پاکستان کرکٹ ایک دہائی قبل انگلینڈ میں جس رسوائی اور بدنامی کا سامنا کر چکی ہے، اس کے سائے اب بھی ہمیں ڈراتے ہیں۔
انگلینڈ دورے کے دوران پاکستانی پلیئرز کی خبروں نے انڈین میڈیا کو چٹ پٹا مواد دیا ہے۔
انڈین میڈیا نے سکینڈلز پر مبنی خبروں کو ماضی میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور آج بھی اسی طرح سرخیوں میں پیش کر رہا ہے۔
ایک انڈین اخبار نے تو پاکستان کرکٹ پر شدید الزامات لگائے اور 2010 کے دورے میں ہونے والے واقعے کو نمک مرچ لگا کر دہرایا۔
پاکستان ٹیم صرف شکستوں کا سامنا نہیں کر رہی بلکہ اہم کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی انتہائی خراب ہے۔
ٹیم کی جو حالت اس وقت ہے، کبھی ایسی نہیں تھی جیسا کہ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے انگلینڈ کا دورہ کرنے والی موجودہ ٹیم کو 50 سال کی بدترین ٹیم قرار دیا۔
بین الاقوامی میڈیا نے چند کھلاڑیوں کی چوٹ اور بیماری کو ہدف بناتے ہوئے تجزیہ کیا سب کچھ کسی مقصد کے لیے ہو رہا ہے اور کھلاڑی مینیجمنٹ کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس سے قبل میڈیا مبینہ طور پر ویسٹ انڈیز کے دورے میں چند کھلاڑیوں کے نائٹ کلب اور بارز میں رات گئے تک جانے کی خبریں بھی نشر کر چکا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چند کھلاڑی ویسٹ انڈیز دورے کے دوران غیر متعلقہ افراد سے رابطے میں رہے۔ دوسری طرف ایک اہم کھلاڑی کی یورپی ملک میں سرگرمیاں بھی زبان زدعام ہیں۔
کھلاڑیوں کے موبائل فون ضبط
ٹی وی چینلز کے دعوؤں کے مطابق اس دورے کے دوران کچھ کھلاڑیوں کے فون ضبط کیے گئے اور کچھ کا ڈیٹا دیکھا جا رہا ہے۔
ان افواہوں نے پاکستان ٹیم کو شدید شرمندگی سے دوچار کیا ہے۔ اگرچہ پی سی بی نے ایسی کوئی خبر جاری نہیں کی، لیکن بورڈ میں سخت ہلچل ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی سی بی کے کچھ ملازم بھی ملوث ہیں جو کھلاڑیوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
پی سی بی کی انکوائری کمیٹی
پی سی بی ڈائریکٹر میڈیا عامر میر نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں بتایا کہ میڈیا پر چلنے والی خبروں اور افواہوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو پی سی بی کے قواعد کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
تاہم اس کمیٹی کے ارکان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، لیکن کمیٹی کا قیام ہی اس بات کی دلیل ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں۔
پی سی بی نے اگرچہ ڈسپلن پر کسی سمجھوتے کی تردید کی ہے، لیکن ذرائع کے مطابق موجودہ مینیجر کی گرفت انتہائی کمزور ہے اور ٹیم کے سینیئر کھلاڑی ان کی نہیں سنتے۔
ہیڈ کوچ سرفراز فارغ
انگلینڈ کے دورے کے دوران ہیڈ کوچ سرفراز اور بولنگ کوچ عمر گل کو جس طرح فارغ کیا گیا، اس پر دنیا ابھی تک ششدر ہے۔
کراچی کے ایک صحافی، جنہیں سرفراز سے بہت قریب سمجھا جاتا ہے، کا دعویٰ ہے کہ سرفراز کو عاقب جاوید کی بات نہ ماننے پر نکالا گیا کیونکہ عاقب محمد رضوان کو ڈراپ کرنا چاہتے تھے جبکہ بابر اعظم انہیں کھلانا چاہتے تھے، جس کی سزا سرفراز کو جھیلنی پڑی اور وہ کوچنگ سے فارغ ہو گئے۔
تاہم ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز اور عاقب میں شدید بحث ہوئی اور عاقب نے سختی سے رضوان کو ڈراپ کرنے کے لیے کہا، جس کے لیے کپتان تیار تھے نہ کوچ۔
معاملے کی نزاکت کے باعث سرفراز خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔ اس سارے قضیے میں عمر گل بھی فارغ ہو گئے حالانکہ پاکستانی فاسٹ بولرز نے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عمر گل نے فاسٹ بولرز کے ساتھ بہت محنت کی لیکن اب ان کی جگہ تیسرے درجے کے آسٹریلوی سابق بولر اور کوچ ایشلے نوفکے لے چکے ہیں، جنہیں بری کارکردگی کی وجہ سے نیوزی لینڈ کا ایک کلب کچھ عرصہ قبل فارغ کر چکا ہے۔
ویمنز کرکٹ بھی تباہ
مردوں کی کرکٹ تو خیر تباہ ہی تھی لیکن اب خواتین کی کرکٹ بھی تباہ ہو چکی ہے۔
ٹیم جس شرم ناک طریقے سے ایشیا کپ میں انڈیا سے ہاری، اس نے پاکستانی مداحوں کو صدمے سے دوچار کر دیا۔
خواتین ٹیم کی خستہ حالت کے ذمہ دار وہاب ریاض ہیں، جن کے بلند و بانگ دعوے ریت کا پہاڑ ہی ثابت ہوئے، لیکن وہ بھی عاقب کی طرح اپنے عہدے سے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
ایجبسٹن ٹیسٹ پر سب کی نظریں
اب بدھ سے شروع ہونے والے ایجبسٹن ٹیسٹ کا سب کو انتظار ہے کیونکہ پاکستان سات کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے کے بعد کم از کم دو کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیپ دے گا۔
وکٹ کیپر غازی غوری کیریئر کا آغاز کر سکتے ہیں اور عرفات منہاس اور ساجد خان میں سے بھی ایک کو ٹیسٹ کیپ مل سکتی ہے۔
اگر کوچ مائیک ہیسن بابر کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو عرفات منہاس کو ٹیسٹ کیپ مل سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔