افغان میڈیکل طلبہ کی بے دخلی کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع

لاہور ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک 100 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کو میڈیکل کالجوں سے نکالنے سے روکنے کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کر دی۔

پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور علامہ اقبال میڈیکل یونیورسٹی نے افغان طلبہ کو سات ستمبر کو جاری ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بتایا کہ وہ آٹھ ستمبر تک کالج میں ضروری دستاویزار جمع کر کے کلیئرنس کروائیں (کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/فیس بک)

لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کو ملک کے میڈیکل بورڈ کے اس حکم نامے عمل درآمد روک دیا ہے جس میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے درجنوں افغان طلبہ کو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکال کر افغانستان واپس بھیجنے کا کہا گیا تھا۔

اے ایف پی کی جانب سے دیکھے گئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’لاہور ہائی کورٹ نے اگلی سماعت تک 100 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کو میڈیکل کالجوں سے نکالنے سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کر دی ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد اسحٰق نے مقدمے کی اگلی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی۔

صوبہ بلوچستان کی ایک عدالت کی جانب سے ایسی ہی ایک درخواست پہلے ہی مسترد کی جا چکی ہے، جب کہ سندھ میں ایک اور درخواست پر سماعت جاری ہے۔

اس ماہ کے شروع میں، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تعلیمی اداروں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ’موجودہ تعلیمی سیشن کے لیے افغان شہریوں کو کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

اس حکم نامے سے افغان طلبہ میں مایوسی پھیل گئی، جن میں سے ایک نے بتایا کہ ’یہ میرے ڈاکٹر بننے کی امیدوں کی موت جیسا تھا۔‘

کالج کے ڈینز کو لکھے گئے پی ایم ڈی سی کے خط میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں میڈیکل یا ڈینٹل پروگراموں میں پہلے سے داخلہ لینے والے افغانوں کو افغانستان واپس جانے کی ضرورت ہے۔‘

اس خط میں، جس کی ایک کاپی اے ایف پی نے دیکھی ہے، یہ نہیں بتایا گیا کہ میڈیکل کونسل کس کی ہدایت پر کام کر رہی تھی، تاہم اس میں کہا گیا کہ ’یہ معاملہ انتہائی ترجیح کا حامل ہے اور اس کا تعلق قومی پالیسی کی ہدایات سے ہے۔‘

2021 میں کابل میں طالبان حکومت کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے پڑوسی ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات انتہائی خراب ہو چکے ہیں، اور اس سال کے شروع میں یہ کشیدگی بڑھ کر ہفتوں طویل جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اسلام آباد کی جانب سے بے دخلی کی مہم کے حصے کے طور پر گذشتہ تین سال کے دوران 25 لاکھ سے زائد افغانوں کو نکالا جا چکا ہے یا وہ خود رضاکارانہ طور پر چلے گئے جن میں سے بہت سے لوگوں نے پاکستان میں پناہ گزینوں کے طور پر دہائیاں گزاری ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کا سامنا کرنے والی خواتین کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے حکام پر پی ایم ڈی سی کا حکم واپس لینے پر زور دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس اقدام کو ’امتیازی اور من مانا‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لاہور میں درخواست گزاروں میں 23 سالہ طالبہ بھی شامل ہیں جو اپنی دوسرے سال کی تعلیم مکمل کرنے سے محض چند دن کی دوری پر تھیں۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں 'واپس جانا ہو گا اور سب کچھ چھوڑنا ہو گا۔‘

پاکستان کی ایک عدالت نے 11 ستمبر کو صوبائی سطح پر بے دخلی کے حکم نامے کو معطل کر دیا تھا، تاہم طالبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے آن لائن پلیٹ فارم سے اس کا ریکارڈ پہلے ہی ہٹایا جا چکا ہے۔

’کبھی ہار نہ مانیں‘

انڈر گریجویٹ طالبہ، جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کو طالبان حکام کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد افغانستان میں اپنی میڈیکل کی تعلیم ختم کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 30 ہزار درخواست گزاروں میں سے پاکستان میں سکالرشپ حاصل کرنے والی تقریباً 20 افغان خواتین میں سے ایک تھیں۔

انہوں نے کابل میں ایک صحافی کوفون پر بتایا: ’میں کبھی ہار نہیں مانوں گی۔ میں نے اس سفر سے یہ سیکھا ہے کہ مایوسی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘

لاہور میں طلبہ کی نمائندگی کرنے والے متعدد وکلا میں سے ایک اسد جمال نے پی ایم ڈی سی کے احکامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیکل کے طلبہ کو ’شنوائی کا کوئی بھی موقع‘ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پی ایم ڈی سی نے اے ایف پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمال نے کہا کہ اگر طلبہ لاہور میں اپنی درخواست ہار بھی جاتے ہیں، تو بھی یہ مقدمہ پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت میں لے جایا جا سکتا ہے۔

لاہور میں فائنل ایئر کے طالب علم مبین الفتی ہسپتال کی ڈیوٹی سے ابھی واپس ہی آئے تھے جب انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔

24 سالہ نوجوان نے بتایا کہ ’ہم میڈیکل کے طالب علم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ چونکا دینے والی خبروں کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کا آسانی سے سامنا کیا جا سکے۔

’ہم واضح طور پر سیاسی صورت حال کا شکار ہیں۔‘

پی ایم ڈی سی کے حکم سے قبل بھی کچھ افغان طبی طلبہ کو ملک بدر کیا گیا اور چوتھے سال کا ایک طالب علم نے ایک سال سے زائد عرصے تک اپنے ویزے کی تجدید کرانے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔

امراض چشم میں مہارت حاصل کرنے والے اور نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے اس میڈیکل سٹوڈنٹ نے کہا کہ ’ہم صرف طالب علم ہیں۔ ہم سیاسی لوگ نہیں ہیں۔‘

33 سالہ طالب علم کو آپریشن تھیٹر سے باہر نکالا گیا اور دو دن کے اندر ملک بدر کر دیا گیا۔

اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ ’براہ کرم، ہمیں اپنی تعلیم مکمل کرنے دیں۔ ہم تعلیم مکمل کریں گے، اور ہم اپنے ملک واپس چلے جائیں گے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس