خواندگی کا عالمی دن، سکول جانے والے بچوں کی شرح میں 7 فیصد اضافہ: بلوچستان حکومت

سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں تمام تر مسائل کے باوجود محکمہ تعلیم ہر لحاظ سے فعال ہے، سکول فعال ہیں اور بچے سکول جا رہے ہیں۔

منگل کو خواندگی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس موقع پر حکومتِ بلوچستان نے 2030 تک ’ہر بچہ سکول میں‘ کے ہدف کے حصول کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران صوبے میں سکول جانے والے بچوں کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ صوبے میں خواندگی کی شرح بھی 42 سے بڑھ کر 49 فیصد ہوگئی ہے۔

سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے بلوچستان میں تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں بچے سکول سے باہر ہیں جبکہ بڑی تعداد میں سکول غیر فعال تھے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے مزید بچے بھی سکول سے باہر ہو رہے تھے۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خواندگی کی شرح 42 سے بڑھ کر 49 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

لعل جان جعفر کے مطابق محکمہ تعلیم کو ابھی بہت سا کام کرنا ہے، جس میں سکولوں کی ڈیجیٹلائزیشن، اپ گریڈیشن، غیر فعال سکولوں کو فعال کرنا اور سٹاف کی کمی پوری کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب چونکہ سمت مثبت جانب ہوگئی ہے، اس لیے آگے بھی بہت سا کام کرنا ہے۔ حکومت ایک نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرانے اور ہر ضلع کے لیے ایک نیا پلان مرتب کرنے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں خواندگی کی شرح مختلف ہے، کوئی ضلع تعلیم کے شعبے میں آگے ہے تو کوئی پیچھے ہے۔

ان کے مطابق بعض علاقوں میں بچیوں اور بعض علاقوں میں بچوں پر توجہ کم یا زیادہ دیے جانے کی شکایات بھی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر ضلع سے صوبے کی سطح تک مکمل منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال کے لیے ایک پُرامید پلان موجود ہے اور کوشش ہے کہ اگلے پانچ سال میں ہر بچہ سکول میں ہو۔

سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں تمام تر مسائل کے باوجود محکمہ تعلیم ہر لحاظ سے فعال ہے، سکول فعال ہیں اور بچے سکول جا رہے ہیں۔ جو سکول غیر فعال تھے، وہ اب بتدریج فعال ہو رہے ہیں۔

والدین اور اساتذہ کا کردار

سماجی کارکن اور کونسلر ہدایت اللہ درانی نے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر بچہ سکول میں‘ کے ہدف کے لیے سب سے پہلے والدین ذمہ دار ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرائیں اور ان کی نگرانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ سکول میں داخل ہونے والے بچوں کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری اساتذہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں پر غیر ضروری سختی نہ کریں تاکہ وہ سکول چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔

ان کے مطابق بچوں کو سکولوں میں لانے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ اور حکومت کو مل کر یہ فریضہ انجام دینا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کڑی بھی ٹوٹ جائے تو یہ کام آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

ہدایت اللہ درانی کے مطابق حکومت کو دیہی علاقوں میں سکولوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیہات میں اساتذہ کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی جانی چاہییں۔

طلبہ کی رائے

طالب علم عبدالرحمن نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’2030 تک ہر بچہ سکول میں‘ کی پالیسی بہت زبردست ہے اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

طالب علم اسفندیار نے کہا کہ یہ اچھا پلان ہے۔ اس عمل سے تمام بچے تعلیم یافتہ ہو جائیں گے۔ بچے تعلیم یافتہ ہوں گے تو صوبے اور ملک کا مستقبل روشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے کو سپورٹ کرے۔

بلوچستان حکومت کے تعلیمی اقدامات

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ خواندگی صرف پڑھنے لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ بچوں کے روشن مستقبل، معاشرتی ترقی اور مضبوط و خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ حکومت بلوچستان نے تعلیم کو اولین ترجیح بناتے ہوئے تعلیمی نظام کی بہتری اور سکولوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں بلوچستان کے 3,800 سے زائد غیر فعال سکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا جبکہ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا۔

بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2,000 سے زائد نئے سکول قائم کیے گئے ہیں جبکہ مزید 1,800 سکولوں کے قیام اور 3,000 موجودہ سکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی دور کرنے کے لیے 15 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت کی گئی ہیں۔ اساتذہ کی دستیابی سے تعلیمی اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔

وظائف اور اعلیٰ تعلیم

بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت گذشتہ دو برسوں میں مختلف سکالرشپ سکیموں کے ذریعے 23,520 وظائف دیے گئے۔

نویں سے دسویں جماعت تک 1,500 اور شہید بینظیر سکالرشپ برائے میٹرک ضلعی پوزیشن ہولڈرز کے تحت 969 وظائف دیے گئے۔

انٹرمیڈیٹ پارٹ اوّل کے لیے 1,650، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے لیے 2,431 اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے لیے 552 وظائف دیے گئے۔

بلوچستان سے باہر بی ایس کے لیے 4,682 جزوی وظائف اور کیڈٹ ایکسیلنس سکالرشپ پروگرام کے تحت 150 وظائف دیے گئے۔

ٹرانس جینڈر طلبہ کے لیے شہید بینظیر بھٹو سکالرشپ پروگرام کے تحت 60 وظائف فراہم کیے گئے جبکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں بی ایس کے لیے 9,451 جزوی وظائف دیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سول شہدا کے بچوں کے لیے شہید بینظیر بھٹو سکالرشپ کے تحت 590 مکمل وظائف فراہم کیے گئے۔ اسی طرح پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت 898 جبکہ صادق پبلک سکول کے لیے 300 وظائف دیے گئے۔

بیکن نیشنل یونیورسٹی سکالرشپ کے تحت 30 جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لیے 6 وظائف دیے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس