آپ کا بچہ اگر کسی بھی وجہ سے سکول نہیں جا سکتا یا آپ کے گھر سے سکول دور ہے یا کسی مجبوری کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر ہے تو خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس کا حل نکال لیا گیا ہے۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے پشاور میں صوبے کے پہلے سرکاری ورچوئل سکول کا آغاز کر دیا ہے، جہاں چھٹی سے لے کر بارہویں جماعت تک کی تمام کلاسز آن لائن لی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ورچوئل سکول کے لیے مختص عمارت میں داخل ہو کر یہی گمان ہوتا ہے کہ یہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے، لیکن اندر جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مضامین کے لیے الگ الگ ساؤنڈ پروف لیکچر رومز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ماہر اساتذہ جدید ملٹی میڈیا کے ذریعے لیکچرز دیتے ہیں۔
عبدالرحمان ورچوئل سکول میں بطور اے آئی ماہر کام کرتے ہیں اور ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد آؤٹ آف سکول طلبہ کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ورچوئل سکول روایتی سکول کی طرح شیڈولڈ کلاسز لیتا ہے لیکن اس میں فرق یہی ہے کہ طلبہ کو سکول آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عبدالرحمان نے بتایا: ’طلبہ ملک یا ملک سے باہر کہیں پر بھی بیٹھ کر لیکچر سن سکتے ہیں اور ساتھ میں آن لائن پریکٹیکل بھی حل کر سکتے ہیں۔‘
اس سکول میں ابتدائی طور پر چھٹی سے بارہویں جماعت تک کلاسز ہوں گی، جس کے لیے ورچوئل سکول کی عمارت میں تمام مضامین کے لیکچر رومز قائم کیے گئے ہیں۔
لیکچر رومز کے ساتھ ساتھ نویں سے بارہویں جماعت تک کے سائنس کے مضامین میں متعلقہ پریکٹیکلز کے لیے ورچوئل لیبارٹریز بھی قائم کی گئی ہیں۔
عبدالرحمان نے بتایا: ’ورچوئل لیب میں طلبہ کے لیے پریکٹیکل آن لائن اپ لوڈ کیے گئے ہیں اور وہ آن لائن ہی ڈریگ اینڈ ڈراپ کے ذریعے ان پریکٹیکلز کو حل کر سکتے ہیں۔‘
گریڈ پروموشن کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
روایتی سکول میں طالب علم ایک سال ایک گریڈ میں گزار کر امتحان دیتا ہے اور اگلی کلاس میں پروموٹ ہوتا ہے اور یہی طریقہ کار ورچوئل سکول میں بھی ہوگا۔
عبدالرحمان نے بتایا کہ طلبہ لیکچرز اٹینڈ کریں گے اور ایک سال ایک گریڈ میں گزار کر آن لائن اسسمنٹ کے ذریعے اگلی کلاس میں پروموٹ ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اسسمنٹ کے لیے ہر لیکچر کے بعد معروضی سوالات کا سیکشن ہوگا اور لیکچرز کے بعد طلبہ اسے حل کریں گے اور اسی کی بنیاد پر طلبہ کو ان کی کمزوریاں اور جہاں وہ بہتر پرفارم کرتے ہیں، وہ بتایا جائے گا۔
اسی طرح عبدالرحمان کے مطابق یہ سکول تمام تعلیمی بورڈز کے ساتھ منسلک ہوگا جبکہ ٹیکنیکل بورڈز اور دیگر تعلیمی بورڈز کے ساتھ بھی اس کی رجسٹریشن ہوگی۔
اے آئی ٹیوٹر
ورچوئل سکول میں ایک تو طلبہ کے لیے اساتذہ لیکچرز دیں گے جبکہ دوسری جانب اس سکول میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ٹیوٹر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
عبدالرحمان نے بتایا کہ اے آئی ٹیوٹر کا فائدہ یہ ہوگا کہ طلبہ کوئی بھی سوال اے آئی ٹیوٹر سے کر سکیں گے اور انہیں اے آئی کے ذریعے ان کا جواب دیا جائے گا۔
ورچول سکول کی افادیت اپنی جگہ لیکن مبصریں کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کا مسئلہ موجود ہے اور وہاں کے طلبہ کے لیے اس سکول سے فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔
اس حوالے سے عبدالرحمان نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے ہم کوشش کریں گے کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کریں لیکن ورچول سکول کا تمام مواد آن لائن نہیں ہو گا بلکہ اسے آف لائن بھی مہیا کیا جائے گا۔