پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے عمل کا آغاز

پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر پاکستان کے بعض میڈیکل کالجز نے افغان طلبہ کو آٹھ ستمبر تک ضروری دستاویزات جمع کرا کے کلیئرنس لینے اور افغانستان واپس جانے کی ہدایت کر دی۔

پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اور علامہ اقبال میڈیکل یونیورسٹی نے افغان طلبہ کو سات ستمبر کو جاری ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بتایا کہ وہ آٹھ ستمبر(آج) تک کالج میں ضروری دستاویزار جمع کر کے کلیئرنس کروائیں (کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج/فیس بک)

پاکستان میں بعض میڈیکل اور ڈینٹل کالجز نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے ایک مراسلے پر عمل کرتے ہوئے زیر تعلیم افغان طلبہ کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی نے یکم ستمبر کو جاری مراسلے میں 31 جولائی کو جاری کی گئی ہدایات کو دوبارہ واضح کیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مراسلے میں لکھا گیا ہے ’پالیسی کے مطابق تمام ادارے اس ضمن میں انتظامی طریقہ کار اور اجازت نامہ دیں اور طلبہ کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی جائے۔ ‘

پی ایم ڈی سی نے اپنے خط میں یہ نہیں بتایا کہ اس وقت پاکستانی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں کتنے افغان طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے قریب پہنچنے والے طلبہ کو اس فیصلے سے استثنیٰ دیا جائے گا یا نہیں۔

پنجاب میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور علامہ اقبال میڈیکل کالج نے افغان طلبہ کو سات ستمبر کو جاری ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے بتایا کہ وہ آٹھ ستمبر(آج) تک کالج میں ضروری دستاویزار جمع کر کے کلیئرنس کروائیں اور وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد نے کابل کے ساتھ سفارتی تعلقات میں شدید بگاڑ، عسکریت پسندوں کی دراندازی اور حملوں کے بعد افغان شہریوں کی ملک بدری تیزی کر دی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق ستمبر 2023 سے 31 جولائی، 2026 کے درمیان 26 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ ملک بدریاں قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا جبری واپسی، بالخصوص کمزور اور خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو واپس بھیجے جانے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

پی ایم ڈی سی کا یہ حکم پاکستان میں مقیم افغان شہریوں پر عائد پابندیوں میں ایک اہم توسیع کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ اس کا اطلاق ان افغان طلبہ پر بھی ہوتا ہے جو پہلے ہی پیشہ ورانہ ڈگری پروگراموں میں داخل ہیں، یعنی یہ پابندی صرف غیر دستاویزی تارکین وطن، پناہ گزینوں یا درست ویزا نہ رکھنے والے افراد تک محدود نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان سمجھتے ہیں کہ پی ایم ڈی سی کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر موجودہ افغان طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل ہونے کی اجازت دینی چاہیے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریاستوں کے درمیان سیاسی مسائل ہوتے رہتے ہیں لیکن طلبہ کو متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کا سوال ہے۔

منصور احمد خان  کے مطابق ’ایک وقت میں 40 سے 50 ہزار افغان طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے کیونکہ پاکستانی تعلیمی معیار افغانستان سے بہتر ہے اور افغان طلبہ پاکستان کو دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ‘

اس سارے معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو نے پی ایم ڈی سی کے حکام سے موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب میں دیا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے نگران ادارے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ایڈمیشن، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمیشن، رجسٹرار اور ڈائریکٹر اکیڈمکس سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کسی نے موقف نہیں دیا۔

خیال رہے جولائی میں پی ایم ڈی سی اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں زیر تعلیم طب کے طلبہ پاکستان میں پریکٹس کے اہل نہیں ہوں گے۔

پی ایم ڈی سی نے 31 جولائی کو جاری ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ کونسل کے 2025 کے فیصلے کے مطابق پاکستانی شہری صرف اسی صورت میں پاکستان میں پریکٹس کے اہل ہوں گے جب انہوں نے ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای سی ایف ایم جی) سے تسلیم شدہ میڈیکل کالج سے ڈگری حاصل کی ہو۔

اعلامیے کے مطابق ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ ہی پی ایم ڈی سی کے زیرِ اہتمام نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) میں شرکت کر سکتے ہیں اور کامیابی کے بعد پاکستان میں بطور ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ پریکٹس کے اہل ہوتے ہیں۔

تاہم پی ایم ڈی سی کے مطابق افغانستان کا کوئی بھی میڈیکل ادارہ ای سی ایف ایم جی سے تسلیم شدہ نہیں، اس لیے وہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ این آر ای امتحان میں شرکت نہیں کر سکتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس