی حکومت اس سے قبل غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق 30 سے زائد برآمدی اجازت نامے معطل کر چکی ہے۔
ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اب ایسے ہتھیاروں اور دیگر برآمدات کے لیے تمام اجازت نامے کی درخواستیں مسترد کرے گا جو ’قبضے میں واضح طور پر معاون‘ ثابت ہوں۔
دی انڈپینڈنٹ کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے میں شدت پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے تشدد، زمینوں پر قبضے اور پانی کے وسائل پر کنٹرول کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ کا یہ فیصلہ مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق متنازع منصوبوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے، جن کے تحت اسرائیل نے ای ون (E1) سیٹلمنٹ منصوبے کے حصے کے طور پر 1200 گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے تھے۔
اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں وعدہ کیا تھا کہ اگر برطانیہ نے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر پابندیاں عائد کیں تو وہ جواب دے گا۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے کہا: ’اگر برطانیہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے گا تو اسرائیل بھی برطانیہ کے خلاف کارروائی کرے گا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔‘